کمرے میں بیڈ پر پھولوں کی سیج لگی ہوئی تھی اور وہ سیج کے درمیان بیٹھی لال جوڑے میں اپنے دولے کے انتظار میں ڈری ہوئی تھی جو اچھے سے جانتی تھی کہ ابھی تھوڑی دیر میں اس کا کنوارہ پن ختم ہونے والا ہے اور وہ لڑکی سے اور عورت بننے والی ہے اور وہ چدنے والی ہے یہی سوچ کر اس کی چوت میں نمی آرہی تھی کیونکہ اس حسین رات سے پہلے اس کی سہیلیوں نے اس کو اس رات کے بارے میں آگاہ کر دیا تھا۔ وہ گھونگٹ ڈالے، منہ لٹکائے اور اپنے ہاتھوں کی انگلیوں کو ایک دوسرے میں پھنسائے اپنی سوچوں میں گم تھی کہ اچانک کمرے کا دروازہ کھلتا ہے اور اس کا دولہا اندر آتا ہے اندر آنے کے بعد دولہا: السلام علیکم وہ کوئی جواب نہیں دیتی وہ بنا اپنے منہ سے آواز نکالے صرف اپنے ہونٹوں کو حرکت دے کر سلام کا جواب دیتی ہے اس کا دولہا اس کے پاس آ کر بیٹھ جاتا ہے دولہا: کیسی ہیں آپ؟ وہ بنا جواب دیئے اپنا سر ہاں میں ہلا دیتی ہے، اس کا دولہا اپنے ہاتھ بڑھا کر اس کا گھونگٹ ہٹاتا ہے اور وہ شرما کر اپنے دونوں ہاتھ اپنے چہرے پر رکھ لیتی ہے پھر اس کا دولہا جیب سے ایک سونے کی چین نکالتا ہے اور دونوں ہاتھوں میں رکھ کر اس کو پیش کرتا ہے اور کہتا ہے یہ ہے اپ کی منہ دکھائی اور اتنا کہنے کے بعد وہ خود اس کو چین پہنا دیتا ہے اور اس کا دولہا اس کا ہاتھ پکڑتے ہوئے کہتا ہے دولہا: چین آپ پر بہت پیاری لگ رہی ہے لیکن چین سے زیادہ آپ پیاری لگ رہی ہیں اور دولہا محسوس کرتا ہے کہ اس کی نئی نویلی دلہن کے ہاتھ بہت زیادہ تپ رہے ہیں دولہا اس کے ہاتھوں کی گرمی کو بھانپتے ہوئے بنا دیر کیئے اس کو چودنے کے بارے میں سوچتا ہے اور خود اس کے برابر میں لیٹ جاتا ہے اور اس کو بھی لیٹنے کے لیے بولتا ہے اور وہ حیران ہوتی ہوئی اس کے ساتھ ڈرتے ڈرتے لیٹ جاتی ہے اور دولہا اس کو اپنے گلے لگا لیتا ہے اور اس کے ماتھے پر بوسہ دیتا ہے دولہے کا لنڈ فل تن چکا ہوتا ہے کیونکہ چدائی کے بارے میں سوچ کر دونوں کے اندر کی آگ بھڑکی ہوئی ہوتی ہے لیکن وہ پہلی ملاقات میں تھوڑا احتیاط سے کام لینا چاہتے ہیں لیکن دونوں ماڈرن ہونے کی وجہ سے کھل کر کھیلنے کا فیصلہ کرتے ہیں دولہا اس کے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ جماتے ہوئے اپنے دونوں ہاتھ اس کے سر کے پیچھے رکھتے ہوئے اس کو اپنے قریب کرتے ہوئے اس کے ہونٹ چوسنا شروع کرتا ہے اور وہ ڈرتے ڈرتے اپنے آپ کو پیچھے چھڑوانے کی ایک ناکام سی کوشش کرنے لگتی ہے لیکن دولہے کی گرفت مضبوط ہوتی ہے جس کی وجہ سے وہ کامیاب نہیں ہو پاتی اور دولہا مسلسل اس کے ہونٹ چوستے رہتا ہے اور اس کے نچلے ہونٹ کو اپنے دونوں ہونٹوں کے درمیان پھنسا کر کھینچتا ہے پھر کچھ دیر بعد اس کو بھی اس طرح سے اپنے ہونٹ چسوانا اچھا لگتا ہے اور وہ اپنے دولہے کے منہ میں اپنی زبان ڈالتی ہے جس کو دولہا چوسنا شروع کر دیتا ہے پھر اس کی اس حرکت کو دولہا بھی دہراتا ہے اور وہ اپنی زبان اس کے منہ میں ڈالتا ہے اور وہ چوسنا شروع کر دیتی ہے جب دولہا موقع کو بھانپتا ہے کہ اس نے بھی ساتھ دینا شروع کر دیا ہے تو دولہے کے ہاتھ خود بخود اس کے سر سے ہٹ کر کپڑوں کے اوپر سے اس کی کمر اور گانڈ پر چلے جاتے ہیں اور ایک ہاتھ اس کے سینے پر اس کے دودھ پر آ جاتے ہیں جو دودھ کو دبانے کا کام کرتے ہیں دولہے کا لنڈ بھی اس کی شروانی کے اندر کھڑا ہو کر دلہن کی چوت میں گھسنے کی کوشش کرتا ہے جس کو وہ بھی محسوس کر لیتی ہے اور بنا کچھ سمجھے اپنے ایک ہاتھ سے اپنے دولے کا لنڈ پکڑ کر دبانے لگتی ہے جس سے دولہا مچل جاتا ہے اور وہ مزید شدت سے ہونٹ چوسنا شروع کر دیتا ہے جس سے وہ بھی مزید گرم ہو جاتی ہے شہد کی طرح میٹھے ہونٹوں کا رس پینے کے بعد دولہا اپنی شیروانی اتارتا ہے اور اپنا پجامہ نیچے کھینچتا ہے جس سے اس کا لنڈ ایک دم سے پھڑکتا ہوا چھلانگ مار کر دلہن کے چہرے کے سامنے لہرانے لگتا ہے وہ بھی پہلی مرتبہ اپنی زندگی میں اپنی آنکھوں کے سامنے اصلی لنڈ دیکھ کر اپنے ہاتھ اپنے چہرے پر رکھ لیتی ہے دولہا کنٹرول نہ کرتے ہوئے فورا سے پورا ننگا ہو جاتا ہے جبکہ دلہن اپنے پورے کپڑوں اپنے پورے زیور اور اپنے پورے میک اپ میں پھیلی ہوئی لپسٹک کے ساتھ بیٹھ کر شرما رہی ہوتی ہے اور دولہا نیچے بیٹھ کر اپنی دلہن کو گلے لگاتا ہے اور اس کی گردن پہ بوسہ لیتے ہوئے اس کی لال قمیض اتارنے لگتا ہے دلہن بھی اپنے ہاتھ اوپر اٹھا دیتی ہے اور اپنے دولہے کو اپنا کنوارہ پن سونپنے میں آسانی دیتی ہے جیسے ہی اس کی قمیض اترتی ہے اس کے لال برا میں قید اس کے سفید دودھ دولہے کو پاگل کر دینے کے لیے کافی ہوتے ہیں اور دولہا اپنا کنٹرول کھوتے ہوئے فورا سے اس کا برا کھینچ کر اتار دیتا ہے جس سے اس کے دودھ ایک دم جھٹکے سے ہوا میں لہرانے لگتے ہیں اور برا اترنے کے چند سیکنڈ تک ہلتے رہتے ہیں جس کے نپلز اکڑے ہوئے ہوتے ہیں سفید دودھ پر گلابی نپل دیکھ کر دلہے سے رہا نہیں جاتا اور وہ دلہن کی بنا توقع کے اچانک حملہ کر دیتا ہے اور پاگلوں کی طرح اس کے سخت گلابی نپلز چوسنے لگتا ہے اور دلہن کے منہ سے اس کی آہیں نکلنے لگتی ہیں اور وہ اپنے دولہے کا سر اپنے سینے پر دبانے لگتی ہے کافی دیر دولہا اپنی دلہن کے دودھ اور اس کے گلابی نپلز لال کرنے کے بعد اس کی لال شلوار کھینچتا ہے جو دلہن اپنی گانڈ اٹھا کر اتارنے میں آسانی پیدا کر دیتی ہے اور دلہن اپنی دونوں ٹانگیں ایک دوسرے میں پھنسا کر اپنی کنواری چوت کو چھپانے کی ناکام کوشش کرتی ہے جس کو دولہا روک دیتا ہے دلہا اپنی دلہن کی چوت کا دیدار کرنے کے بعد ایک دم بے ساختہ کہتا ہے پنکھڑیاں یہ گلاب کی سی ہیں مستیاں یہ شراب کی سی ہیں اتنا بولتے ہی دولہے سے رہا نہیں جاتا اور وہ بنا دیر کیئے اپنے ہونٹ اپنی دلہن کی چوت پر رکھ کر اسے چاٹنا شروع کر دیتا ہے دلہن کی آوازیں اور آہیں پورے کمرے میں گونجتی ہیں آہہہہہہ آہ اممممم دلہن پوری ننگی حالت میں اپنی ٹانگیں کھول کر اپنے دولہے سے اپنی چوت چٹوا رہی ہوتی ہے جبکہ دولہا گھوڑی بن کر اپنا منہ اس کی چوت پر رکھ کر چاٹ رہا ہوتا ہے اور ایک ہاتھ سے اپنا لنڈ مسل رہا ہوتا ہے وہ دلہن کا میک اپ اور زیور نہیں اتارتا صرف کپڑے ہی اتارتا ہے چوت چاٹتے ہوئے دولہے کو اپنی زبان پر ہلکی سی چبن محسوس ہوتی ہے تو دولہا سر اٹھا کر دیکھتا ہے تو دلہن کی چوت پر ہلکے ہلکے سے باریک بال ہوتے ہیں تو وہ کہتا ہے کہ دولہا: تم نے اپنی چوت پوری طرح صاف نہیں کی؟ دلہن: میری ایک دوست نے کہا تھا کہ پوری طرح بالکل صاف نہیں کرنا اس کو اچھے سے ٹرم کر لینا سیکس کے ٹائم ہلکے بالوں سے تمہارے دولہے کو زیادہ لطف آئے گا دولہا: کس چیز کے ٹائم؟ دلہن: سیکس کے ٹائم دولہا: سیکس نہیں میری جان، چدائی بولو دلہن شرما کر: مجھ سے نہیں بولا جائے گا دولہا: میرے سامنے ننگی لیٹ کر اپنی چوت مجھ سے چٹوا رہی ہو اور پھر بھی شرماتی ہو اب تو پوری زندگی میرے ساتھ ہو اب اسی طرح بولنا پڑے گا اور مجھے بول کر دکھاؤ ورنہ میں اور نہیں چاٹوں گا دلہن: میری ایک دوست نے کہا تھا کہ پوری طرح بالکل صاف نہیں کرنا اس کو اچھے سے ٹرم کر لینا تمہاری چدائی کے ٹائم ہلکے بالوں سے تمہارے دولہے کو زیادہ لطف آئے گا دولہا خوش ہوتے ہوئے واپس چاٹنا شروع کرتا ہے اور اپنے ایک ہاتھ سے دلہن کے دودھ دباتا ہے اور دوسرے ہاتھ سے اپنا لنڈ مسلتا ہے اور دلہن کی آہیں پھر سے بلند ہونے لگتی ہیں اور پھر اچانک اس کا جسم اکڑنے لگتا ہے دلہن اپنے دونوں ہاتھوں سے بستر کی چادر کو دبا لیتی ہے اور اپنا نچلا ہونٹ اپنے دانتوں میں دبا کر پاگلوں کی طرح یہاں وہاں سر پٹکھتی ہے اچانک اس کا جسم جھٹکے کھانے لگتا ہے اور وہ اپنے دولہے کے منہ میں فارغ ہو جاتی ہے اور دولہا اس کی ساری منی چاٹ کر اس کی چوت کو صاف کرتا ہے فارغ ہونے کے بعد کچھ دیر تک دلہن ایسے ہی ساکت پڑی رہتی ہے اور دولہا اس کو ہاتھ سے ہلا کر ہوش میں لاتا ہے اور بولتا ہے کہ دولہا: میں اب تمہیں چودنے لگا ہوں تمہاری چوت کا افتتاح کرنے لگا ہوں تیار ہو جاؤ دلہن شرما کر آنکھیں نیچے کرتے ہوئے کہتی ہے: میں بھی تیار ہوں پھر دولہا بیڈ سے نیچے اتر جاتا ہے اور الماری میں رکھا زیتون کا تیل لے کر آتا ہے اور تیل کو اپنے لنڈ پر ڈالتا ہے اور خوب چکنا کرنے کے بعد دلہن کی چوت پر بھی لگاتا ہے اس کے بعد دلہن کی دونوں ٹانگیں اٹھا کر اپنے کندھے پر رکھتا ہے لیکن دلہن ٹانگیں کندھے سے ہٹا کر اس کی کمر کے گرد لپیٹ لیتی ہے اور وہ اپنے لنڈ کو ایک ہاتھ سے پکڑ کر دلہن کی چوت پر مسلتا ہے جس سے دلہن کی جسم کی گرمی واپس آنے لگتی ہے اور اس کی آہیں نکلتی ہیں آہ آہہہہہ اممممممہہ پھر دولہا اپنے لنڈ کو دلہن کی چوت پر سیٹ کر کے دلہن کے چہرے کی طرف دیکھتا ہے اور دلہن کو کہتا ہے کہ جب میں اپنا لنڈ تمہاری چوت میں ڈالوں گا تو میری آنکھوں میں دیکھنا میں بھی تمہاری آنکھوں میں دیکھنا چاہتا ہوں نظروں سے نظریں ملانا چاہتا ہوں اور دلہن اس کی آنکھوں میں دیکھنا شروع کر دیتی ہے اور وہ اپنی کمر کا زور بڑھاتے ہوئے دلہن کی چوت میں اپنا لنڈ اندر گھسانے کی کوشش کرتا ہے اور ہلکا سا جھٹکا دیتا ہے لیکن لنڈ اندر نہیں جاتا تو اور دلہن کی چینخ نکل جاتی ہے تو دولہا تھوڑا سا رک کر دوبارہ زور کا جھٹکا دیتا ہے جس سے اس کا لنڈ چوت کے پردوں کو پھاڑتا ہوا آدھا اندر گھس جاتا ہے اور چوت میں سے خون جاری ہونے لگتا ہے دلہن جو لنڈ لینے کے لیے بیتاب لیٹی ہوئی دولہے کی آنکھوں میں دیکھ رہی ہوتی ہے تو اس کی آنکھیں اوپر کی طرف چڑھ جاتی ہیں اور ایک شدید قسم کی لہر اس کے جسم میں دوڑنے لگتی ہے اور اس کے آنسو جاری ہو جاتے ہیں دولہا تھوڑی دیر ایسے ہی لنڈ اندر رکھ کر اس کے دودھ چوستا ہے اور اس کا دھیان بٹاتا ہے تھوڑی دیر بعد جب دلہن کچھ پرسکون ہوتی ہے تو دولہا دوبارہ ایک تیز جھٹکا مارتا ہے اور اس کا پورے کا پورا لنڈ اس کی چوت میں سما جاتا ہے اور دلہن کی دوبارہ چینخیں نکلنا شروع ہو جاتی ہیں لیکن دولہا کچھ دیر رک کر اس کو سہلاتا ہے جب وہ دوبارہ پرسکون ہوتی ہے تو دولہا اپنی کمر کو حرکت دے کر اپنے لنڈ کو اس کی چوت میں آہستہ آہستہ اندر باہر کرنے لگتا ہے اور دلہن اس کو روکنے کی کوشش کرتے ہوئے اپنی آہیں نکالتی ہے آہ آہ آہہہہہہہ اہہہممممم آہ آہہہہ تھوڑی دیر بعد دلہن کی آہیں درد سے مزے میں بدلنے لگتی ہیں دلہن کی چوت کے ہلکے بال اس کی چدتی ہوئی چوت کو چار چاند لگا رہے ہوتے ہیں جب وہ مزے سے آوازیں نکالتی ہے آہ آہ آہہہہہہہ اہہہہممممممہ اور تیز اور تیز آہ آہہہممممممہ آہہ آہ تو دولہا اس کو طوفانی جھٹکوں سے چودنا شروع کر دیتا ہے جس پہ دلہن بھی اپنے دودھ کی طرح مچلنے اور ہلنے لگتی ہے پھر اسی طوفانی چدائی میں دلہن کا جسم ایک دفعہ پھر سے اکڑنے لگتا ہے اور وہ جھٹکے کھا کر فارغ ہونے لگتی ہے جیسے ہی اس کی چوت کا پانی دولہے کے لنڈ پر پڑتا ہے تو اس کا لنڈ بھی اس پانی کی گرمی کو برداشت نہیں کر پاتا اور دولہا بھی اپنی منی سے اس کی چوت کو بھر دیتا ہے اور نڈھال ہو کر اس کے اوپر گر جاتا ہے اور پیار سے اس کے ہونٹ چوسنا شروع کر دیتا ہے تھوڑی دیر بعد دولہا اٹھتا ہے تو دلہن کی چوت سے اس کا لنڈ پچک کی آواز کے ساتھ باہر نکل آتا ہے منی اور خون کا ملا جلا پانی دلہن کی چوت سے بہنے لگتا ہے اور دولہا خوش ہوتا ہے کہ اس نے آج ایک کنواری چوت کا افتتاح کر دیا ایک لڑکی کو چود کر عورت بنا دیا پھر وہ اپنے کپڑے اٹھا کر نہانے چلا جاتا ہے اور اپنے جسم کو صاف کر کر نہا کر باہر آ جاتا ہے جبکہ دولہن ایسے ہی نیم بے ہوشی حالت میں اپنے بستر پر ننگی پڑی ہوتی ہے پھر دولہا دلہن کے دودھ دبا کر اٹھاتا ہے اور کہتا ہے جاؤ تم بھی نہا کر آ جاؤ تو دلہن اٹھتی ہے لیکن لڑکھڑا جاتی ہے اور اس سے اٹھا نہیں جاتا تو دولہا اس کو سہارا دیتے ہوئے باتھ روم تک چھوڑ آتا ہے اور دلہن بھی اپنی چوت اور اپنی رانوں کو خون اور منی سے صاف کر کے نہا لیتی ہے اور کپڑے پہن کر باہر آجاتی ہے تو دولہا اسی کی طرف دیکھ رہا ہوتا ہے پھر وہ شرماتے ہوئے دولہے کے پاس آکر بیٹھ جاتی ہے اور وہ دونوں ایک ساتھ لیٹ کر اپنی زندگی کی نئی شروعات اور پیار محبت کی باتیں کرتے ہوئے سو جاتے ہیں۔۔۔ ۔




.jpg)
No comments: