وہhhhh میری قسمت (ایک انسیسٹ کہانی)میرا نام چوہدری راحیل حسین ہے۔ میری عمر اس وقت 27 سال ہے۔ میں ایک گورا چٹا، تندرست، بنکا جوان ہوں اور اس وقت اپنی فیملی کے ساتھ کراچی میں رہائش پذیر ہوں۔آج جو کہانی میں آپ کو سنائے جا رہا ہوں، اس کا آغاز پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر گجرات کے قریب واقع ایک چھوٹے سے گاؤں میں ہوا۔آج سے چند سال پہلے زميندارہ کالج گجرات سے گریجویشن کرنے کے بعد جب مجھے ایک جاننے والے کی مہربانی سے لاہور میں ایک پرائیویٹ کمپنی میں نوکری مل گئی تو میں اپنے گاؤں کو خدا حافظ کہہ کر لاہور چلا آیا اور اپنے دو دوستوں کے ساتھ ایک فلیٹ میں رہنے لگا۔مجھے لاہور میں نوکری شروع ہوئے ابھی تقریباً چھ ماہ ہی ہوئے تھے کہ گاؤں سے آنے والی ایک منحوس خبر نے میرے دل کو توڑ دیا۔خبر یہ تھی کہ گجرات شہر سے اپنے گاؤں جاتے ہوئے میرے ابو کا ٹریکٹر ایک ٹرک سے ٹکرا گیا اور اس حادثے میں میرے 23 سالہ چھوٹے بھائی اعجاز اور میرے 55 سالہ ابو چوہدری قادر حسین دونوں کا انتقال ہو گیا تھا۔یہ خبر 50 سال سے کچھ اوپر میری امی فخریٰ اور میری 24 سالہ چھوٹی بہن مادیہ کے لیے تو بری تھی ہی، مگر ان دونوں کے ساتھ میرے لیے زیادہ بری اس لیے تھی کہ نہ صرف اب مجھے لاہور جیسے بڑے شہر کو چھوڑ کر واپس اپنے گاؤں جانا پڑ گیا تھا بلکہ ساتھ ہی ساتھ اپنے والد کی ساری زمین کی دیکھ بھال اور اپنے گھر کو سنبھالنے کی ساری ذمہ داری میرے کندھوں پر آ پڑی تھی۔بزنس ایڈمنسٹریشن میں گریجویشن کرنے کے بعد کھیتی باڑی کرنے کو میرا ہرگز دل نہیں تھا۔ مگر اپنے والد کا اکلوتا بیٹا رہ جانے کی وجہ سے اب چار و ناچار اپنی زمین کی دیکھ بھال اب مجھے ہی کرنی تھی۔اس لیے اپنے بھائی اور والد کے کفن دفن کے بعد میں نے اپنی زمین کو سنبھال لیا اور اب میں پچھلے چھ ماہ سے دن رات کھیتی باڑی میں مصروف ہو گیا۔ویسے تو اپنی زندگی میں میرے والد ہماری زمین پر زیادہ تر سبزیاں ہی اگاتے تھے۔ مگر ان کی موت کے بعد میں نے کوئی مختلف فصل لگانے کا سوچا اور چند دوسرے لوگوں سے صلاح مشورہ کرنے کے بعد میں نے اپنی زمین پر گنا (Sugar Cane) لگا دیا۔اگست کے مہینے میں گنے کی فصل کھڑی تو ہو گئی مگر اس کے باوجود اسے کاٹنے کے لیے مجھے ایک مہینہ مزید انتظار کرنا تھا۔اس دوران چونکہ فصل کی نگرانی کے علاوہ مجھے کھیتوں پر اور کوئی کام نہیں تھا، اس لیے میں نے اپنے کچھ نوکروں کو کچھ وقت کے لیے چھٹی دے دی اور صرف رات کی نگرانی کے لیے دو آدمیوں کو رکھ لیا۔ جو رات کو ڈیرے پر رہتے اور صبح ہوتے ہی اپنے گھر واپس چلے جاتے۔چونکہ ہماری زمین ہمارے گاؤں کے باقی لوگوں کی زمینوں اور مکانوں سے کافی ہٹ کر واقع تھی۔ اس لیے میں ایک بار جب اپنے گھر سے نکل کر اپنی زمین پر آ جاتا تو پھر میری گھر واپسی شام سے پہلے نہیں ہوتی تھی۔گنے کی کاشت کے بعد اب میری روٹین یہ بن گئی تھی کہ صبح صبح ڈیرے پر چلا آتا اور میں سارا دن اپنے اس ڈیرے پر بیٹھ کر اپنی فصل کی نگرانی کرتا جسے میرے والد نے اپنی زندگی میں تعمیر کیا تھا۔ابو نے یہ ڈیرہ ہماری ساری زمین کے بالکل سینٹر میں بنایا تھا جس میں دو کمرے بنے ہوئے تھے۔ان دونوں کمروں میں سے ایک میں ٹیوب ویل لگا ہوا تھا جس سے میں اپنی ساری فصل کو پانی دیتا تھا۔ اس کمرے کی چھت کی اونچائی کافی تھی۔جبکہ دوسرا کمرہ آرام کرنے کے لیے بنایا گیا تھا اور اس کمرے کی چھت (روف ٹاپ) ٹیوب ویل والے کمرے سے کافی اونچی تھی۔ٹیوب ویل والے کمرے کی پچھلی طرف لکڑی کی ایک سیڑھی (Wood Ladder) لگی ہوئی تھی جس کے ذریعے اوپر چڑھ کر ٹیوب ویل کی چھت پر جایا جا سکتا تھا۔یہاں پر ایک روشن دان بھی بنا ہوا تھا جو آرام کرنے والے بڑے کمرے کو ہوادار بنانے کے لیے تھا۔اس روشن دان پر لکڑی کی ایک چھوٹی سی کھڑکی لگی ہوئی تھی جو ہمیشہ آدھی بند ہی رہتی۔ جبکہ روشن دان کے باہر کی طرف سٹیل کی ایک جالی بھی لگی ہوئی تھی۔اس روشن دان کی ساخت کچھ اس طرح کی تھی کہ اگر کوئی انسان ٹیوب ویل کی چھت پر کھڑے ہو کر بڑے کمرے کے اندر جھانکتا تو کمرے کے اندر موجود لوگوں کو باہر کھڑے شخص کی موجودگی کا علم نہیں ہو سکتا تھا۔ٹیوب ویل کی چھت پر بھی ایک سیڑھی رکھی ہوئی تھی جس کے ذریعے آرام والے کمرے کی اونچی چھت پر چڑھا جا سکتا تھا۔اس چھت سے چونکہ ہماری پوری زمین پر نظر رکھی جا سکتی تھی، اس لیے دن میں اکثر میں سیڑھیوں کے ذریعے اوپر چلا جاتا اور چھت پر بیٹھ کر اپنی فصل کی حفاظت کرتا رہتا۔ہر روز دوپہر میں میری چھوٹی بہن مادیہ میرے لیے گھر سے کھانا لاتی۔ اور جب تک میں کھانے سے فارغ نہ ہو جاتا وہ بھی میرے ساتھ ہی کمرے میں سامنے والی چارپائی پر بیٹھ کر اپنے موبائل فون سے کھیلتی رہتی۔جب میں کھانا کھا کر فارغ ہو جاتا تو مادیہ برتن سمیت کر گھر واپس چلی جاتی اور میں کمرے میں جا کر آرام کر لیتا۔یہ روٹین پچھلے دو ماہ سے چل رہی تھی۔ کبھی کبھار ایسا بھی ہوتا کہ مادیہ کی جگہ میری امی فخریٰ میرے لیے کھانا لے آتیں۔لاہور سے واپس اپنے گاؤں آ کر اب پچھلے چھ ماہ سے میری زندگی ایک ہی ڈگر پر چل رہی تھی۔ جس کی وجہ سے میں اب تھوڑا بور ہونے لگا تھا۔ اور میری اس بوریت کی سب سے بڑی وجہ چوت سے محرومی تھی۔اصل میں لاہور میں قیام کے دوران میں نے اپنے روم میٹس کے ساتھ مل کر بڑی عمر کی دو گاشیوں کا بندوبست کر لیا تھا۔ اور پھر جتنا عرصہ میں وہاں رہا میں ہفتے میں کم از کم دو دفعہ تو ان آنٹیوں میں سے ایک کی چوت کا ذائقہ چکھ ہی لیتا تھا۔اس لیے یہی وجہ تھی کہ گاؤں میں آ کر میں عورت کے مزے سے محروم ہو گیا تھا۔ویسے تو میں نے ڈیرے پر دو تین ننگی فوٹوز والے میگزین چھپا کر رکھے ہوئے تھے جن کو میں لاہور سے اپنے ساتھ لایا تھا۔اس لیے جب بھی میرا دل چاہتا تو میں موقع پا کر ڈیرے پر بنے کمرے میں جاتا اور چارپائی پر لیٹ کر ان میگزینوں میں موجود لڑکیوں کی گندی فوٹوز کو دیکھ دیکھ کر مٹھ مارتا اور اپنے جسم کی آگ کو ہلکا کر لیتا تھا۔بے شک میں مٹھ مار کر فارغ تو ہو جاتا مگر میرے لڑکے کو عورت کی چوت کا ایسا نشہ لگ چکا تھا کہ اب میرے لڑکے کو ایک گرم پھدی کی شدت سے طلب ہو رہی تھی۔میرا لورا میری شلوار میں صبح صبح کھڑا ہو کر ہر روز کسی گرم پھدی کی مانگ کرتا مگر میں ہمیشہ تھپڑ مار مار کر اپنے لڑکے کو خاموش کر دیتا تھا۔وہ کہتے ہیں نا کہ “سو سال بعد تو رڑی کی بھی سنی جاتی ہے” بالکل یہی میرے ساتھ ہوا کہ جس گرم اور پیاسی چوت کی میرے لڑکے کو تلاش تھی، وہ اسے میری بہن مادیہ کی سہیلی شکیلہ کی شکل میں بالآخر ایک دن مل ہی گئی۔شکیلہ ویسے تو میری بہن مادیہ سے عمر میں ایک سال بڑی تھی مگر گاؤں میں ہمارے گھر ساتھ ساتھ ہونے کی وجہ سے ان دونوں میں بچپن ہی سے بہت اچھی دوستی تھی۔جبکہ سکول کی پہلی کلاس سے لے کر میٹرک تک اکٹھے ایک ہی کلاس میں پڑھنے کی وجہ سے جوان ہوتے ہوتے ان دونوں کی دوستی مزید گہری ہوتی چلی گئی۔میری بہن کی سہیلی ہونے کی حیثیت سے شکیلہ کا اکثر ہمارے گھر آنا جانا لگا رہتا تھا۔شکیلہ جب بھی میری بہن مادیہ کو ملنے ہمارے گھر آتی تو مادیہ اسے لے کر اپنے کمرے میں چلی جاتی جہاں دونوں سہیلیاں بیٹھ کر کافی دیر تک گپ شپ لگاتی رہتی تھیں۔شکیلہ چونکہ عمر میں مادیہ سے ایک سال بڑی تھی اس لیے اس کے گھر والوں کو اس کی شادی کی شاید کچھ زیادہ ہی جلدی تھی۔یہی وجہ تھی کہ جن دنوں میں زميندارہ کالج میں بی اے کر رہا تھا تو اسی دوران شکیلہ کی شادی ہو گئی۔اس کے سسرال والے چونکہ ملتان کے پاس ایک گاؤں میں رہتے تھے اس لیے شادی کے بعد شکیلہ ہمارے گاؤں سے رخصت ہو کر اپنے شوہر کے ساتھ ملتان میں رہنے لگی۔اب جن دنوں میرا لڑکا کسی عورت کی پھدی میں جانے کے لیے تڑپ رہا تھا تو انہی دنوں شکیلہ اپنے ماں باپ کو ملنے اپنے گاؤں واپس آئی تو اس دوران وہ میری بہن مادیہ کو بھی ملنے ہمارے گھر چلی آئی۔اس دن میں بھی اتفاق سے ڈیرے سے جلدی گھر واپس آ گیا تھا۔ اس لیے مادیہ کے ساتھ شکیلہ کے ساتھ میری بھی ملاقات ہو گئی۔میں نے اس دن شکیلہ کو تقریباً دو سال بعد دیکھا تو اسے دیکھتے ہی میں اس کے حسن کا دیوانہ ہو گیا۔شکیلہ شادی کے ان دو سالوں میں لڑکی سے ایک بھرپور عورت بن چکی تھی۔ اس کی کمیز میں سے اس کے گول گول موٹے ممیں بہت ہی مزے دار نظر آ رہے تھے جن کو دیکھتے ہی میرے منہ میں پانی آ گیا تھا۔جبکہ شکیلہ کی شلوار میں پوشیدہ اس کی لمبی گداز رانوں کو دیکھتے ہی میرا دماغ اس کی رانوں کے درمیان موجود چوت کا سوچ کر ایک دم میری شلوار میں ہرنے لگا تھا۔مادیہ اور شکیلہ ہمارے گھر کے صحن میں ہی بیٹھ کر آپس میں باتوں میں مصروف ہو گئی تھیں جبکہ اس موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے میں اس دوران شکیلہ کے جسم کو بھوکی نظروں سے دیکھنے میں لگا رہا۔شکیلہ نے مادیہ سے باتوں کے دوران اپنے جسم پر پڑنے والی میری گرم نظروں کو محسوس تو کر لیا تھا مگر اس نے اپنے چہرے سے مجھے یہ محسوس نہیں ہونے دیا کہ میرا یوں تڑنا اسے اچھا لگا ہے یا نہیں۔دوسرے دن دوپہر کو میں ڈیرے کے کمرے میں چارپائی پر لیٹ کر آرام کر رہا تھا تو مادیہ میرے لیے کھانا لے کر آئی۔ تو اس دن میری بہن مادیہ کے ساتھ اس وقت شکیلہ بھی تھی۔ شکیلہ کو یوں دوبارہ اپنے سامنے دیکھ کر میرے لڑکے میں ایک عجیب سی ہلچل مچ گئی۔میں جب کھانا کھانے بیٹھا تو مادیہ اور شکیلہ سامنے والی چارپائی پر بیٹھ کر آپس میں باتیں کرنے لگیں۔اس دوران میں نے محسوس کیا کہ مادیہ سے باتوں کے دوران شکیلہ چوری چوری میری طرف بھی دیکھ رہی تھی۔اس دوران میری نظر ایک دو دفعہ شکیلہ کی نظر سے ملی۔ تو اس کی نظروں میں میرے لیے جو ہوس کا پیغام تھا اسے پڑھنا میرے لیے کچھ مشکل نہیں تھا۔“ہائے لگتا ہے کہ شکیلہ بھی میری طرح چودائی کی آگ میں جل رہی ہے” اپنی بہن کی سہیلی کی آنکھوں میں چودائی کی پیاس دیکھ کر میرے دل میں خیال آیا اور میری شلوار میں میرا لورا گرم ہو گیا۔میں روٹی سے فارغ ہوا تو مادیہ نے برتن اٹھائے اور شکیلہ کو ساتھ لے کر گھر چلی گئی جبکہ میں چارپائی پر لیٹ کر شکیلہ کے بارے میں سوچنے لگا۔دوسرے دن شکیلہ پھر میری بہن مادیہ کے ساتھ مجھے روٹی دینے آئی۔ اس دن کھانے کے بعد مادیہ نے برتن سمیتے اور انہیں دھونے کے لیے اکیلی ہی باہر ٹیوب ویل کی طرف چلی گئی۔ جس کی وجہ سے اب کمرے میں صرف میں اور شکیلہ ہی رہ گئے تھے۔مادیہ کے باہر جاتے ہی میں نے موقع غنیمت جانا اور شکیلہ کی طرف دیکھا تو وہ بھی میری طرف ہی دیکھ رہی تھی۔“تمہارا شوہر کیسا ہے شکیلہ؟” شکیلہ کو اپنی طرف دیکھتے ہی میں نے اپنے آپ میں ہمت پیدا کی اور اپنی چارپائی سے اٹھ کر اس کے نزدیک ہوتے ہوئے یہ سوال کر دیا۔“ٹھیک ہیں وہ” شکیلہ نے جواب تو دیا مگر مجھے اپنے نزدیک آتے دیکھ شکیلہ ایک دم گھبرا گئی اور اس کی سانسوں اوپر نیچے ہونے لگیں۔“تم خوش تو ہو نا اس کے ساتھ؟” میں نے شکیلہ کے مزید قریب ہوتے ہوئے اس کے نرم ہاتھ کو اپنے ہاتھ میں پکڑتے ہوئے پوچھا۔شکیلہ نے کوئی جواب نہیں دیا تو میرا حوصلہ بڑھا اور میں نے اس کی کمر میں ہاتھ ڈال کر اس کے گداز جسم کو اپنی طرف کھینچ لیا۔ اب اس کا جسم میرے جسم سے جڑ گیا اور ہم دونوں کے منہ ایک دوسرے کے آمنے سامنے آ گئے۔“چھوڑو مجھے، مادیہ آتی ہی ہو گی” اپنے آپ کو میرے بازوؤں کے گہرے میں آتے دیکھ کر شکیلہ ایک دم گھبرا گئی اور میری بازوؤں سے نکلنے کی کوشش کرتے ہوئے بولی۔شکیلہ کی بات کو نظر انداز کرتے ہوئے میں نے اپنا منہ آگے بڑھایا اور اپنے ہونٹ شکیلہ کے گرم ہونٹوں پر رکھ دیے۔ایک لمحے کے لیے شکیلہ نے مزاحمت کی مگر اس کے ساتھ ہی اس نے اپنا منہ کھولا تو میری زبان اس کے منہ میں داخل ہو کر اس کی زبان سے ٹکرانے لگی۔آج اتنے مہینوں بعد ایک عورت کے جسم کو چھوتے اور لبوں کو چومتے ہوئے مجھے بہت مزہ آیا۔ تو میں نے مستی میں آتے ہوئے شکیلہ کے جسم کے گرد اپنی بازوؤں کو کسا۔ جس کی وجہ سے شکیلہ کا جسم میرے جسم کے ساتھ چمٹا چلا گیا اور ساتھ ہی اس کے گداز ممیں میری چھاتی میں دبنے چلے گئے۔اس سے پہلے کہ میں مزید آگے بڑھتا شکیلہ نے ایک دم مجھے دھکا دیتے ہوئے اپنے آپ کو میرے بازوؤں کی گرفت سے الگ کیا اور پھر جلدی سے کمرے کے دروازے کے پاس جا کر کانپتی آواز میں بولی “تمہیں تمیز ہونی چاہیے کہ شادی شدہ عورتوں سے کیسے پیش آتے ہیں”۔“اگر ایک چانس دو تو میں تمہیں بتا سکتا ہوں کہ شادی شدہ عورتوں کے ساتھ پیش آنے کی مجھے کتنی تمیز ہے، ویسے اب دوبارہ کب ملو گی مجھے” شکیلہ کی بات کا جواب دیتے ہوئے میں نے اس کی طرف دیکھ کر بے شرمی سے شلوار میں ہرے ہوئے اپنے لڑکے پر ہاتھ پھیرا اور اس سے سوال کیا۔“کل، اسی وقت اور اسی جگہ” میری اس حرکت پر شکیلہ نے شرماتے ہوئے ایک دم اپنی نظریں نیچے کیں اور پھر میری بات کا جواب دیتے ہوئے تیزی کے ساتھ کمرے سے باہر نکل گئی۔شکیلہ کے کمرے سے باہر نکلتے ہی میں نے شلوار میں ہرے ہوئے لڑکے کو ہاتھ میں تھاما اور خوشی سے جھومتے ہوئے کہا “لے بھائی تیری تو سن گئی ہے یار”۔میرا لورا اس وقت پتھر کی طرح سخت ہو چکا تھا اس لیے میرے لیے صبر کرنا بہت ہی مشکل ہو رہا تھا۔تھوڑی دیر بعد جب کمرے کی کھڑکی سے میں نے شکیلہ کو میری بہن مادیہ کے ساتھ گھر واپس جاتا دیکھا تو میں نے فوراً دروازے کو کنڈی لگائی اور اپنی شلوار اتار کر شکیلہ کے نام کی مٹھ لگانے لگا۔دوسرے دن میں صبح ہی صبح شکیلہ کے انتظار میں بیٹھ گیا۔مجھے یقین تھا کہ شکیلہ آئے گی ضرور مگر اس کے ساتھ میرا اندازہ یہ بھی تھا کہ وہ میری بہن مادیہ کے گھر واپس جانے کے بعد ہی میرے پاس آئے گی۔لیکن جب میں نے شکیلہ کو مادیہ کے ساتھ ہی آتے دیکھا تو مجھے بہت سی مایوسی ہوئی اور میرا کھڑا لڑکا موٹر کی جگہ کی طرح بیٹھ گیا۔میں نے مادیہ کے ہاتھ سے کھانے کے برتن لیے اور اپنی چارپائی پر خاموشی کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھانے میں مصروف ہو گیا۔جبکہ شکیلہ میری بہن مادیہ کے ساتھ دوسری چارپائی پر بیٹھ کر گپ شپ لگانے لگی۔ابھی میرا کھانا ختم ہونے میں تھوڑی ہی دیر باقی بچی تھی کہ اتنے میں مادیہ چارپائی سے اٹھی اور بولی “بھائی مجھے ایک بہت ضروری کام یاد آ گیا ہے، اس لیے مجھے فوراً ہی جانا پڑے گا، ویسے تو میری واپسی دس پندرہ منٹ میں ہو جائے گی، مگر آپ فکر نہ کریں آپ کے کھانے کے بعد شکیلہ برتنوں کو سنبھال لے گی” اتنا کہتے ہی مادیہ ایک دم چارپائی سے اٹھ کر باہر کی طرف چل پڑی اور جاتے جاتے وہ کمرے کے دروازے کو اپنے پیچھے سے بند کرتی ہوئی باہر نکل گئی۔اپنی بہن کو یوں اچانک کمرے سے باہر جاتا دیکھ کر مجھے بہت حیرانی ہوئی اور میں نے فوراً شکیلہ کی طرف دیکھا تو وہ میری ہی طرف دیکھتے ہوئے مسکرانے لگی۔“یہ کیوں اس طرح اچانک اٹھ کر باہر چلی گئی ہے، کیا بتایا ہے تم نے مادیہ کو؟” شکیلہ کے چہرے پر مہنی خیز مسکراہٹ دیکھ کر میرا ماتھا ٹھنکا اور میں نے فوراً اس سے پوچھا۔“میں نے کچھ نہیں بتایا اسے، بس اتنا ہی کہا ہے کہ میں نے تم سے تنہائی میں کوئی ضروری بات کرنی ہے، تم جانتے ہو کہ مادیہ اور میں بہت اچھی سہیلیاں ہیں” شکیلہ نے میری بات کا جواب دیا۔“شکیلہ نے میری بہن کو اصل بات یقیناً نہیں بتائی ہو گی” شکیلہ کے جواب سنتے ہی میں نے اپنے آپ سے کہا اور یہ بات سوچ کر میرے دل کو اطمینان سا ہو گیا۔ویسے بھی اصل بات یہ تھی کہ شکیلہ کو ایک بار پھر اپنے ساتھ کمرے میں اکیلا پا کر میرے لڑکے میں اتنی گرمی چڑھ گئی تھی کہ اب میرے دماغ میں پھدی لینے کے علاوہ کسی اور بات کی سوچ ہی ختم ہو چکی تھی۔ابھی میں اپنی سوچ میں ہی گم تھا کہ اتنے میں شکیلہ اپنی چارپائی سے اٹھی اور میرے قریب آنے لگی۔حالانکہ مجھے شدت سے آج ایک چوت کی طلب ہو رہی تھی اور شاید شکیلہ کو ایک لڑکے کی پیاس تھی۔ مگر اس کے باوجود شکیلہ کو یوں اپنی طرف آتے دیکھ کر نہ جانے کیوں تو میری سیٹی ہی گم ہو گئی اور کل کے برعکس آج میں خود گھبرا گیا۔“کیا بات ہے تم اتنے پریشان کیوں ہو گئے ہو اچانک؟” شکیلہ نے چارپائی پر میرے قریب آ کر بیٹھتے ہوئے پوچھا۔شکیلہ کو یوں اپنے پاس بیٹھا دیکھ کر مجھے اتنی گھبراہٹ ہوئی کہ میں اسے کوئی جواب نہیں دے پا رہا تھا۔“تم کل مجھ سے میرے شوہر کے بارے میں پوچھ رہے تھے نا، تو میں تمہیں یہ بتانا چاہتی ہوں کہ میں اپنے شوہر کو بہت مس کر رہی ہوں راحیل” شکیلہ نے اپنا منہ میرے منہ کے قریب کرتے ہوئے سرگوشی کی اور پھر ایک دم اپنے ہونٹوں کو میرے ہونٹوں پر چپکا دیا۔شکیلہ کے ہونٹوں کو اپنے ہونٹوں سے چپکتے ہوئے محسوس کرتے ہی مجھے ہوش آیا۔ تو میں بھی شکیلہ کے گداز جسم کو اپنی بازوؤں میں کستے ہوئے اس کے لبوں کو چومنے لگا۔“ہائے مجھے اپنے شوہر کی شدت سے طلب ہو رہی ہے، کیا تم میرے شوہر کی کمی کو پورا کرو گے راحیل؟” میری گرم جوشی کو دیکھتے ہوئے شکیلہ گرم ہو گئی اور اس نے اپنا منہ کھول کر اپنی زبان کو میری زبان سے ٹکرانے کے دوران مجھ سے سوال کیا۔“ہاں میں نے کل بھی یہی کہا تھا کہ اگر تم مجھے موقع دو تو میں تمہیں تمہارے شوہر کی کمی محسوس نہیں ہونے دوں گا میری جان” یہ کہتے ہوئے میں نے شکیلہ کے ہونٹوں پر اپنے ہونٹوں کا دباؤ بڑھاتے ہوئے اسے چارپائی پر لٹا دیا۔اس کے ساتھ ہی میں نے شکیلہ کی موٹی گاند کی پھریوں پر ہاتھ رکھتے ہوئے اس کے جسم کو اپنی طرف کھینچا تو اس کی چوت میری شلوار میں اکڑے ہوئے میرے لڑکے سے ٹکرا گئی۔“ہائے کیا گرم اور سخت لورا ہے تمہارا” میرے سخت لڑکے کو یوں اپنی پیاسی چوت سے ٹکراتے ہوئے محسوس کر کر شکیلہ کے منہ سے سسکی پھوٹی۔ادھر جوں ہی ہماری kissing کا سلسلہ تیز ہوا تو اس کے ساتھ ہی شکیلہ نے اپنا ایک ہاتھ نیچے کیا۔ اور اس نے میرے سخت لڑکے کو شلوار کے اوپر سے اپنی گرفت میں لے کر kissing کے دوران ہی میرے لڑکے کی مٹھ لگانا شروع کر دی۔“ہاں” آج اتنے عرصے بعد اپنے تنے ہوئے لڑکے پر کسی عورت کے نرم و نازک ہاتھ محسوس کرتے ہی میرے منہ سے بھی سسکی نکلی اور میرا لورا مزید سخت ہو گیا۔اب میں نے بھی شکیلہ کے ہاتھ کے مزے سے ہوتے ہوئے اپنا ہاتھ نیچے لے جا کر شلوار کے اوپر سے ہی شکیلہ کی گرم چوت کو اپنی مٹھی میں دبوچا۔ تو سواد کے مارے وہ بھی اپنے منہ سے “اوہhhhh ہائے” کی آوازیں نکلنے لگیں۔تھوڑی دیر شکیلہ کے ہونٹوں کو چومنے اور اس کی چوت کو اپنے ہاتھ سے رگڑنے کے بعد میں نے اس کی شلوار کا نارا کھول کر پہلے اس کی شلوار اور پھر ساتھ ہی اس کی کمیز بھی اتار کر چارپائی پر پھینک دی۔ اور پھر میں شکیلہ سے تھوڑا الگ ہو کر اس کے جسم کا دیدار کرنے لگا۔اب کمرے میں شکیلہ صرف اپنے برازیئر میں ملبوس میرے سامنے آدھی ننگی پڑی تھی۔ اور میں اس کی ہلکے بالوں والی چوت اور اس کے برازیئر میں سے چمکتے آدھے ننگے ممو کا دیدار کرتے ہوئے اپنے ہونٹوں پر اپنی زبان پھیر رہا تھا۔“اب سارا دن یوں ہی میرے جسم کو تڑتے ہی رہو گے یا میری چوت میں اپنا لڑکا ڈال کر میری پھدی کی آگ کو ٹھنڈا بھی کرو گے” مجھے یوں بٹ بن کر پیاسی نظروں سے اپنی طرف دیکھتے ہوئے پا کر شکیلہ بے چینی سے بولی۔ اور اس کے ساتھ ہی اس نے اپنے ہاتھوں کو پیچھے لے جا کر اپنے برازیئر کی ہک بھی کھول دی تو اس کے موٹے جوان ممی پہلی بار میری نظروں کے سامنے ننگے ہو گئے۔“چودائی کا تو اپنا مزہ ہوتا ہی ہے مگر کسی پیاسی عورت کے جوان خوبصورت جسم کو تڑنے کا بھی الگ ہی سواد ہے میری جان، ویسے فکر نہ کرو آج تمہاری چوت چودے بغیر تمہیں یہاں سے جانے نہیں دوں گا میں” شکیلہ کی بات کا جواب دیتے ہوئے میں نے اپنے کپڑے اترے اور خود بھی شکیلہ کے سامنے پورا ننگا ہو گیا۔“اُفففف تمہارا لورا تو میرے شوہر سے بھی تھوڑا موٹا اور لمبا ہے راحیل، ہائے تمہاری بیوی بہت قسمت والی ہو گی جسے اتنا صحت مند اور جوان لورا زندگی بھر نصیب ہو گا” اپنی شلوار کمیز اتار کر میں جوں ہی ننگا ہوا تو میرے لڑکے کو دیکھ کر شکیلہ کی آنکھوں میں ایک چمک آئی اور وہ سسکارتے ہوئے بول پڑی۔شکیلہ کی بات سنتے ہی میں آگے بڑھا اور میں نے شکیلہ کے موٹے ممیوں کو پہلی بار اپنے ہاتھ میں تھام کر پیار سے اس کا مما دباتے ہوئے ایک بار پھر سے شکیلہ کے لبوں کا رس پینے لگا۔میں نے شکیلہ کے ممی دباتے ہوئے اس کے پنک نپل اپنے ہاتھوں سے مسلتے ہوئے انہیں اپنی انگلیوں میں لے کر کھینچا۔ تو وہ میرے ہاتھ کے مزے سے بے حال ہوتے ہوئے سسکیاں لیتے ہوئے بولی “آہhh آہhh دباؤ میرے ممیوں کو آہhh اوہhh راحیل میرے ممیوں کو چوسو”۔شکیلہ کی بات سنتے ہی میں نے فوراً عمل کیا اور شکیلہ کا ایک مما پکڑ کر اسے پاگلوں کی طرح چوسنے لگ گیا اور ساتھ ہی ساتھ اس کے دوسرے ممی کو بھی اپنے ہاتھ سے دبانے لگ گیا۔ اور میری مما چوسائی کے دوران شکیلہ اپنی آنکھیں بند کر کے سسکیاں لیتی رہی۔شکیلہ کے ممیوں کو چوستے ہوئے میں نے اپنا ایک ہاتھ اس کی پھدی کو چھوا۔ تو مجھے اندازہ ہو گیا کہ میری چیڑ چار کی وجہ سے شکیلہ کی پھدی پانی پانی ہو رہی تھی۔میرا ہاتھ چوت سے لگتے ہی شکیلہ تو جیسے پاگل ہو گئی اور وہ میرے سر کو بالوں سے پکڑ کر اپنے ممیوں پر زور سے دباتے ہوئے چلا “آہhh بہت مزہ آ رہا ہے، میری چوت میں اپنی انگلی ڈال دو راحیل”۔شکیلہ کی یہ فرمائش سنتے ہی میں نے اپنے ہاتھ کی انگلی اس کی پھدی میں ڈالی اور اس کی پھدی کو اپنی انگلی سے چودنے لگا۔اب میں شکیلہ کے ممی چوس بھی رہا تھا اور ساتھ ساتھ شکیلہ کی پھدی میں فنگرنگ کر رہا تھا اور شکیلہ مزے سے چلا رہی تھی “اوہhhhh اُففففف، ہائے”۔شکیلہ کی چوت میں اپنی انگلی ڈال کر اب میں اپنی انگلی کو گول گول گھمانے لگا تھا کہ اتنے میں اس نے میرے ہاتھ کو دونوں ٹانگوں میں زور سے دبایا اور لمبا سانس لے کر اپنی آنکھیں بند کرتے ہوئے ایسے چپ ہو گئی جیسے اس کی سانس ہی رک گئی ہو۔شکیلہ کی یہ حالت دیکھ کر ایک بار تو میں بھی گھبرا گیا۔ مگر جب میں نے دیکھا کہ وہ اپنے ہونٹ دانتوں میں دبا رہی ہے تو میں سمجھ گیا کہ اسے میری انگلیوں سے اپنی چوت چدواتے ہوئے مزہ آ رہا ہے۔کچھ دیر بعد شکیلہ کے ممیوں سے منہ ہٹا کر میں چارپائی سے اٹھ کر زمین پر بیٹھ گیا۔ زمین پر بیٹھتے ہی میں نے چارپائی پر لیٹی شکیلہ کی ٹانگوں کو اپنے ہاتھوں سے چوڑا کیا۔ اور ایک دم سے اپنا منہ آگے کرتے ہوئے اپنی گرم زبان کو چارپائی پر لیٹی شکیلہ کی پانی چھوڑتی چوت کے لبوں کے درمیان رکھ دیا۔“اوہhhhh یہ کیا مزہ دیا ہے تم نے مجھے” اپنی چوت سے میری گرم زبان ٹکراتے ہی شکیلہ تڑپ کر ایک دم چارپائی سے اچھلی۔اس کے ساتھ اس نے اپنے ہاتھ سے میرے منہ کو ہٹاتے ہوئے اپنی ٹانگوں کو بھینچنے کی کوشش کی۔لیکن میں نے اس کے دونوں ہاتھ اپنے ہاتھوں میں پکڑ لیے اور اپنا منہ زور سے اس کی چوت پر پریس کرتے ہوئے اپنی زبان اس کی چوت کے اندر ڈال دی۔شکیلہ کی گرم پھدی مجھے پاگل کر رہی تھی۔ اس لیے اب میں چارپائی سے نیچے زمین پر بیٹھ کر چارپائی پر لیٹی شکیلہ کی چوت کو مزے لے لے کر چاٹنے میں مصروف ہو گیا۔میری زبان کے مزے سے بے حال ہوتے ہوئے اب شکیلہ نے مجھے سر سے پکڑا ہوا تھا اور میں بہت مزے سے شکیلہ کی پھدی چوس رہا تھا۔جبکہ شکیلہ چارپائی سے اوپر اچھل اچھل کر اپنی چوت کو میرے منہ پر زور زور سے مارتی ہوئے سسکیاں نکال رہی تھی “آہhh، ہائے”۔تھوڑی ہی دیر کی چوت چٹائی کے بعد شکیلہ کا جسم زور زور سے کانپنے لگا اور اس کی چوت سے پانی کا ایک جھرنا بہتے ہوئے پورا کا پورا میرے منہ میں اتر گیا اور وہ فارغ ہو گئی۔شکیلہ کو اپنے منہ کے مزے سے فارغ کرواتے ہی میں ایک دم زمین سے اٹھ کر چارپائی کے ساتھ کھڑا ہوا اور بولا “اب نیچے لیٹا ہوں اور تم میرے اوپر بیٹھ کر میرا لڑکا اپنی پھدی میں ڈالو”۔شکیلہ سے یہ بات کہہ کر میں چارپائی پر لیٹ گیا تو میرا لورا تاک کر اوپر چھت کی طرف دیکھنے لگا۔میری بات پر عمل کرتے ہوئے شکیلہ میرے اوپر چڑھی اور پھر اپنے جسم کو ڈھیلا چھوڑتے ہوئے نیچے کو ہوئی۔ تو نیچے سے میرا تنا ہوا لورا آہستہ آہستہ شکیلہ کی گرم چوت میں سمانے لگا۔“ہائے کیا مزے دار لڑکا ہے تمہارا، اُففف کیا بات ہے کتنا مزہ آ رہا ہے مجھے” سسکیاں لیتی شکیلہ آہستہ آہستہ میرے لڑکے پر بیٹھ گئی تو میرا لڑکا اس کی پھدی میں پورے کا پورا سما گیا۔“اُففف کیا گرم اور تنگ چوت ہے تمہاری” اتنے مہینوں بعد میرے لڑکے کو بھی جب ایک گرم چوت کا سواد ملا تو مزے کے مارے میں بھی سسکار اٹھا۔میرے لڑکے کو اپنی چوت میں لیتے ہی، ہوس کے مارے شکیلہ اتنی گرم ہوئی کہ اب وہ میرے لڑکے پر بیٹھ کر تیزی کے ساتھ اوپر نیچے ہونے لگی اور اپنی چوت کو پاگلوں کی طرح میرے تنے ہوئے لڑکے پر زور زور سے مارنے لگی۔جس کی وجہ سے اس کے موٹے بڑے ممی ہوا میں ادھر ادھر اچھلنے لگے۔شکیلہ کے اس جوش اور اس کے ہوا میں اچھلتے ممی دیکھ کر مجھے بھی جوش آیا اور میں نے بھی اس کے بڑے ممیوں کو اپنے ہاتھوں میں پکڑ کر مسلتے ہوئے اپنی گاند کو چارپائی سے اٹھا اٹھا کر نیچے سے اس کی چوت میں اپنا لورا گھسانا شروع کر دیا۔اب کمرے میں عالم یہ تھا کہ شکیلہ میرے لڑکے پر بیٹھ کر زور دار حرکات سے اوپر نیچے ہو رہی تھی۔جبکہ میں اپنی گاند کو اٹھا اٹھا کر نیچے سے اپنی بہن کی سہیلی کی زور دار ٹھکائی سے چودائی کر رہا تھا۔شکیلہ کی موٹی گاند کے میرے ٹانگوں سے ٹکرانے اور نیچے سے میرا لڑکا بھی زور دار ٹھکائی سے اس کی پھدی میں گھسنے کی وجہ سے “ٹھاپ ٹھاپ” کی آوازیں کمرے میں گونج کر ہم دونوں کے جوش میں اضافہ کر رہی تھیں۔تھوڑی دیر شکیلہ کو اس طریقے سے چودنے کے بعد میں بولا “اب تم نیچے لیٹو اور میں تمہارے اوپر چڑھ کر تمہاری پھدی کو چودوں گا میری جان”۔میری بات سنتے ہی شکیلہ نے میرے لڑکے کو اپنی پھدی سے نکالا اور چارپائی پر میرے برابر لیٹ گئی۔چارپائی پر شکیلہ کے لیٹتے ہی میں نے اٹھ کر اس کی ٹانگوں کو اپنے ہاتھوں میں تھام کر کھولا اور اس کی چوت کو دیکھنے لگا۔“اُفففف شکیلہ کی پھدی میری چودائی کی وجہ سے کافی گیلی ہو چکی تھی اور اس میں سے چوت کا پانی ٹپک ٹپک کر اس کی رانوں کو بھگو رہا تھا۔شکیلہ کی ٹانگوں کو اپنے سامنے چوڑا کرتے ہوئے میں اپنا لڑکا اپنے ہاتھ میں پکڑا اور اپنا ٹوپا شکیلہ کی پھدی پر رکھ کر اس کی چوت کے دانے کو لڑکے کی ٹوپی سے مسلنے لگا۔“ہائے کیوں تڑپا رہے ہو مجھے، اب ڈال بھی دو اندر” میرے لڑکے کی رگڑ کو اپنی چوت کے بھگے لبوں پر محسوس کرتے ہی شکیلہ مچل اٹھی۔“اُفففف تمہاری چوت واقعی ہی میرے لڑکے کے لیے تڑپ رہی ہے، تو یہ لو میری رانی” شکیلہ کی سسکی بھری التجا سنتے ہی میں آگے بڑھا اور ایک جھٹکے میں اپنا پورا لڑکا ایک بار پھر شکیلہ کی پیاسی چوت میں اتار دیا۔“ہائے مار دیا تم نے ظالم” میرے زور دار گھسے کی وجہ سے جیسے ہی میرا لورا پھسلتا ہوا شکیلہ کی پھدی کی تہہ تک پہنچا تو مزے کے مارے شکیلہ ایک بار پھر سسکار اٹھی۔اب میں نے شکیلہ کی دونوں ٹانگوں کو اٹھا کر اپنے کندھوں پر رکھا اور اس کے اوپر چڑھ کر زور زور سے اس کی پھدی کی چودائی میں مصروف ہو گیا۔میں اب تیزی کے ساتھ اپنا لڑکا شکیلہ کی پھدی میں ڈال رہا تھا اور وہ نیچے سے اپنی گاند کو اوپر اٹھا اٹھا کر میرے لڑکے کو اپنی پیاسی چوت میں جذب کرتی جا رہی تھی۔کمرے میں ہماری چودائی کی وجہ سے پیدا ہونے والی “پچ پچ اور ٹھاپ ٹھاپ” کی آوازوں کے ساتھ چارپائی کی “چین چین” بھی ماحول کو بہت رنگین بنا رہی تھی۔اب ہم دونوں ہر بات سے بے فکر ہو کر صرف اپنی اپنی جنسی ہوس کو مٹانے کے لیے جوش میں اپنے لڑکے اور پھدی کا ملاپ کروانے میں مگن تھے۔تھوڑی ہی دیر بعد شکیلہ نے اپنے ہاتھ میرے بالوں میں پھیرتے ہوئے مجھے زور سے پکڑا اور اپنے سینے سے لگا لیا۔اتنے میں ایک “آہhh ہن” کی ٹوٹتی ہوئی آواز اس کے منہ سے نکلی۔ اور وہ زور سے کانپی اور پھر ساتھ ہی اس کا جسم ایک دم ڈھیلا پڑ گیا اور وہ ایک بار پھر فارغ ہو گئی۔شکیلہ کو یوں فارغ ہوتے دیکھ کر میرے لڑکے کو بھی جوش آیا۔ اور میں نے بھی ایک جھٹکے میں “آہhh” کرتے ہوئے اپنا سارا پانی شکیلہ کی گرم پیاسی پھدی میں خالی کر دیا۔میرے لڑکے سے بہت پانی نکلا جس سے شکیلہ کی ساری چوت بھر گئی اور میں ایک دم نڈھال ہو کر شکیلہ کے اوپر ہی لیٹ گیا۔تھوڑی دیر میں اور شکیلہ اس طرح لیٹ کر اپنی اپنی بکھری سانسوں کو بحال کرتے رہے۔“اُففف راحیل یقین مانو میرے شوہر نے مجھے آج تک اتنے مزے دار طریقے سے نہیں کبھی چودا، جتنے مزے دار انداز میں تم نے میری پھدی ماری ہے، تمہارے انداز سے لگتا ہے کہ تم آج سے پہلے بھی کافی دفعہ کسی کی چوت مار چکے ہو، کہاں سے سیکھا ہے یہ سب” اپنی بکھری سانسوں کو سنبھالتے ہی شکیلہ میرے جسم کے نیچے سے بولی اور اس نے ایک ہی سانس میں اتنے سارے سوالات ایک ساتھ کر دیے۔“تمہارے سارے سوالوں کا جواب میں بعد میں دوں گا، اب جلدی سے اپنے کپڑے پہن لو، کیونکہ مادیہ ابھی واپس آتی ہو گی” اپنے لڑکے کی گرمی دور کرتے ہی مجھے اپنی بہن مادیہ کا خیال دماغ میں ایک دم آیا اور میں تیزی کے ساتھ چارپائی سے اٹھ کر اپنے کپڑے پہنتے ہوئے شکیلہ سے بولا۔“تم اس کی فکر مت کرو، اس کی واپسی میں ابھی آدھا گھنٹہ باقی ہے” میری بات سن کر شکیلہ نے بڑے آرام سے میری بات کا جواب دیا اور اسی طرح ننگی حالت میں چارپائی پر لیٹی رہی۔شکیلہ کی بات اور اس کا پرسکون انداز دیکھتے ہوئے مجھے بہت ہی حیرانی ہوئی تو میں سوالیہ نظروں سے اس کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا “کیا تم نے مادیہ کو یہ سب کچھ بتایا ہے شکیلہ؟”“نہیں میں نے اس سے ایسی کوئی بات نہیں کی، مگر میں جانتی ہوں کہ وہ ایک سمجھدار لڑکی ہے” میری بات کا جواب دیتے ہوئے شکیلہ کے چہرے پر ایک مسکراہٹ پھیلتی چلی گئی۔شکیلہ کی بات سن کر میں نے ایک بار پھر حیرانی کے ساتھ اسے دیکھا۔ مگر اب کی بار میں خاموش رہا۔ کیونکہ اس کی بات کا میرے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔“اصل میں غلطی میری ہی ہے، مجھے یہ اندازہ نہیں تھا کہ مادیہ کو اس بات کی بھنک پڑ جائے گی، کہ میں اس کی سہیلی کے ساتھ کیا حرکت کرنے جا رہا ہوں، مجھے چاہیے تھا کہ میں شکیلہ کو کسی اور وقت ڈیرے پر بلاتا” اپنے لڑکے کا پانی نکل جانے کے بعد جب میرے دماغ سے مانی اتری تو میرے ذہن میں اب یہ بات آئی، مگر اب پچھتائے کے سوا کیا ہو سکتا تھا۔“راحیل تمہاری بہن اب بچی نہیں کہ ان باتوں کو نہ سمجھ سکے، مگر یہ بات مت بھولو کہ مادیہ تمہاری بہن ہونے کے ساتھ ساتھ میری ایک بہت اچھی سہیلی بھی ہے، اس لیے تم فکر مت کرو” میرے چہرے پر پھیلی پریشانی کو دیکھتے ہوئے شکیلہ چارپائی سے اٹھی اور اپنے کپڑے پہنتے ہوئے اطمینان بھرے لہجے میں مجھے سمجھانے لگی۔وہ کہتے ہیں نا کہ “اب پچھتائے کیا ہوا، جب چڑیاں چگ گئیں کھیت”۔اس لیے میں نے بھی اس بارے میں مزید پریشان ہونا مناسب نہ سمجھا اور خاموشی کے ساتھ واپس چارپائی پر آ بیٹھا۔شکیلہ نے اس دوران اپنے کپڑے پہنے اور پھر کمرے کا دروازہ کھول کر خود بھی سامنے والی چارپائی پر آ بیٹھی اور میرے ساتھ ادھر ادھر کی باتیں کرنے لگی۔مادیہ کے بارے میں شکیلہ کا اندازہ صحیح تھا۔ کیونکہ واقعی ہی مادیہ کی واپسی ہماری چودائی کے ختم ہونے کے ٹھیک آدھے گھنٹے بعد ہی ہوئی۔مادیہ کو کمرے میں آتا دیکھ کر نہ جانے کیوں تو میں نے اس کے چہرے کے تاثرات پڑھنے کی کوشش کی۔ مگر اپنی بہن مادیہ کے چہرے پر چھائی سنجیدگی کو دیکھ کر مجھے کسی بھی قسم کا اندازہ لگانے میں بہت دقت ہوئی۔شکیلہ کی مادیہ کے بارے میں کہی جانے والی بات کے بعد شکیلہ کے سامنے اپنی بہن کا سامنا کرنا میرے لیے ایک مشکل مرحلہ تھا۔اس لیے مادیہ کے کمرے میں آتے ہی میں دوسرے ہی لمحے خود اٹھ کر کمرے سے باہر نکل گیا۔میرے کمرے سے باہر جانے کے بعد مادیہ نے سارے برتن سمیتے اور پھر وہ دونوں بھی کمرے سے نکل کر چپ چاپ واپس گاؤں کی طرف چل پڑیں۔پھر شکیلہ اس کے بعد میری بہن مادیہ کے ساتھ روزانہ ہی ہمارے ڈیرے پر آنے لگی۔یہ سچ بات ہے کہ شکیلہ سے چودائی کے پہلے دن کے بعد میں اپنی بہن مادیہ کے رویے سے فکر مند تھا۔ کہ وہ میرے بارے میں کیا سوچے گی۔مگر مادیہ نے پہلے دن کے واقعے کے بعد اپنی کسی بات سے مجھے اپنی ناراضگی کا اظہار نہیں کروایا تو اس کی اس بات سے میرا حوصلہ اور بڑھ گیا۔اور پھر اس دن کے بعد مادیہ اور میرے درمیان شکیلہ کے حوالے سے ایک خاموش انڈرسٹینڈنگ پیدا ہو گئی۔اس دن کے بعد میں جوں ہی کھانے سے فارغ ہوتا تو مادیہ برتن دھونے کے بہانے کمرے سے نکل کر اپنی سہیلی شکیلہ کو میرے ساتھ کمرے میں اکیلا چھوڑ جاتی۔تو میں اور شکیلہ اس سنہری موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے آپس میں چودائی کرتے۔ اور پھر مادیہ کی “واپسی” کے بعد شکیلہ خاموشی کے ساتھ میری بہن کے ہمراہ گھر واپس چلی جاتی۔یہ سلسلہ تقریباً دو ہفتے تک چلتا رہا اور مجھے یہ وقت اپنی زندگی کا ایک حسین وقت لگ رہا تھا۔مگر وہ کہتے ہیں نا کہ “خوشی کے دن چار ہی ہوتے ہیں”۔اس لیے دو ہفتے بعد ایک دن مادیہ میرے لیے کھانا لے کر آئی تو اس دن وہ اکیلی ہی تھی۔“کیا بات ہے آج تمہاری سہیلی نہیں ساتھ آئی تمہارے” شکیلہ کو مادیہ کے ساتھ نہ دیکھ کر میں نے اپنی بہن سے پوچھا۔“رات کو اس کا شوہر آیا تھا اور وہ اسے اپنے ساتھ واپس ملتان لے گیا ہے” میری بات کو سن کر مادیہ نے جواب دیا۔ تو چوت سے محرومی کی یہ خبر دل کے ساتھ ساتھ میرے لڑکے پر بجلی بن کر گری۔اس دن کے بعد تو میرے لیے ایک بار پھر سے خزاں کا ہی موسم آ گیا تھا۔ اور اب شکیلہ کے جانے کے بعد میں نے ایک بار پھر اپنے پرانے ننگے سیکسی رسالوں کا سہارا لینے پر مجبور ہو گیا۔مگر اس دوران میں ایک بات کو محسوس کرنے میں فیل ہو گیا تھا۔ یا اس بات کو محسوس کرنے میں شاید کافی دیر کر دی تھی۔ اور وہ بات تھی میری بہن مادیہ کا میرے ساتھ پیش آنے والا رویہ۔جو شکیلہ کے جانے کے بعد ایک دم سے تبدیل ہو چکا تھا۔ مگر مجھے اس بات کو نوٹ کرنے میں تھوڑی دیر لگ گئی۔مادیہ اب میرے لیے ہر روز کھانا لاتی اور جب تک میں کھانا ختم نہ کر دیتا وہ میرے ساتھ والی چارپائی پر بیٹھ کر چوری چوری مجھے دیکھتی رہتی۔کھانے کے دوران جب بھی مجھے محسوس ہوتا کہ مادیہ کی نظریں میرے جسم پر گڑی ہوئی ہیں تو میں روٹی سے نظر ہٹا کر اس کی طرف دیکھتا تو وہ ایک دم اپنی نظریں چرا کر کمرے سے باہر دیکھنے لگتی۔“یہ میری بہن مادیہ کو کیا ہو گیا ہے، یہ اب میرے ساتھ پہلے کی طرح گپ شپ کیوں نہیں لگاتی آج کل، اور اس کی آنکھیں مجھے کیا پیغام دینا چاہ رہی ہیں” مادیہ کی آنکھوں میں جو بات چھپی تھی وہ مجھے جانی پہچانی لگ رہی تھی۔ مگر اس کے باوجود میں مادیہ کی آنکھوں میں پوشیدہ پیغام کو پڑھنے سے قاصر تھا۔اگرچہ مادیہ نے مجھ سے بات چیت کم کر دی تھی۔ مگر اس کے باوجود میں نے اس میں ایک اور تبدیلی محسوس کی۔ کہ اب وہ نہ صرف کھانا پکانے میں میری پسند اور ناپسند کا خیال رکھنے لگی تھی۔بلکہ وہ میرے کہے بغیر ہی گھر میں میرے کپڑوں کو دھونے اور ان کو استری کر کے میرے کمرے کی الماری میں رکھنے لگی تھی۔ساتھ ہی ساتھ میرے کھانا کھانے کے بعد بھی وہ ڈیرے پر بھی پہلے کے برعکس زیادہ دیر رک کر اس انتظار میں بیٹھی رہتی کہ میں کب اسے کسی بات کا حکم دوں تو وہ فوراً اٹھ کر میرا وہ کام کر دے۔مجھے اپنی بہن کے رویے میں آتی ہوئی اس تبدیلی پر حیرت تو ہوئی۔ مگر میں نے اس سے اس بارے میں کچھ بات نہیں کی۔شکیلہ کو گاؤں سے گئے ہوئے اب ایک مہینہ ہونے کو تھا۔ مگر شکیلہ کے جانے کے بعد سے میں نے اپنی بہن مادیہ سے اس کی سہیلی کے بارے میں کوئی بات کرنا مناسب نہ سمجھا تھا۔پھر ایک دن جب میں کھانا کھانے میں مصروف تھا کہ اس دوران مادیہ کمرے سے باہر نکل گئی۔کھانے سے فارغ ہو کر میں نے گندے برتن اٹھائے اور انہیں خود ہی دھونے کے لیے ٹیوب ویل کے ساتھ بنی ہوئی پانی کی ہودی (Reservoir) پر لے آیا۔ٹیوب ویل سے نکلنے والا پانی اسی ہودی میں جمع ہوتا رہتا۔ اور پھر ہودی میں جمع ہونے کے بعد وہ پانی یہاں سے نکل کر ہمارے سارے کھیتوں کو سیراب کرتا تھا۔پانی کی یہ ہودی اتنی بڑی اور گہری تھی کہ اس میں تین چار انسان اکٹھے کھڑے ہو کر بہت آرام سے ایک ساتھ نہا بھی سکتے تھے۔ہودی میں کھڑے پانی میں برتن دھوتے ہوئے میری نظروں نے مادیہ کو ڈھونڈنے کی کوشش کی۔ تو ادھر ادھر دیکھنے کے بعد مجھے اپنی بہن ڈیرے کے بڑے کمرے کی چھت (روف ٹاپ) پر کھڑی نظر آ ہی گئی۔مادیہ بڑے کمرے کی چھت پر کھڑی اپنے کھیتوں کا نظارہ کرنے میں مصروف تھی۔“میں تمہیں نیچے تلاش کر رہا ہوں اور تم اوپر چھت پر چڑھ گئی ہو، میں نے برتن دھو دیے ہیں انہیں لے کر گھر چلی جاؤ، امی انتظار کر رہی ہوں گی تمہارا” میں نے مادیہ کو چھت پر کھڑی دیکھ کر اسے آواز دی۔“اچھا بھائی میں ابھی آئی” میری بات سنتے ہی مادیہ نے جواب دیا اور چھت پر لگی سیڑھی کے راستے نیچے اترنے لگی۔بڑی چھت سے اتر کر مادیہ پہلے ٹیوب ویل کی چھت پر آئی۔ اور پھر ٹیوب ویل کی چھت سے بھی دوبارہ سیڑھی (Ladder) کے ذریعے اتر کر اس نے نیچے زمین پر آنا تھا۔برتن دھونے کے بعد نہ جانے مجھے کیا سوجھا کہ میں ٹیوب ویل کے ساتھ لگی سیڑھی کے نیچے آ کھڑا ہوا۔ اور اپنی بہن کے چھت سے نیچے اترنے کا انتظار کرنے لگا۔ٹیوب ویل کے ساتھ لگی سیڑھی پر آ کر مادیہ نے اپنا منہ چھت کی طرف کیا اور خود سیڑھی پر لگے ڈنڈے پر پیر رکھ کر الٹی حالت میں سیڑھی سے نیچے اترنے لگی۔ادھر مادیہ نے چھت سے الٹا ہو کر سیڑھی سے اترنا شروع کیا اور ادھر میں نے نیچے سے اپنا سر اوپر اٹھا کر مادیہ کی طرف دیکھا۔ تو سیڑھی کے اوپر کا منظر دیکھتے ہی میری آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں۔اصل میں سیڑھی سے نیچے اترتے ہوئے مادیہ کو گرنے کا ڈر لگا ہوا تھا۔ اس لیے نیچے اترتے وقت اس نے آگے کو جھکتے ہوئے سیڑھی کے بانس کو مضبوطی سے پکڑ لیا تھا۔ اس لیے جھک کر نیچے اترنے کے اس طریقے میں اب مادیہ کی بھاری گاند پیچھے سے ہوا میں اٹھ گئی تھی۔میرا لڑکا تو ایک مہینہ چوت سے دوری کی وجہ سے کسی عورت کی پھدی کا پہلے ہی پیاسا ہو رہا تھا۔ جبکہ مادیہ بے شک میری بہن تھی۔ مگر بہن ہونے سے پہلے وہ ایک جوان لڑکی بھی تھی۔اس لیے آج ہوا میں اٹھی ہوئی اپنی ہی بہن کی موٹی بھاری گاند کو دیکھتے ہی میرے لڑکے میں ایک جوش سا آ گیا۔ اور میرے نہ چاہتے ہوئے میرے لڑکے نے میری شلوار میں اپنی ہی بہن کی موٹی گاند کے لیے ہرنا شروع کر دیا۔اب مادیہ الٹی حالت میں سیڑھی سے نیچے اتر کر جوں جوں میرے نزدیک آ رہی تھی۔توں توں میری شلوار میں موجود میرے لڑکے میں اپنی بہن کی اٹھی ہوئی مستانی گاند کو دیکھتے ہوئے سختی آتی جا رہی تھی۔پھر مادیہ سیڑھی سے اتر کر جیسے ہی زمین پر آئی۔ تو میں ایک دم وہاں سے ہٹ کر دوبارہ کمرے کی طرف چل پڑا۔کیونکہ میں نہیں چاہتا تھا کہ میری بہن کی نظر میری شلوار میں ہرے ہوئے میرے لڑکے پر پڑے۔“اچھا بھائی میں گھر جا رہی ہوں” چھت سے نیچے آتے ہی مادیہ نے ٹیوب ویل کی ہودی کے پاس پڑے برتن اٹھائے اور گھر کی طرف چل پڑی۔“ٹھیک ہے” میں نے مادیہ کو ہلکی آواز میں جواب دیا اور دیکھتے دل کے ساتھ کمرے کے دروازے پر کھڑا ہو کر اپنی بہن کو گھر جاتا دیکھتا رہا۔میرے دل و دماغ میں اس وقت ایک عجیب سا طوفان مچا ہوا تھا۔آج مجھے انجانے میں اپنی ہی بہن کی بھاری گداز گاند کا دیدار ہوا تھا۔ اور میرے نہ چاہتے ہوئے میرے لڑکے کو اپنی ہی بہن کی گاند کی گرمی چڑھ چکی تھی۔مادیہ کے ڈیرے سے چلے جانے کے باوجود میرے لڑکے میں آئی ہوئی یہ گرمی ابھی تک کام نہیں ہوئی تھی۔جس کی وجہ سے میرا لڑکا تان کر میری شلوار میں ابھی تک ایک شان سے اکڑ کر کھڑا تھا۔میں کمرے کے دروازے پر کھڑے ہو کر مادیہ کو دور تک جاتا دیکھتا رہا۔پھر جیسے ہی مادیہ کا وجود میری نظروں سے اوجھل ہوا۔ تو میں نے ایک دم سے کمرے میں داخل ہو کر اپنی شلوار اتار دی۔میرے لڑکے میں اس وقت بہت گرمی چڑھ چکی تھی۔ اور اس گرمی کو اپنے ہاتھ سے ٹھنڈا کرنے کے سوا میرے پاس اور کوئی چارہ نہیں تھا۔اس لیے اپنے لڑکے کو ہاتھ میں تھامتے ہوئے میں نے اپنی آنکھیں بند کیں اور اپنے ذہن میں شکیلہ کے جسم کو لا کر اپنے لڑکے کی مٹھ لگانا شروع کر دی۔“ہائے شکیلہ” میں آنکھیں بند کر کے اپنی بہن کی سہیلی شکیلہ کی چوت کی مٹھ لگا رہا تھا۔کہ مٹھ لگاتے لگاتے اچانک میرے ذہن میں سیڑھی اترتی ہوئی اپنی بہن مادیہ کی موٹی اور بھاری گاند کا تصویر ایک بار پھر سے آ گیا۔“نا کر بہن چود وہ بہن ہے میری” مٹھ لگاتے وقت جوں ہی میرے ذہن میں مادیہ کے بارے خیال آیا۔ تو میں نے ایک دم اپنی آنکھیں کھول کر اپنے ذہن میں آتے اس خیال کو جھٹکتے ہوئے اپنے دل اور لڑکے کو سمجھانے کی کوشش کی۔مگر پھر اپنی آنکھوں کو دوبارہ سے بند کرتے ہوئے میں نے جیسے ہی شکیلہ کے بارے میں سوچنا چاہا۔تو میری بہن مادیہ کی باہر کو نکلی گاند ایک بار پھر میرے ہوش و حواس میں چھا چلی گئی۔چونکہ لڑکے کی گرمی کے ہاتھوں میں اب پاگل ہو چکا تھا۔ اس لیے اب کی بار اپنی بہن کی باہری گاند کے تصویر کو اپنے ذہن سے نکالنا میرے لیے ناممکن ہو گیا۔ اور پھر نتیجے کی پروا کی بغیر میں نے اپنے لڑکے پر تیزی کے ساتھ ہاتھ مارا اور کچھ ہی دیر بعد جوش سے چلا اٹھا “ہائے مادیہ”۔اس کے ساتھ ہی میرے لڑکے کو ایک زور دار جھٹکا لگا اور میرے لڑکے سے پانی کا ایک فوارہ اُبل پڑا۔ جس کے ساتھ ہی میرے لڑکے سے مانی نکل نکل کر کمرے کے فرش پر گرنے لگی۔آج پہلی بار اپنی بہن کے نام کی لڑکے کی مٹھ لگانے کے بعد میرے دماغ نے مجھے توہین (برا بھلا کہا) کی۔ اور اپنے لڑکے کو پاس پڑے ایک گندے تولیے سے صاف کرنے کے بعد میں نے چارپائی پر پڑی اپنی شلوار واپس تو پہن لی۔مگر میری شلوار میں میرا لڑکا کچھ سکون ملنے کے باوجود ہلکے ہلکے جھٹکے کھاتا ہوا اب بھی مجھے بدستور یہی کہے جا رہا تھا کہ “جانی یہ لڑکا مانگے مور”۔پھر اس رات گھر واپس آ کر جب میں سونے کے لیے اپنے بستر پر لیٹا۔ تو دن کو پیش آنے والا واقعہ میرے دماغ میں ابھی تک گھوم رہا تھا۔جس کی وجہ سے بستر پر کافی دیر ادھر ادھر کرورتیں بدلنے کے باوجود مجھے نیند نہیں آ رہی تھی۔میں بستر پر اپنی آنکھیں بند کیے لیٹا ہوا سونے کی کوشش کر رہا تھا۔ مگر نیند آنے کی بجائے میری بہن مادیہ کا چہرہ میری آنکھوں کے سامنے بار بار گھوم رہا تھا۔میری بار بار کی کوشش کے باوجود میری بہن کا خوبصورت اور جوان جسم میرے ہوش و حواس پر چھا چلا گیا۔ تو پھر اس رات اپنے بستر پر لیٹ کر میں ایک بار پھر سے اپنی بہن مادیہ کے بارے سوچنے لگا۔“ہائے اپنا سارا وقت کھیتی باڑی میں صرف کرنے کے دوران مجھے تو یہ احساس ہی نہیں ہوا کہ میری بہن مادیہ اب بچی نہیں رہی بلکہ وہ تو 24 سال کی ایک مدمست جوان لڑکی بن چکی ہے،اس کی سنولی رنگت کے باوجود اس کے جسم میں ایک عجیب سی کشش ہے، اوپر سے مادیہ کا بھرا ہوا جسم، رسیلے ہونٹ، پتلی کمر، اس کے سینے پر اس کی بھری ہوئی سودول چھاتیوں اور سب سے بڑھ کر اس کی باہر کو نکلی ہوئی گاند کی وجہ سے میری بہن مادیہ ایک قیامت خیز دوشیزہ بن چکی ہے”۔میں آج ایک بار اپنی ہی بہن کی جوانی کے متعلق نہ صرف یوں سوچ رہا تھا بلکہ اپنی بہن کی جوانی کو سوچتے ہوئے ساتھ ہی ساتھ اپنے لڑکے کو بھی ہاتھ میں پکڑ کر آہستہ آہستہ مسلنے بھی لگا تھا۔ابھی میں مادیہ کے بارے میں یہ سب کچھ سوچتے ہوئے گرم ہو رہا تھا کہ اتنے میں شکیلہ کی کہی ہوئی ایک بات دوبارہ سے میرے کانوں میں گونج اٹھی کہ “راحیل تمہاری بہن اب بچی نہیں کہ ان باتوں کو نہ سمجھ سکے”۔یہ بات سوچتے ہوئے ایک لمحے کے لیے میری آنکھیں بند ہوئیں تو میری بند آنکھوں کے سامنے اچانک ہی مادیہ کی آنکھیں آ گئیں “اُفففف جس طرح کی جنسی ہوس میں نے پہلی ملاقات میں شکیلہ کی آنکھوں میں دیکھی تھی، اسی طرح کی پیاس تو میری اپنی بہن مادیہ کی آنکھوں سے جھلک رہی ہے، جسے پڑھنے سے میں ابھی تک قاصر ہی رہا ہوں”۔اس بات کا خیال آتے ہی میں نے ایک دم اپنی آنکھیں کھولیں تو ایک اور بات میرے ذہن میں دور گئی کہ “ایک لڑکی ہونے کی حیثیت سے میری بہن مادیہ میں بھی جوان ہونے کے جذبات تو ہوں گے، تو اگر میں کوشش کر کے مادیہ سے شکیلہ کی طرح کے تعلقات قائم کرنے میں کامیاب ہو جاؤں تو مجھے اپنے ہی گھر میں ایک جوان اور گرم چوت دستیاب ہو سکتی ہے”۔یہ بات سوچتے ہی میں نے اپنے دل میں اس بات پر جلد عمل کرنے کا ارادہ کیا اور پھر اپنی آنکھیں بند کر کے سو گیا۔دوسرے دن میں کھانے سے فارغ ہوا تو مادیہ نے گھر واپس جانے کے لیے گندے برتن سمیتنا شروع کر دیا۔“مادیہ گھر واپس جانے سے پہلے تم آج میری بات سن کر جانا” مادیہ کو برتن اکٹھے کرتے دیکھا تو اپنی بہن سے کہا۔مادیہ نے برتن سمیتتے ہوئے بہت غور سے میری طرف دیکھا اور جواب دیے بغیر برتن دھونے باہر چلی گئی۔تھوڑی دیر بعد اپنے گیلے ہاتھوں کو تولیے سے صاف کرتے ہوئے مادیہ دوبارہ واپس کمرے میں داخل ہوئی اور دروازے پر کھڑے ہو کر میری طرف دیکھتے ہوئے کہا “جی بھائی”۔“ادھر آؤ اور میرے پاس بیٹھ کر میری بات سنو مادیہ” میں نے مادیہ کو اپنے پاس چارپائی پر آ کر بیٹھنے کا اشارہ کرتے ہوئے بولا۔میری بات سنتے ہوئے مادیہ کمرے میں داخل ہوئی اور خاموشی سے میرے پاس چارپائی پر آ بیٹھ گئی۔“اوہ، اُمم، مادیہ کیا تمہیں کچھ خبر ہے کہ شکیلہ کب تک دوبارہ گاؤں واپس آئے گی” مجھے سمجھ نہیں آئی کہ اپنی بہن سے بات کیسے شروع کروں اس لیے میں نے ہچکچاتے ہوئے پوچھا۔“کیوں خیریت ہے،” میرے سوال کا جواب میں مادیہ نے معصومانہ انداز میں الٹا مجھ سے سوال کیا۔“نہیں بس ایسے ہی پوچھ رہا ہوں” مادیہ کے جوابی سوال پر ایک دم بخلانے ہوئے میں بولا۔“میں یقین سے تو نہیں کہہ سکتی، مگر شکیلہ اب اگلی سردیوں میں ہی گاؤں آئے گی شاید” مادیہ نے میری بات کا جواب تو منہ سے بول کر ہی دیا۔ مگر اس کی طرف دیکھتے ہوئے مجھے ایسا لگا جیسے منہ کے ساتھ ساتھ اس کی آنکھیں بھی مجھے کچھ بتانا چاہ رہی تھیں۔“اوہhhhh نوooo، سردیاں آنے میں تو ابھی چھ ماہ باقی ہیں” مادیہ کی بات سنتے ہی میں بے صبری سے بولا۔“بھائی آج آپ بار بار شکیلہ کا ہی پوچھے جا رہے ہیں، کوئی خاص کام ہے اس سے کیا” میری بے چینی کو محسوس کرتے ہوئے مادیہ نے میری طرف دیکھا اور گنگلاتے ہوئے پھر سوال کیا۔ تو اس بار مجھے اپنی بہن کے لہجے میں تھوڑی سی جیلوسی سی محسوس ہوئی۔“اصل میں بات یہ ہے کہ میں شکیلہ کو بہت زیادہ مس کر رہا ہوں” اب کی بار میں نے گنگاتے ہوئے اپنی بہن مادیہ سے یہ بات کہہ ہی دی۔مادیہ نے میری بات سن تو لی مگر اس بار اس نے مجھے کوئی جواب نہیں دیا۔“مادیہ تمہیں پتا ہے کہ میں تمہاری سہیلی کو مس کیوں کر رہا ہوں” مادیہ کی خاموشی دیکھتے ہوئے ڈرتے دل کے ساتھ میں دوبارہ بولا۔ مگر میری بات کا جواب میں مادیہ اس بار بھی خاموش ہی رہی۔“میں جانتا ہوں کہ کچھ عرصہ پہلے میرے اور شکیلہ کے درمیان جو کچھ ہوا، اس کے بارے میں نہ صرف تمہیں سب پتا ہے بلکہ مجھے یقین بھی ہے کہ تم چپ کر میری اور شکیلہ کی ساری ملاقاتوں کو دیکھتی بھی رہی ہو مادیہ” مادیہ کی خاموشی کو دیکھتے ہوئے میں نے ڈرتے ڈرتے اپنی بہن سے اس بل آخر اپنی دل کی بات کر ہی دی۔مادیہ سے یہ بات کہتے ہی میں نے اپنی بہن کے چہرے کی طرف دیکھا۔ تو مادیہ کے چہرے کا بدلتا ہوا رنگ دیکھ کر میں فوراً سمجھ گیا کہ نہ صرف اپنی بہن مادیہ کے متعلق میرا اندازہ بالکل صحیح تھا بلکہ اب مادیہ کے ساتھ باتیں کرنے کے دوران شکیلہ کے حوالے سے میں نے اپنی بہن صحیح وار کیا تھا۔مادیہ نے اب کی بار بھی مجھے کوئی جواب نہیں دیا۔ جس کی وجہ سے میرا حوصلہ بڑھا اور میں ایک بار پھر بولا “تو تم واقعی ہی میری اور شکیلہ کی جاسوسی کرتی رہی ہو نا مادیہ”۔میری اس بات کو سنتے ہی مادیہ نے ایک دم گھبرا کر میری طرف دیکھا۔ اور پھر اسی گھبراہٹ اور بے اختیاری کے عالم میں اس نے اپنی نظروں کو میری کمر کے لے جا کر کمرے کی چھت کی طرف دیکھنا شروع کر دیا۔اپنی بہن کی آنکھوں کا پیچھا کرتے ہوئے میری اپنی آنکھیں بھی کمرے میں بنے ہوئے اس روشن دان پر جا اٹکیں۔ جس کی کھڑکی ٹیوب ویل کی چھت پر کھلتی تھی۔اس روشن دان کی ساخت ایسی تھی کہ ٹیوب ویل کی چھت پر بیٹھ کر روشن دان کے ذریعے بڑے کمرے کے اندر تو دیکھا جا سکتا تھا۔مگر کمرے کے اندر سے کھڑکی کو دیکھ کر یہ اندازہ نہیں لگایا جا سکتا تھا کہ کوئی شخص باہر بیٹھ کر کمرے میں جھانک رہا ہے۔“اچھا تو میری بہن ٹیوب ویل کی چھت پر چڑھ کر شکیلہ کے ساتھ میری چودائی کے کھیل کو دیکھتی رہی ہے” اپنی بہن کی نظروں کا تعاقب کرتے ہوئے میری نظر جیسے ہی کمرے کے روشن دان پر پڑی تو مجھے فوراً ساری بات سمجھ آ گئی۔یہ خیال ذہن میں آتے ہی میں نے روشن دان سے نظریں ہٹا کر ایک بار دوبارہ مادیہ کے چہرے کی طرف دیکھا۔ تو میں نے مادیہ کو اپنی طرف دیکھتا ہوا پایا۔اس بار جب ہم دونوں بہن بھائی کی نظریں آپس میں ملیں۔ تو اپنی چوری پکڑے جانے کی وجہ سے میری بہن مادیہ کا چہرہ شرم سے لال ہو چکا تھا۔“میں گھر جا رہی ہوں” پھر جوں ہی میری اور مادیہ کی نظروں کا ملاب ہوا۔ تو وہ مجھ سے نظریں چراتے اور ساتھ ہی چارپائی سے ایک دم اٹھتے ہوئے بولی۔“ابھی نہیں جاؤ نا” مادیہ کو چارپائی سے اٹھتے دیکھ کر میں نے ایک دم سے اس کی ہاتھ کی کلائی کو اپنے ہاتھ میں پکڑتے ہوئے کہا۔ تو میری شلوار میں میرا لورا گرم ہو کر ہرنے لگا۔“میرا ہاتھ چھوڑو بھائی مجھے جانا ہے” مجھے یوں اچانک اپنا ہاتھ پکڑتے ہوئے دیکھ کر مادیہ نے مزید گھبراتے ہوئے میری طرف دیکھا۔ اور ساتھ ہی اس نے اپنے ہاتھ کو میرے ہاتھ کی گرفت سے چھڑانے کی کوشش کی۔ مگر میں نے اس کی کلائی کو نہیں چھوڑا۔آج میں نے ہمت کر کے اپنی ہی جوان بہن کی کلائی پکڑ تو لی تھی۔ مگر میری اس حرکت پر میرے دماغ نے مجھے اسی وقت گنجوراتے ہوئے کہا “شرم کر بے غیرت، جانے دے اسے آخر بہن ہے یہ تیری”۔ابھی میں اپنے دماغ کی بات سن ہی رہا تھا کہ اتنے میں میرے دل اور لڑکے نے میرے اندر کے شیطان کو ایک دم جگاتے ہوئے مجھے کہا “آج اگر تم نے ہمت کر کے اپنی بہن کی کلائی پکڑ ہی لی ہے، تو اسے چھوڑنا مت، کیونکہ آج اپنی بہن کی عزت پر ہاتھ ڈالنے کا تمہارے لیے ایک بہت ہی سنہری موقع ہے، اور اگر تم نے آج بھی اس موقع سے فائدہ نہیں اٹھایا، تو یاد رکھو زندگی بھر پچھتاؤ گے راحیل”۔میرے اندر کے شیطان نے جوں ہی مجھے اپنی ہی بہن کی عزت سے کھیلنے کے لیے اکسایا۔تو کسی جوان اور گرم چوت کی طلب میں ہر کر میری شلوار میں پاگلوں کی طرح ادھر ادھر “آنے وا” ٹکرائیں مارنے والے میرے لڑکے نے خوشی سے دھمال ڈالنا شروع کر دی۔اس کے ساتھ ہی میرے لڑکے سے گرمی کی ایک لہر اٹھی۔ جو سیدھا میرے سر میں گھس کر میرے دماغ کو بند کر گئی۔ جس کی وجہ سے میرے دماغ نے کام کرنا بند کر دیا۔اب اپنی جنسی ہوس کے ہاتھوں مجبور ہو کر میں چارپائی سے اٹھا۔ اور پھر اپنی باہیں پھیلاتے ہوئے ایک دم اپنی بہن کے جوان گداز جسم کو اپنی بازوؤں کے گہرے میں کس لیا۔“اُففففف میری بہن کے جسم میں تو جیسے آگ ہی بھری ہوئی ہے” اپنی بہن کے جسم کو اپنی بازوؤں میں لیتے ہی مجھے ایسا لگا جیسے میں نے صحرا کی تپتی ریت کو ہاتھ میں لے لیا ہو۔مادیہ کے جسم سے نکلتی آگ نے میرے اندر کی آگ کو مزید بھڑکا دیا۔ جس کی وجہ سے اب میرا لڑکا ایک انگڑائی لے کر پورے جوش سے میری شلوار میں اکڑ چکا تھا۔“بھائی یہ کیا کر رہے ہیں آپ میرے ساتھ” میرے اس اچانک حملے سے مادیہ ایک دم بخلانے ہوئے بولی۔ اور اس نے اپنے آپ کو میری بازوؤں کے شکنجے سے چھڑانے کی کوشش بھی کی۔ مگر میں نے اسے اپنی بازوؤں سے نکلنے کا موقع نہیں دیا۔“میں تمہارے ساتھ بھی وہ سب کچھ کرنا چاہتا ہوں، جو تم مجھے شکیلہ کے ساتھ کرتا ہوا دیکھ چکی ہو مادیہ” یہ کہنے کے ساتھ ہی اپنی باہیں مادیہ کے جسم کے گرد کستے ہوئے میں اپنا چہرہ اس کے چہرے کے اتنے قریب لے آیا کہ ہم دونوں کے منہ سے نکلنے والی گرم سانسوں اب ایک دوسرے کی سانسوں سے ٹکرانے لگیں تھیں۔“نہیں نہیں، میں آپ کی بہن ہوں اور ہمارے درمیان یہ سب صحیح نہیں ہے بھائی” میری بات سنتے ہی مادیہ بولی اور اس نے میری بازوؤں کی گرفت سے نکلنے کی ایک بار پھر سے کوشش کی۔مگر مادیہ کے جسم کے گرد میری بازوؤں کا گہرا تنگ ہونے کی بجائے اب تنگ ہوتا گیا۔ جس کی وجہ سے میری بہن کے موٹے گداز ممی میری چھوٹی چھاتی میں پیوست ہوتے چلے گئے۔یہ میری زندگی میں پہلا موقع تھا جب میں اپنی بہن مادیہ کو اتنے قریب سے دیکھ اور ٹچ کر رہا تھا۔ اور اب اپنی بہن کے نرم ممیوں کا لمس اور اس کی چوت کی پیاس کی وجہ سے میں اس وقت “ابھی نہیں تو کبھی نہیں” والی صورتحال میں پھنس چکا تھا۔ جس کی وجہ سے میرے لیے اب پیچھے ہٹنا ایک ناممکن سی بات ہو گئی تھی۔یہی بات ذہن میں لے کر میں نے اپنے منہ کو تھوڑا اور آگے بڑھایا اور ایک دم سے اپنی سگی بہن کے نرم اور ملائم ہونٹوں کو پہلی بار ہلکا سا چوم لیا۔میرے ہونٹوں کے اپنے ہونٹوں سے چھوتے ہی میری بہن مادیہ نے اس اچانک حملے سے بخلا کر شرم کے مارے نہ صرف اپنی آنکھیں فوراً بند کر لیں۔بلکہ اپنے بھائی کے لبوں کا لمس پہلی بار اپنے جوان کنواری ہونٹوں پر محسوس کرتے ہی شرم کے مارے مادیہ کے جسم میں کپکپاہٹ سی ہونے لگی۔“بھائی کیوں تنگ کر رہے ہو، جانے دو نا مجھے” میری بے شرمنہ حرکت کو روکنے میں ناکام ہونے کے باوجود مادیہ نے ایک بار پھر میری بازوؤں سے نکلنے کی کوشش کی۔مگر پہلے کی نسبت اب کی بار اس کی مزاحمت میں زیادہ زور نہیں تھا۔“ہائے لگتا ہے کہ میرے لبوں کی گرمی نے میری بہن کی جوانی میں بھی آگ لگنا شروع کر دی ہے” پہلی بار یوں اپنی سگی بہن کے لبوں کی چومی لینے کے بعد اس کی ڈھیلی پڑتی مزاحمت کو محسوس کرتے ہوئے میرا حوصلہ مزید بڑھتا چلا گیا۔اس کے ساتھ ہی میں نے اپنے ہونٹوں کو مادیہ کے ہونٹوں سے الگ کرتے ہوئے اپنے گرم ہونٹوں کو اپنی بہن کے موٹے گالوں پر رکھ دیا۔“نہیں کرو نا بھائی” میری گرم زبان کو اپنے گورے گالوں پر چلتا محسوس کر کے مادیہ نے ایک بار میری منّت کی۔مگر اپنی بہن کی بات ان سنی کرتے ہوئے میں مادیہ کے پھولے ہوئے سوفٹ گالوں پر ہلکا ہلکا اپنی زبان گھماتا ہوا اپنا منہ اپنی بہن کے کان کے نزدیک لایا۔ اور پھر اپنی بہن کے کان میں آہستہ سے سرگوشی کی “تم بہت ہی خوبصورت ہو مادیہ، شاید تمہیں یقین نہ آئے، مگر میں تم سے بہت پیار کرنے لگا ہوں میری جان”۔یہ کہتے ہوئے میں مادیہ کے دائیں کان کو اپنے منہ میں بھر کر اپنی بہن کے کان کی لو (Earlobe) کے اوپر اپنی گرم زبان پھیرنے لگا۔“اوہhhhh نہیں” میری گرم زبان کے مزے سے بے حال ہوتے ہوئے میری بہن سسکاری۔مگر اس نے اپنی آنکھیں بدستور بند ہی رکھیں۔“مادیہ کی بند آنکھوں اور اس کے چہرے کے تاثرات کو دیکھ یوں لگتا ہے جیسے میری اس وقت کسی گہری سوچ میں مبتلا ہے، بے شک مادیہ میری بہن ہے لیکن اس سے پہلے وہ ایک جوان لڑکی بھی ہے، ایک لڑکی کی حیثیت سے اپنی سہیلی شکیلہ کی طرح شاید وہ میرے ساتھ سب کچھ کرنا تو چاہ رہی ہو، مگر بہن ہونے کے ناطے اسے اپنے ہی بھائی سے یہ سب کرتے ہوئے شرم بھی محسوس ہو رہی شاید” اپنی بازوؤں میں قید اپنی چھوٹی بہن مادیہ کو اپنی بند آنکھوں سے کسی سوچ میں ڈوبا دیکھ کر میرے ذہن میں یہ خیال آیا۔اب ایک طرف میری بازوؤں میں جکڑی مادیہ اپنی بند آنکھوں کے ساتھ اپنی سوچ میں مگن تھی۔مگر دوسری طرف اپنی بہن کی جسم کی حرکات اور اس کے چہرے کے تاثرات سے میں یہ اندازہ لگا سکتا تھا کہ اپنی بہن مادیہ کے ساتھ کی جانے والی میری چیڑ چانی اب آہستہ آہستہ اپنا کام دیکھنے لگی ہے۔اسی لیے مادیہ کے چہرے کے تاثرات پڑھتے ہوئے میں نے اپنا کام جاری رکھا۔ اور پھر اپنے ہاتھوں کو مادیہ کی کمر سے آہستہ آہستہ نیچے لاتے ہوئے میں نے اپنی بہن کی چھوٹی گاند کی پھریوں کو پہلی بار اپنے ہاتھوں میں دبوچ لیا۔“اوہhhhh کیا مزے دار جسم ہے تمہارا میری بہن” اپنی بہن کی گاند کو اپنے ہاتھوں میں کستے ہوئے میں نے مادیہ کے جسم کو زور سے اپنی طرف کھینچا۔تو میری شلوار میں ہرا ہوا لورا میری بہن کی گداز رانوں میں سے سرکنا ہوا پہلی بار شلوار کے اوپر سے ہی میری بہن کی کنواری چوت سے جا ٹکرایا۔“اوہhhhh” بھائی کے سخت لڑکے کی اپنی بہن کی ملائم کنواری چوت پر پہلی دستک ہوتے ہی، ہم دونوں بہن بھائی کے منہ سے سسکیاں نکل پڑیں۔تو ساتھ ہی مزے کے مارے مادیہ نے اپنی ٹانگوں کو آپس میں جکڑ لیا۔ جس کی وجہ سے میرا لڑکا اب اس کی گداز رانوں میں پھنس کر رہ گیا۔“ہائے مزے دار” اپنے لڑکے کو پہلی بار یوں اپنی سگی بہن کی رانوں میں پھنسا ہوا محسوس کرتے ہی میں نے اپنے جسم کو تھوڑا سا پیچھے کرتے ہوئے پھر ہلکا سا جھٹکا دیا۔تو شلوار کے اندر سے میرا لڑکا ایک بار پھر میری بہن کی گوشت بھری رانوں میں سرکتا ہوا دوبارہ مادیہ کی چوت سے ٹچ ہو گیا۔“اُففففف بھائی جان” اپنی کنواری چوت کے ساتھ اپنے ہی سگے بھائی کے گرم اور سخت لڑکے کا لمس محسوس کرتے ہی مادیہ کے صبر کا پیمانہ بھی ٹوٹ گیا۔ اور پھر خود سپردگی کے عالم اپنی باہیں میرے گردن کے گرد کستے ہوئے میری بہن چلا اٹھی۔ اور جوش کے مارے مادیہ نے میرے ہونٹوں کو اپنے ہونٹوں میں لیتے ہوئے گرم جوشی سے میرے لبوں کو چوسنا شروع کر دیا۔“اوہhhhh میرے ہونٹوں اور لڑکے کی گرمی کی بدولت میری بہن کی کنواری چوت بھی مچل ہی گئی ہے بالآخر” اپنی بہن مادیہ کو اپنی جنسی جذبات کے ہاتھوں مجبور ہو کر مجھے یوں دیوانہ وار چومتے ہوئے دیکھ کر میرے دل اور لڑکے دونوں باغ باغ ہو گئے۔اب ایک طرف مادیہ مست ہو کر میرے ہونٹوں کو چوسنے لگی۔ تو دوسری طرف میں بھی اس کی گرم جوشی کا جواب دیتے ہوئے دیوانہ وار اپنی بہن کے ہونٹوں کا رس پینے لگا۔اپنی بہن کے وجود پر جوانی کی گرمی کا اثر دیکھتے ہوئے مجھے مزید جوش آیا۔ اور اسی جوش میں جھپی ڈال کر میں نے مادیہ کے جسم کو زمین سے تھوڑا اوپر اٹھا لیا۔اور پھر مادیہ کے منہ میں زبان ڈال کر اس کی زبان چوستے ہوئے میں نے مادیہ کی کمیز کے اوپر سے اس کے گول گول ممیوں کو اپنے ہاتھ میں تھاما۔ تو بہن کے ممیوں کی موٹائی کی وجہ سے مجھے یوں لگا جیسے میں نے اپنے ہاتھ میں کوئی گبارا پکڑ لیا ہو۔اپنی بہن کی جوان کنواری چھاتی کو پہلی بار اپنے ہاتھ میں لیتے ہوئے میں نے مادیہ کے موٹے ممی کو جوش سے مسلا۔ تو درد اور سواد کی ملی جلی کیفیت سے مادیہ کے منہ سے آواز نکلی “اُچھhh، اوہhh”۔“اُففففف آج زندگی میں پہلی بار ایک مرد میری بہن کی جوان چھاتیوں کو اپنی مٹھی میں لے کر دبا رہا ہے، اور وہ مرد کوئی اور نہیں بلکہ خود اس کا اپنا سگا بھائی ہے” اپنی بہن کے گداز ممیوں کو اپنی مٹھی میں لے کر پیار سے آہستہ آہستہ مسلتے ہوئے میرے دماغ میں یہ خیال آیا تو میرے لڑکے کی گرمی مزید بھڑکنے لگی۔کمیز کے اوپر سے مادیہ کے ممی کو مسلنے میں مجھے بہت مزہ آ رہا تھا۔اس لیے kissing کے ساتھ ساتھ میں اپنی بہن کے جوان اور بھری ممیوں کو اپنے ہاتھوں میں لے کر کافی دیر تک دباتا اور مسلتا رہا۔ اور میرے ہاتھوں کے سواد سے مادیہ کے منہ سے سسکیاں نکلتی رہیں۔ “اوہhh ہائے اُفففف”۔پھر کچھ دیر اپنی بہن کے ہونٹوں کو چوستے اور اس کے موٹے ممیوں سے کھیلنے کے بعد میں نے مادیہ کی کمر سے اپنا ایک ہاتھ ہٹا کر مادیہ کی شلوار پر لایا۔ اور پھر اپنے ہاتھ کو شلوار کے اوپر سے ہی اپنی بہن کی پھولی ہوئی کنواری چوت پر رکھ دیا۔شلوار کے اوپر سے اپنی بہن کی چوت پر ہاتھ رکھتے ہی مجھے محسوس ہوا کہ اپنی جنسی ہوس کی آگ میں جلنے کی وجہ سے اس وقت میری بہن کی کنواری چوت پانی پانی ہو رہی تھی۔ اور wetness کی وجہ سے مادیہ کی شلوار کا اگلا حصہ بھی کافی گیلی ہو چکا تھا۔“اُففففف بھائی” جوں ہی میرے ہاتھ نے اپنی بہن کی ان چھوئی چوت کو ٹچ کیا۔ تو لذت کے مارے مادیہ کے منہ سے سسکیاں سی پھوٹنے لگیں اور جوش میں آ کر وہ میرے لبوں کو اپنے دانتوں سے کاٹنے لگی۔“ہائے کیا ملائم پھدی ہے تمہاری” شلوار پہنے ہونے کے باوجود اپنی بہن کی سافٹنس کا مجھے بخوبی اندازہ ہو گیا۔ اس لیے مادیہ کی شلوار کے اوپر سے ہی اس کی چوت کو آہستہ آہستہ مسلتے ہوئے میں نے کہا۔اسی دوران میں نے مادیہ کا ہاتھ پکڑا اور اسے لا کر شلوار میں تنے ہوئے اپنے موٹے سخت لڑکے پر رکھ دیا۔“کیسا ہے میرا لڑکا مادیہ” اپنے تنے ہوئے لڑکے کو اپنی سگی بہن کے ہاتھ میں پہلی بار دیتے ہوئے میں نے مادیہ سے سرگوشی کے انداز میں سوال کیا۔“اوہhh بھائی ایسی گندی باتیں تو نہ کرو نا پلیز” مادیہ نے شلوار میں ہرے میرے لڑکے سے ایک دم اپنا ہاتھ الگ کرتے ہوئے جواب دیا۔“ہائے اب اپنے آپ کو ایسی گندی باتیں سننے کا عادی کر لو، کیونکہ آج کے بعد میں نے ایسی کئی گندی باتیں تم سے کرنی بھی ہیں اور تمہارے منہ سے سننی بھی ہیں میری جان” مادیہ کی بات کا جواب دیتے میں بولا۔ اور پھر اپنی بہن کی شلوار کے نارے کو پکڑ کر جھٹکے سے کھینچ دیا۔جس کی وجہ سے میری بہن مادیہ کی شلوار اس کی کمر سے ڈھیلی ہو کر کمرے کے فرش پر جا گری۔آج اپنے ہی ہاتھ سے اپنی بہن کی شلوار کا نارا کھول کر اسے ننگا کرنے کے بعد میں نے ایک بار پھر مادیہ کا ہاتھ پکڑ کر اسے دوبارہ اپنے لڑکے پر رکھا۔ اور ساتھ ہی اپنے ہاتھ سے اپنی بہن کی چھوٹی گداز رانوں کو اپنی مٹھی میں دبوچ کر مسلنا شروع کر دیا۔“اوہhhhh بھائی جان” اپنی سوفٹ گداز ران پر پہلی بار اپنے جوان سگے بھائی کے ہاتھوں کی گرمی محسوس کرتے ہی مادیہ نے مزے سے چلتے ہوئے میرے کہے بغیر ہی جوش سے میرے لڑکے کو اپنی گرفت میں لیا۔ اور ساتھ ہی نیچے سے اپنی ٹانگیں میرے ہاتھ کے لیے مزید کھول دیں۔اپنی بہن کی اس مہربانی سے استفادہ کرتے ہوئے میں نے مادیہ کی گداز رانوں پر ہاتھ پھیرتے ہوئے ہاتھ کو آہستہ آہستہ اوپر لے کر اپنے ہاتھ کو دوبارہ سے اپنی بہن کی ننگی چوت پر رکھ دیا۔“اوہhhhh لگتا ہے تم نے مجھ سے چدوائے کے لیے ہی، آج ہی اپنی پھدی کی تازہ تازہ صفائی کی ہے شاید” اپنی بہن کی بغیر بالوں والی مخملی چوت پر پہلی بار اپنا ہاتھ پھیرتے ہوئے میں مزے سے بولا۔اور پھر مادیہ کی پانی پانی ہوتی چوت پر ہاتھ پھیرتے ہوئے میں اپنی انگلی کو اپنی بہن کی چوت کے کنواری لبوں پر آہستہ آہستہ پھیرنے لگا۔جوں ہی میری ہاتھ کی انگلیاں اپنی بہن کی چوت کے لبوں پر چلیں۔ تو میری انگلیوں کے مزے سے بے حال ہو کر مادیہ کا جسم کانپ اٹھا اور وہ سسکیاں بڑھتے ہوئے مجھ سے چپکتی چلی گئی۔“کیا تم واقعی ہی چپ چپ کر میری اور شکیلہ کی چودائی کا نظارہ کرتی رہی ہو مادیہ” اپنی بہن کی چوت کو اپنے ہاتھ سے ہلکا ہلکا مسلتے ہوئے میں نے مادیہ سے پوچھا۔“ہاں بھائی” میرے ہاتھ کی لذت سے محظوظ ہوتے ہوئے مادیہ نے جواب دیا۔“تو اپنی سہیلی کی چوت میں میرا لڑکا جاتا دیکھ کر کیا تمہاری چوت بھی گرم ہوتی تھی مادیہ” اپنی بہن کی بات سن کر میں نے جوش میں اپنے ہاتھ سے اس کی چوت زور سے مسلتے ہوئے پھر سوال کیا۔“اوہhhhh جی بھائی” میرے ہاتھ کے سواد سے مادیہ مزید گرم ہوتے ہوئے بولی۔“تو پھر میری اور شکیلہ کی چودائی دیکھنے کے دوران تم کیا سوچا کرتی تھیں میری جان” اپنی بہن کا جواب سنتے ہی میں نے اس سے ایک اور سوال پوچھ لیا۔“پلیز ایسے سوالات نہ کریں نا مجھ سے بھائی” میرے اس سوال کا ڈائریکٹ جواب دینے کی بجائے مادیہ نے بات ٹالنے کی کوشش کی۔“بتاؤ نا، میں تمہارے منہ سے یہ بات جاننا چاہتا ہوں میری جان” اپنی بہن کی چوت کے چولے پر اپنی انگلی پھیرتے ہوئے میں نے مادیہ سے دوبارہ وہی سوال پوچھا۔“اوہhh شکیلہ کی چودائی دیکھ کر میرا دل چاہتا تھا کہ اس کی جگہ میں اپنی ٹانگیں کھول کر آپ کے سامنے لیٹ جاؤں، اور شکیلہ کی طرح میں بھی آپ سے اپنی چوت کو چدوا لوں بھائی” اپنی پھدی پر چلنے والے میرے ہاتھ کی گرمی سے بے حال ہوتے ہوئے مادیہ نے دل میں چھپی خواہش کا پہلی بار اپنی زبان سے اعتراف کر لیا۔اس کے ساتھ ہی مادیہ نے اپنے ہاتھ میں پکڑے میرے لڑکے کی شلوار کے اوپر سے ہی بے شرمی کے ساتھ مٹھ لگانا شروع کر دی۔اپنی بہن کی بات کے ساتھ ساتھ اپنے لڑکے پر چلنے والے بہن کے ہاتھ کے کمال کی وجہ سے میرا روم روم کھل اٹھا اور میری خوشی کا ٹھکانہ نہ رہا۔جوش میں آ کر میں نے اپنی انگلی اپنی پیاری بہن کی کنواری چوت کے گلابی ہونٹوں پر زور سے رگڑی اور ساتھ ہی مزے سے سسکارتے ہوئے کہا “ہائے اگر اس بات کا مجھے پہلے علم ہوتا، کہ شکیلہ کے ساتھ ساتھ میری بہن کی چوت بھی میرے لڑکے کی طلبگار ہے، تو یقین مانو میں اب تک نہ جانے کتنی بار تمہیں چود چکا ہوتا میری بہن” اپنی بہن کی پھولی ہوئی چوت کو پر انگلیاں پھیرتے ہوئے میں بولا۔تو مادیہ کا مخملی جسم میری باہوں میں مچل اٹھا اور وہ بھی سسکتے ہوئے بول پڑی “اُفففف آپ نے اپنی حرکات کے ساتھ ہی ساتھ اپنی باتوں سے بھی میری چوت میں آگ لگا دی ہے بھائی”۔اپنی بہن کی یہ گرم بات سنتے ہی میں نے اپنی بہن کی چوت کو اپنی مٹھی میں دبوچا۔ تو دوسری طرف مادیہ کے ہاتھ کی گرفت میرے لڑکے کے گرد مضبوط ہوتی چلی گئی۔اور پھر سب رشتے ناتے بھلا کر ہم دونوں بہن بھائی نے ایک دوسرے کے لڑکے اور پھدی پر اپنے اپنے ہاتھ تیزی کے ساتھ چلانا شروع کر دیے۔کچھ دیر اپنے ہاتھ سے اپنی بہن کی چوت کو مزید گرم کرنے کے بعد میں نے مادیہ کی کمیز کو اس کے کونے سے پکڑا۔اور پھر پہلے اپنی بہن کی کمیز اور ساتھ ہی اس کا برازیئر بھی اتار کر اپنے ہاتھ سے اپنی سگی بہن کو مکمل برہنہ کر دیا۔اپنے ہاتھوں سے اپنی بہن کے جسم سے ایک ایک کر کے سارے کپڑے اتارنے کے بعد میں مادیہ سے الگ ہوا۔ اور تھوڑا پیچھے ہو کر کمرے میں کھڑی اپنی بہن کی ننگی جوانی کا نظارہ کرنے لگا۔واہ اس وقت ڈیرے کے کمرے میں کیا گزب کا منظر تھا۔ میری اپنی سگی بہن میری پیاسی آنکھوں کے سامنے کمرے میں پوری ننگی حالت میں کھڑی تھی۔ اور کمرے کی کھڑکی سے آتی روشنی میں چمکتے ہوئے میری سگی بہن مادیہ کا دودھیا جسم اس وقت مجھے دعوتِ گناہ دے رہا تھا۔میری بہن مادیہ کی بڑی اور گول گول چھاتی بہت سفید تھی۔ جس پر براؤن رنگ کے موٹے موٹے نپلز تھے۔ اور جو اس وقت میری بہن کی چوت کی گرمی کے اثر کی وجہ سے اکڑ کر اس کی جوان چھاتیوں پر کھڑے ہو چکے تھے۔اپنی بہن کی رس بھری چھاتیوں پر نگاہ ڈالنے کے بعد مادیہ کے پیٹ سے نیچے آتے ہوئے میں جوں ہی اپنی نظروں کو اپنی بہن کی ٹانگوں پر لایا۔ تو اپنی بہن کی گوشت بھری رانوں کے درمیان چھپے ہوئے اپنی بہن کے پوشیدہ خزانے پر میری نظر جم گئی۔“ہائے میں ہی وہ پہلا خوش نصیب ہوں، جس نے آج اپنی ہی جوان سگی بہن کی ٹانگوں میں چھپے خزانے کا پتہ چلا لیا ہے” اپنی بہن کی کنواری چوت کے پھولے لبوں کو دیکھ کر میرے منہ میں پانی آ گیا۔میری بہن کی ٹانگوں کے درمیان اس ان چھوئی شیوڈ چوت میرے ہاتھوں کی گرمی سے بے حال ہو کر ہلکا ہلکا پانی چھوڑ رہی تھی۔ اور یہ پانی اس وقت مادیہ کی چوت سے ٹپک کر میری بہن کی گوشت بھری رانوں پر بہہ رہا تھا۔“ہائے دودھ کی طرح یہ سفید بازو، بغیر کسی داغ کے صاف ستھرا ایسا جسم، اور اوپر سے ریشم کی طرح نرم جلد (Skin) اُففففف کیا گزب کا خوبصورت جسم ہے میری بہن کا” میں اپنے سامنے کھڑی اپنی بہن کی جوانی کو دیکھتے ہوئے یہ سب سوچ رہا تھا۔اپنی بہن کو اس کے کپڑوں کی قید سے آزاد کرنے اور اپنی آنکھوں کو اپنی بہن کے ننگے حسن سے اچھی طرح سنکانے کے بعد میں نے بھی اپنی شلوار کمیز اتاری اور پھر میں خود بھی اپنی بہن کے سامنے پورا ننگا کھڑا ہو گیا۔“کیسا لگا میرا لڑکا مادیہ” اپنی سگی بہن کی نظروں کے سامنے مکمل ننگا ہو کر میں نے اپنے ہاتھ سے اپنے ہرے ہوئے ننگے لورا کو مسلتے ہوئے پوچھا۔“نہیں پوچھیں مجھ سے ایسے سوالات بھائی، مجھے شرم آتی ہے ایسی باتیں کرتے ہوئے” میرے سامنے پوری ننگی حالت میں کھڑے ہو کر بھی میرے سوال پر مادیہ شرماتے ہوئے بولی۔“ہم دونوں کے درمیان اب اتنا سب کچھ ہونے کے بعد بھی تم اتنا کیوں شرما رہی ہو میری جان” مادیہ کی بات کے جواب میں گنگلاتے ہوئے میں نے کہا۔“اچھا بھائی اگر آپ مجبور کرتے ہیں تو بتا دیتی ہوں، کہ آپ کا لڑکا دور سے دیکھنے میں بھی موٹا اور لمبا نظر آتا تھا، مگر آج اتنے نزدیک سے دیکھنے میں تو یہ اور بھی بہت بڑا لگ رہا ہے، ویسے مجھے سمجھ نہیں آ رہی کہ یہ اتنا موٹا اور لمبا لڑکا میری سہیلی شکیلہ کے اندر جاتا کیسا تھا بھائی” میرے ننگے لڑکے کو پیاسی نظروں سے دیکھتے ہوئے میری سگی جوان بہن نے جوں ہی بے شرمی سے یہ بات کہتے ہوئے میرے لڑکے کی تعریف کی۔تو فخر اور غرور کے مارے میرا لڑکا مزید اکڑتا چلا گیا۔“ابھی چند لمحوں بعد جب میرا لڑکا تمہاری چوت میں جائے گا نا، تو تمہیں خود ہی پتہ چل جائے گا کہ تمہاری سہیلی میرے لڑکے کو کیسے اپنی چوت میں لے لیتی تھی میری جان” اپنی بہن کے سوال پر مست ہوتے ہوئے میں نے جواب دیا۔اس کے ساتھ ہی مستی میں آتے ہوئے میں نے مادیہ کو چارپائی پر لٹایا اور اس کے مخملی چوتر کے نیچے ایک تکیہ رکھ دیا۔ جس کی وجہ سے میری پیاری بہن کی چوت اوپر کو اٹھ گئی۔مادیہ کو چارپائی پر لٹانے کے بعد میں بھی چارپائی پر آیا اور پھر اپنی بہن کی ٹانگوں کے درمیان بیٹھ کر میں نے اپنی ہی سگی بہن کی کنواری چوت کے لبوں کو اپنے ہاتھوں سے کھول دیا۔“اُففففف کتنا دلکش اور حسین چوت ہے میری بہن کی” اپنی بہن کی چوت کے اندر کا گلابی حصہ میری نظروں کے سامنے آیا تو اپنی بہن کی چوت کی اندرونی خوبصورتی دیکھ کر میری رال ٹپک پڑی۔“ہائے چودائی سے پہلے کیوں نہ اپنی بہن کی اس پیاری اور کنواری چوت کا سواد چکھنے کے ساتھ اپنی بہن کی ان چھوڑی پھدی تھوڑی سی مہک بھی سوںگھ لوں میں” اپنی نظروں کے سامنے کھلی پھدی کو دیکھ کر میرے ذہن میں یہ خیال آیا۔ تو اس کے ساتھ اپنا سر نیچے جھکاتے ہوئے میں فوراً اپنا منہ اپنی بہن کی چوت کے اوپر لے آیا۔“ہوoooo کیا خوشبو دار پھدی ہے تمہاری مادیہ” اپنی بہن کی چوت کے لبوں کے نزدیک اپنی ناک لاتے ہوئے میں نے مادیہ کی کنواری چوت کی خوشبو کو سنگھا۔اور ساتھ ہی اپنی بہن کے ممیوں کو اپنے ہاتھ سے دباتے ہوئے اپنا منہ اپنی بہن کی چوت پر چپکا کر اپنی بہن کی چوت کو مزے سے چاٹنے لگا۔“اُففففف بھائی یہ کیسی آگ لگا دی ہے تم نے مجھے” اپنی چوت پر پہلی بار کسی مرد کے گرم ہونٹوں کے لبوں کو چسپاں ہوتے اور چوت پر چلتی گرم زبان کے مزے سے بے حال ہو کر مادیہ مزے سے چلاتی ہوئی بولی۔اب کمرے میں یہ حالت تھی کہ میرے منہ اور زبان کی گرمی سے بے حال ہو کر میری بہن مادیہ تو جیسے بے سود ہو چکی تھی۔ اور اسی بے خودی کے عالم میں وہ چارپائی پر نیچے سے اپنی گاند کو اوپر اٹھا اٹھا کر میرے منہ پر مار رہی تھی۔جبکہ میں چارپائی پر لیٹی ہوئی اپنی بہن کی کھلی ٹانگوں کے درمیان لیٹ کر اپنی بہن کی چوت کو اپنے منہ اور زبان سے چاٹ رہا تھا۔ اور ساتھ ہی ساتھ اپنی بہن کی چوت سے نکلنے والے گرم پانی کو شربت سمجھ کر پینے میں مصروف تھا۔کچھ دیر یوں ہی اپنی بہن کی چوت کا پانی پینے کے بعد اب میرا دل اپنی بہن کی چوت کو چودنے کو مچل اٹھا۔ تو اپنے منہ کو مادیہ کی چوت سے الگ کرنے کے بعد میں اپنی بہن کی ٹانگوں کے درمیان بیٹھا اور بولا۔ “تیار ہو جاؤ مادیہ، اب میں تمہیں ایک لڑکی سے عورت بنانے جا رہا ہوں، اور وہ بھی اپنی عورت”۔“ہائے جب سے آپ کو اپنی سہیلی کی چودائی کرتے دیکھا ہے، میں تو اسی وقت اس لمحے کے انتظار میں ترس رہی ہوں، کہ جب تم مجھے اپنی عورت بناو گے بھائی” میری بات سنتے ہی مادیہ کی جنسی بھوک اپنے عروج پر جا پہنچی۔ اور میرے لڑکے کو بھوکی نظروں سے دیکھتے ہوئے وہ سسکار اٹھی۔اب چارپائی پر اپنی بہن کی کھلی ٹانگوں کے درمیان بیٹھ کر میں بھی ہوس بھری نظر سے اپنی بہن کے ننگے حسن کو نہارتے ہوئے آگے کو جھکا۔ اور اپنے لڑکے کو پہلی بار اپنی بہن کی چوت پر رکھ کر اپنے لڑکے کے موٹے ٹوپے کو اپنی بہن کی کنواری چوت پر رگڑنے لگا۔“اوہhhhh” اپنی بہن کی کنواری چوت پر میرے لڑکے کی رگڑ سے ہم دونوں بہن بھائی کے منہ سے لذت بھری سسکی پھوٹ پڑی۔اپنی بہن کی یہ سسکی سن کر میں مست ہوا اور اسی مستی کے عالم میں میں نے مادیہ کی چوت پر پھرنے والے اپنے لڑکے پر دباؤ بڑھا دیا۔جس کی وجہ سے میرے لڑکے کا ٹوپا میری بہن مادیہ کی کنواری چوت کے لبوں میں دھنستا چلا گیا۔“اُففف کیوں تڑپا رہے ہو مجھے، اب ڈال بھی دو اندر بھائی” اپنی پھدی کے لبوں میں پھنسے ہوئے میرے لڑکے کی گرمی سے بے حال ہوتے ہوئے مادیہ چلائی۔اور اس کے ساتھ ہی اس نے چارپائی سے اپنی گاند کو اٹھا کر میرے لڑکے کو اپنی کنواری چوت کے اندر لینے کی کوشش کی۔“ٹھیک ہے تو پھر اب اپنی پھدی کو میرے لڑکے کے استقبال کے لیے تیار کر لو میری بہن” اپنی بہن کی بات کا جواب دیتے ہوئے میں نے کہا۔ اور اس کے ساتھ میں نے مادیہ کے جسم سے تھوڑا اوپر ہوتے ہوئے اپنے لڑکے کو اپنی بہن کی چوت کے لبوں سے باہر نکال لیا۔مجھے اپنے لڑکے کو اس کی چوت سے یوں الگ کرتے دیکھ کر مادیہ نے حیرت کے عالم میں میری طرف دیکھا۔ مگر اس سے پہلے کہ وہ کچھ بول سکتی۔ میں اپنے جسم کو تیزی کے ساتھ نیچے لا کر ایک جھٹکا مارا۔تو لوہے کی طرح سخت میرا لڑکا مادیہ کی چوت کے گلابی لبوں کو چیرتا ہوا میری بہن کی چوت میں گھستا چلا گیا۔میرے لڑکے نے میری بہن کی چوت کے کنواری پردے کو پھاڑ کر جوں ہی اپنی ہی بہن کی “ناتھ” کھولی۔تو درد اور مزے کے ملے جلے احساس سے مادیہ چیخ پڑی “ہائے مار گئی” اور اس کے ساتھ ہی اس کا جسم اکڑتا چلا گیا۔“اپنے جسم کو ڈھیلا چھوڑ دو، ابھی تھوڑی ہی دیر میں درد کم ہوتا چلا جائے گا میری جان” اپنے لڑکے سے اپنی بہن کو اپنی عورت بنانے اور اس کی چوت کو جنسی درد سے روشناس کروانے کے دوران میں نے مادیہ کو تسلی دیتے ہوئے سمجھایا۔ اور اس کے ساتھ ہی اپنے لڑکے کو مزید آگے بڑھانے کی بجائے میں نے تھوڑا رک کر اپنی بہن کے چہرے کی طرف دیکھا۔تو پتہ چلا کہ میرے لڑکے کے زور دار جھٹکے کی وجہ سے درد کے مارے نہ صرف میری بہن مادیہ کے چہرے کا رنگ بدل گیا تھا بلکہ ساتھ ہی ساتھ اس کی آنکھوں میں آنسو بھی ٹھہرنے لگے تھے۔“اوہhhhh مجھے بہت افسوس ہے کہ میں نے اپنی پیاری بہن کو اتنی تکلیف دی ہے آج، کہ درد کے مارے تمہارے آنسو نکل پڑے ہیں میری بہن” اپنی بہن کی آنکھوں میں سے بہتے آنسو کو دیکھتے ہوئے مجھے بہت شرمندگی محسوس ہونے لگی تو میں مادیہ سے بولا۔“اپنے ہی سگے بھائی سے اپنی کنواری چوت کی سیل ٹٹوانے کا احساس کسی قسمت والی کو ہی نصیب ہوتا ہے، اس لیے یہ درد کے نہیں بلکہ خوشی کے آنسو ہیں بھائی” میری بات کا جواب میں نیچے سے اپنی چوت اٹھا کر میرے لڑکے کو اپنے اندر مزید جذب کرتے ہوئے مادیہ بولی۔ تو اپنی بہن کے اس جواب سے مجھے حوصلہ ملا اور ساتھ ہی میرے لڑکے کو مزید جوش آتا چلا گیا۔پھر اسی جوش کے ساتھ میں اپنا منہ نیچے لایا اور اپنی بہن کی جوان چھاتیوں کو اپنے منہ میں بھر لیا۔“بہت پیاسے ہیں میرے ممی تمہارے ہونٹوں کے لیے، اوہhh چوسو میرے ممیوں کو، چوسو میرے نپلز میرے بھائی”۔میں نے جوں ہی اپنی بہن کے نپل پر اپنی گرم زبان پھیری تو مزے کے مارے مادیہ چلا اٹھی۔تھوڑی دیر اپنی بہن کے موٹے ممیوں کو چوسنے کے بعد میں نے اپنا منہ اپنی بہن کے رس بھرے نپلز سے الگ کیا اور مادیہ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھتے ہوئے بولا “میں تمہارا بہت شکر گزار ہوں کہ تم نے اپنی یہ کنواری چوت چودنے کا موقع مجھے دیا ہے مادیہ”۔اپنی بہن سے یہ بات کہتے ہوئے میں پھر پیچھے ہٹا اور اپنے لڑکے کو بہن کی چوت سے باہر نکال کر پھر تیزی کے ساتھ ایک اور جھٹکا لگایا۔تو اس بار میری بہن مادیہ کی چوت سے بہنے والے خون اور بہن کی چوت کے رس نے میرے لڑکے کا راستہ بہت آسان بنا دیا۔اور میرا لورا پھسلتا ہوا میری بہن کی پھدی میں پورا جار تک گھس گیا۔میرے لڑکے کے اندر جاتے ہی میری بہن مادیہ کی مخملی چوت کی ملائم دیواروں نے میرے لڑکے کو اپنی آغوش میں ایسے جکڑا کہ جیسے میری بہن کی چوت کی دیواریں صدیوں سے میرے لڑکے کے استقبال کی منتظر تھیں۔“ہائے شکیلہ کی چوت اچھی ہے یا میری بھائی” اپنی چوت میں میرے لڑکے کو پوری طرح جذب کرتے ہی میری بہن مادیہ نے مزے سے کرہتے ہوئے مجھ سے سوال کیا۔“اپنی سگی بہن کی چوت میں جو مزہ ہے، وہ شکیلہ تو کسی دنیا کی کسی اور چوت میں میسر نہیں ہے میری جان” اپنی بہن کی بات سن کر میں نے جواب دیا۔ اور اپنا سر جھکا کر مادیہ کی کھلی ٹانگوں کی طرف نظر ڈالی جہاں میرا لڑکا اس وقت اپنی بہن کی چوت میں مکمل طور پر داخل ہو چکا تھا۔اپنے لڑکے کے گرد لپٹے اپنی بہن کی چوت کے لبوں کی گرمی محسوس کر کے مجھے اس وقت یوں محسوس ہو رہا تھا کہ جیسے میرا لڑکا آگ کی بھٹی میں گھس گیا ہو۔مگر چوت کی اتنی تپش اور گرمائش کے باوجود بھی مجھے اپنی بہن کی چوت میں اپنا لورا ڈال کر اس وقت جنت کا مزہ مل رہا تھا۔اب میں اپنی بہن کی چوت کا پورا مزہ لینے کے موڈ میں آ گیا اور پھر اپنی بہن کے گلابی ہونٹوں کو اپنے ہونٹوں سے چومتے اور اپنی بہن مادیہ کی چوت میں زور دار گھسے مارتے ہوئے میں اپنی بہن کی ٹائٹ چوت کو اپنے لڑکے سے مزید کھولنے میں لگ گیا۔“ہائے آج اپنی ہی سگی بہن کی کنواری چوت کی سیل کھول کر آپ نے یہ بات سچ ثابت کر دی ہے کہ مرد اور عورت کا ایک ہی رشتہ ہوتا ہے اور وہ ہے لڑکے اور چوت کا رشتہ، اور اس رشتے کے آگے باقی سب رشتے بے کار ہیں”۔میری چودائی کے زور دار گھسے کا مزہ لیتے ہوئے مادیہ بولی۔ اور اس کے ساتھ ہی اس نے چارپائی سے اپنی گاند اٹھائی اور نیچے سے اپنے چوتر اوپر اٹھا اٹھا کر میرے زور دار گھسوں کا جواب دینے لگی۔میری بہن چارپائی سے اپنے چوتر اٹھا کر مجھ سے چدوا رہی تھی جبکہ میرے ہاتھ مادیہ کے چوتر کو تھام کر اس دوران مادیہ کو اپنے جسم سے چپکا رہے تھے۔“اُفففف مادیہ، تمہاری چودائی کا یہ انداز دیکھتے ہوئے تو نہیں لگتا کہ تم ایک کنواری لڑکی ہو، جو آج پہلی بار اپنی چودوائی کروا رہی ہے” اپنی بہن کو یوں چارپائی سے اپنی گاند اٹھا کر اپنی پھدی کو میرے لڑکے پر زور زور سے مارتی دیکھ کر مجھے حیرت ہوئی اور میں نے چودائی کے دوران مادیہ سے سوال کیا۔“ہاں ابھی چند لمحے تک بے شک میں کنواری ضرور تھی، مگر چودائی کے یہ طریقے میں نے کسی اور سے نہیں، بلکہ آپ اور شکیلہ کی چودائی کو دیکھتے ہوئے ہی سیکھے ہیں بھائی” میرے سوال کا جواب دیتے ہوئے مادیہ نے اپنی گاند کو ایک بار پھر اوپر کیا اور میرے لڑکے کو اپنی چوت میں جذب کر لیا۔“اوہhhhh مجھے خوشی ہے کہ میری بہن نے کمرے کے روشن دان سے چپ چپ کر دیکھتے ہوئے پیار کا یہ سبق نہ صرف مجھ سے سیکھا ہے بلکہ اسی سبق کی ٹیوشن میری بہن اب مجھے ہی پڑھا بھی رہی ہے” اپنی بہن کی بات سنتے ہی میرے لڑکے میں مزید جوش آیا۔ اور میں چارپائی پر لیٹی اپنی بہن کی ٹانگوں کو کھول کر اپنی بہن کی چوت میں اپنے لڑکے کے گھسے زور زور سے مارنے لگا۔میں اب اپنی کمر ہلا ہلا کر اپنی سگی بہن کو چودنے میں مصروف تھا۔ میں چودائی کے نشے میں اس وقت بالکل جانور بنا ہوا تھا اور شاید مادیہ بھی۔مادیہ کو اب میری چودائی سے درد نہیں ہو رہا تھا۔ بلکہ اب وہ فل مزے میں تھی اور میرے دھکوں کا جواب اوپر کی طرف اچھل کر اپنی چوت میرے لڑکے کی طرف دھکا مار کر دے رہی تھی۔مادیہ کو چودنے کے دوران میں نے چودائی کی سپیڈ میں تیزی کر دی۔ اور اسی تیزی کی وجہ سے میرے ٹوٹے میری بہن کی گاند کی پھریوں پر زور سے ٹکراتے تو کمرے میں “پھچک پھچک” کی آواز پیدا ہو رہی تھی۔ہم دونوں بہن بھائی کی چودائی اس وقت اپنی انتہا تک پہنچ چکی تھی۔زور دار چودائی کی وجہ سے ہمارے جسم پسینہ پسینہ ہو چکے تھے۔ مگر اس کے باوجود ہم ایک دوسرے کو پاگلوں کی طرح چود رہے تھے۔اس زبردست چودائی کے اثر کی وجہ سے میرے ٹٹوؤں میں میرے لڑکے کا رس اس وقت اتنے زور سے اُبال رہا تھا کہ میں اب کسی بھی وقت اپنے لڑکے کا رس اپنی بہن کی چوت میں چھوڑ سکتا تھا۔ادھر دوسری طرف مادیہ بھی جس رفتار سے اپنی گاند اچھل رہی تھی۔ اسے دیکھ کر میرے لیے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں تھا کہ اب اس کی پھدی بھی فارغ ہونے کے قریب پہنچ چکی تھی۔“ہائے میں تمہاری چوت میں فارغ ہونے لگا ہوں مادیہ” اپنی بہن کی چوت میں زور دار گھسے مارتے ہوئے میں نے اپنی بہن سے کہا۔“ہاں ڈال دو میری چوت میں اپنے لڑکے کا پانی بھائی” میری بات سنتے ہی مادیہ مزے سے سسکارتے ہوئے بولی۔ اور اپنی چوت کے لبوں کو میرے لڑکے کے گرد مزید کس لیا۔اپنی بہن کی چوت کو یوں اپنے لڑکے کے گرد کستا ہوا محسوس کرتے ہی میرے لڑکے کا بند ٹوٹ گیا۔ اور میں نے اپنے رس کا فوارہ اپنی سگی بہن کی چوت میں چھوڑ دیا۔میرے لڑکے سے گرم مانی نکل کر جوں ہی مادیہ کی چوت کے اندر گرا۔ تو میرے لڑکے کے گرم پانی سے مادیہ کے جسم کو ایک جھٹکا لگا اور اس کے ساتھ وہ بھی چلا اٹھی “میں بھی گئی، میری چوت بھی فارغ ہونے لگی ہے بھائی”۔اب کمرے میں ہم دونوں بہن بھائی کے جھٹکے کھاتے جوان جسم اپنا اپنا گرم پانی خالی کر رہے تھے۔جس کی وجہ سے اب ایک سگے بھائی کے لڑکے کا گرم مواد اپنی بہن کی چوت کی تہہ میں گر کر بہن کی چوت کے رس میں مکس ہو رہا تھا۔اپنے لڑکے کا سارا جوس اپنی بہن کی پھدی میں چھوڑ کر میں نے اپنا منہ نیچے کیا۔ اور اپنی بہن کے موٹے ممیوں کو اپنے منہ میں بھر کر چوستے ہوئے کہنے لگا “اُففف مادیہ، لوگ صحیح کہتے ہیں نا ممنوعہ پھل کھانے کا ایک الگ ہی مزہ ہے اور آج اپنے ہی گھر کا سب سے ممنوعہ پھل کھا کر مجھے جو مزہ ملا ہے وہ آج سے پہلے کبھی زندگی میں نہیں ملا میری بہن”۔“ہائے مجھے بھی خوشی ہے کہ میری چوت سے آپ کے لڑکے کو ایک نئی راحت ملی ہے، اس لیے اب میرا آپ سے وعدہ ہے کہ آج کے بعد آپ کی بہن کی چوت آپ کے لڑکے کے لیے ہمیشہ تیار رہے گی اور میں آپ کو شکیلہ کی کمی کبھی محسوس نہیں ہونے دوں گی بھائی” میری بات کا جواب دیتے ہوئے مادیہ نے اپنی چھاتی پر جھکے میرے سر کو اپنے ہاتھوں سے نیچے دباتے ہوئے میرے منہ میں اپنا موٹا نپل ٹھونس دیا۔تو میں بھی جوش میں آتے ہوئے مزے لے لے کر اپنی بہن کی جوانی کا رس پینے لگا۔“بھائی اب بس کرو اور مجھے گھر جانے دو، امی میرا انتظار کر رہی ہوں گی” اپنی بہن کی چوت میں فارغ ہونے کے بعد بھی جب میں کافی دیر تک اپنی بہن کے ممیوں کو چومتا اور چاٹتا رہا۔تو پھر تنگ آ کر مجھے اپنے آپ سے زبردستی الگ کرتے ہوئے مادیہ بالآخر بول ہی پڑی۔اپنی بہن کے گرم اور حسین بدن سے الگ ہونے کو میرا دل تو نہیں چاہ رہا تھا۔مگر ہماری چودائی کی وجہ سے مادیہ کو گھر جانے میں واقعی ہی آج کافی دیر ہو گئی تھی۔ اس لیے نہ چاہتے ہوئے بھی میں مادیہ سے الگ ہو کر چارپائی پر لیٹ گیا۔مادیہ بستر سے اٹھی اور اس نے اٹھ کر کمرے کے ایک کونے میں پڑے ایک پرانے تولیے سے اپنی چوت سے نکلنے والے خون اور میرے لڑکے کے پانی کو اچھی طرح صاف کیا۔ اور پھر اس نے کمرے کے فرش پر بکھرے ہوئے اپنے کپڑے اٹھا کر پہن لیے۔اس دوران میں چارپائی پر لیٹ کر اپنی بہن کو خاموشی سے دیکھتا رہا۔کپڑے پہننے کے بعد مادیہ نے کھانے کے برتن اٹھائے اور خاموشی سے کمرے سے باہر نکلنے لگی۔“مادیہ بات سنو” اپنی بہن کو کمرے سے باہر جاتے دیکھ کر میں نے چارپائی پر بدستور لیٹے لیٹے مادیہ کو آواز دی۔“جی بھائی” مادیہ نے مڑ کر میری طرف دیکھا تو شرم سے اس کا منہ لال ہو رہا تھا اور اب وہ مجھ سے نظریں ملانے سے کترا رہی تھی۔“ابھی چند لمحے پہلے میری بہن اپنی گاند اٹھا اٹھا کر مزے سے اپنی چوت کو پہلی بار مجھ سے چدوا رہی تھی، اور اب میری وہی بہن شرم کے مارے مجھ سے نظریں چُرا رہی ہے، واہ رے عورت، تجھے سمجھانا کتنا مشکل ہے” مادیہ کے اس انداز کو دیکھتے ہوئے میرے ہونٹوں پر ہنسی پھیلتی چلی گئی۔“آج رات اپنے کمرے میں میرا انتظار کرنا” میں کمرے کے دروازے پر انتظار کرتی اپنی بہن کی طرف دیکھتے ہوئے بولا اور ساتھ ہی اپنے ڈھیلے لڑکے پر اپنا ہاتھ پھیرتے ہوئے اپنی بہن کو “انکھ” بھی مار دی۔“میری بات اور میری انکھ کی حرکت مطلب سمجھتے ہی مادیہ کے چہرے پر بھی ایک مہنی خیز مسکراہٹ پھیلی اور وہ مسکراتے ہوئے کمرے سے باہر چلی گئی۔“ہائے میں نے اپنی ہی سگی بہن کی کنواری چوت کو چود کر اس کی پھدی میں اپنے لڑکے کا پانی چھوڑ تو دیا ہے، لیکن اگر وہ پیٹ سے ہو گئی تو امی اور گاؤں کے باقی لوگوں کو کیا جواب دوں گا میں” اپنی جنسی ہوس کے ہاتھوں مجبور ہو کر میں آج اپنی سگی بہن کی چوت کا سواد تو چکھ چکا تھا۔ مگر اب اپنے لڑکے کی گرمی کام ہونے کے بعد مجھے اپنی غلطی کا احساس ہو رہا تھا۔“مجھے آئندہ ہر صورت اس بارے میں بہت احتیاط کرنا پڑے گی راحیل” اپنی غلطی کا احساس ہونے کے بعد میں نے سوچا تو میرے ذہن میں ایک آئیڈیا آیا اور پھر میں بھی اپنے کپڑے پہن کر موٹر سائیکل پر گجرات شہر چلا گیا۔گجرات شہر پہنچ کر میں نے وہاں ایک میڈیکل سٹور سے اپنے لیے کنڈومز کا ایک پورا ڈبا لیا۔ اور ساتھ میں اپنی بہن مادیہ کے لیے حمل روکنے والی گولیاں (Contraceptive pills) بھی خرید لیں۔“میں آج گھر جاتے ہی مادیہ کو ایک گولی کھانے کے لیے دے دوں گا، تاکہ ہماری چودائی کے دوران میری بہن پرگننٹ ہونے سے بچ سکے” اپنی ہی بہن کے منع حمل گولیاں خریدتے وقت میرے ذہن میں یہ خیال آیا تو آنے والی رات کے تصور سے ہی میرے لڑکے میں دوبارہ سے ہلچل ہونے لگی۔چونکہ کنڈومز کے ساتھ چودائی کی وجہ سے لڑکے اور چوت کی جلد آپس میں رگڑ نہیں کھاتی۔ جس کی وجہ سے کنڈوم پہن کر چودائی کرنے میں مجھے زیادہ مزہ نہیں آتا۔مگر مجھے پتا تھا کہ پرگننسی روکنے والی ان گولیوں کا اثر انہیں کھانے کے کچھ دن بعد ہوتا ہے۔اس لیے جب تک حمل روکنے والی گولیاں اپنا اثر دکھانا شروع نہ کر دیں۔ اس وقت تک کنڈومز استعمال کرنا اب میری مجبوری ہی تھی۔اس شام جب میں گھر واپسی پر میری نظریں اپنی بہن کے جوان جسم کی تلاشی تھیں۔لیکن شاید وہ مجھے تڑپانا چاہ رہی تھی۔ اس لیے مادیہ جان بوجھ کر فوراً میرے سامنے نہیں آئی۔بلکہ وہ کافی دیر اپنے کمرے میں ہی بیٹھ کر میرا سامنا کرنے سے کتراتی رہی۔مگر گھر میں صرف تین افراد ہونے کی وجہ سے اس کے لیے بہت دیر تک مجھ سے چھپ کر رہنا ایک ناممکن سی بات تھی۔اس لیے میرے گھر آنے کے دو گھنٹے بعد بالآخر مادیہ کو میرا سامنا کرنا ہی پڑ گیا۔مگر اپنی بہن کی چودائی کے بعد پہلی دفعہ اپنے گھر میں ہمارا آمنا سامنا ہونے کے باوجود میں نے اپنی امی کے سامنے اسے ایسے ہی شو کیا جیسے ہمارے درمیان کبھی کچھ ہوا ہی نہیں تھا۔پھر جب امی کسی کام کے لیے کچن میں گئیں تو میں نے اپنی جیب سے نکال کر مادیہ کو گولیوں کا پیکٹ دیا اور بولا “کھانے کے فوراً بعد اس پیکٹ میں سے ایک گولی نکال کر کھا لینا مادیہ”۔میری بات سنتے ہوئے مادیہ نے اپنے ہاتھ میں تھمی گولیوں کی طرف دیکھا اور پھر حیرت سے مجھے دیکھنے لگی۔اس سے پہلے کہ وہ مجھ سے کوئی سوال کر پاتی امی دوبارہ کمرے میں داخل ہو گئیں۔ جس کی وجہ سے میری بہن گولیوں کو اپنی مٹھی میں دباتے ہوئے کمرے سے باہر چلی گئی۔پھر امی کے سونے کے بعد رات کے ایک بجے میں اپنے کمرے سے اٹھ کر دبے پاؤں اپنی بہن مادیہ کے کمرے میں داخل ہوا تو بستر پر چادر اوڑھ کر لیٹی اپنی بہن مادیہ کو اپنا منتظر پایا۔“آپ رات کے ایک بجے اپنی جوان بہن کے کمرے میں کیا کرنے آئے ہیں بھائیہ” مجھے آہستہ سے دروازہ کھول کر چوروں کی طرح اپنے کمرے میں آتا دیکھ کر بستر پر لیٹی میری بہن نے مجھے چھیڑتے ہوئے پوچھا۔“رات کی تنہائی میں اس وقت تمہارا بھائیہ نہیں بلکہ تمہارا سایاں تم سے ملنے آیا ہے میری جان” مادیہ کی شوخی بھری بات کا جواب دیتے ہوئے میں نے دروازے کی کنڈی لگائی۔ اور اپنے کپڑے اتار کر بستر پر موجود اپنی گرم بہن کے پہلو میں جا لیٹا۔ تو چادر کے نیچے مادیہ پہلے ہی سے ننگی حالت میں لیٹی ہوئی تھی۔“ہائے تم تو اپنے سارے کپڑے اتار کر پہلے سے ہی چودنے کے لیے تیار لیٹی ہوئی ہو مادیہ” میرے ہاتھوں نے چادر کے نیچے سے اپنی بہن کے گرم جسم کو جوں ہی چھوا تو اپنی بہن کو میرے انتظار میں یوں ننگا لیٹا ہوا پا کر مجھے خوشگوار حیرت ہوئی تو میں نے خوشی کے عالم میں اپنی بہن کے کان میں سرگوشی کی۔“آج دن میں اپنی چوت آپ سے چدوائے کے بعد سے اب تک میری پھدی آپ کے لڑکے کی طلب میں پاگل ہو رہی ہے، اس لیے بغیر کوئی وقت ضائع کیے بغیر میری چوت میں اپنا لڑکا ڈال دو بھائی” میری بات کا جواب میں مادیہ نے نہایت بے شرمی سے فرمائش کی۔ تو میرے لیے بھی اپنی بہن سے مزید دور رہنا ناممکن ہو گیا۔“اس کا مطلب ہے کہ جوانی کی آگ دونوں طرف برابر لگی ہوئی ہے میری جان” اپنی بہن کی بات کا جواب دیتے ہوئے میں نے مادیہ کو الٹا کیا اور پھر اپنے لڑکے پر کنڈوم چڑھا کر گوری بنی اپنی بہن کی چوت میں اپنا لورا ڈال دیا۔اس رات میں نے دو بار اپنی بہن مادیہ کی چوت کا مزہ لیا۔ اور پھر اپنے لڑکے کا پانی آخر کار کنڈوم میں ہی نکالا اور اس کے بعد اپنے کمرے میں آ کر سکون کی نیند سو گیا۔اس دن کے بعد تو جیسے میری زندگی میں بہار ہی آ گئی تھی۔ کیونکہ اگلے ایک ہفتے کے دوران میں اور مادیہ نے اپنی رہی سہی شرم بھی اتار پھینکی اور ہم دونوں بہن بھائی آپس میں کافی کھل گئے۔جس کی وجہ سے ہمیں جب بھی موقع ملتا تو ہم گھر اور ڈیرہ دونوں جگہ پر کھل کر چودائی میں مصروف ہو جاتے تھے۔ اور میں اپنی بہن کو مختلف انداز میں چودنے کے ساتھ ساتھ میں نے نہ صرف مادیہ کو اپنے لڑکے کی چوسائی پر آمادہ کیا بلکہ ساتھ ہی ساتھ اپنی بہن کو 69 سٹائل سے بھی روشناس کروا کر اس کی چوت کو جنسی مزے کی ایک نئی منزل پر پہنچا دیا۔چونکہ ہمارا ڈیرہ گاؤں سے کافی ہٹ کر تھا۔ جہاں پر چاروں طرف صرف ہماری اپنی زمین تھی۔جس کی وجہ سے مادیہ کے ساتھ ڈیرے پر کسی رک ٹوک اور ڈر کے بغیر چودائی کرنے میں مجھے زیادہ مزہ آتا تھا۔ایک دن جب مادیہ ڈیرے پر آئی تو میرے دماغ کو نہ جانے کیا سوجھا کہ میں اپنے اور مادیہ کے سارے کپڑے اتار کر اپنی بہن کے ساتھ ننگی حالت میں ٹیوب ویل کی چھت پر چڑھ گیا۔چونکہ ٹیوب ویل کی چھت پر سے ہمارے کھیتوں کے چاروں طرف بہ آسانی دیکھا جا سکتا تھا۔اس لیے میں نے بغیر کسی خوف اور خطر کے اپنی بہن کو دن کی روشنی میں اپنے ٹیوب ویل کی چھت پر ہی چود ڈالا۔اس روز کھلے آسمان تلے دن کی روشنی میں اپنی ہی بہن سے رنگ رلیاں مناتے ہوئے مجھے بہت مزہ آیا۔ٹیوب ویل کی چودائی کے دوسرے دن مادیہ ڈیرے پر آئی اور مجھے کھانا دے کر خود کمرے سے باہر نکل گئی۔کھانے سے فارغ ہو کر میں نے اپنے کھیتوں کو پانی دینے کے لیے ٹیوب ویل کو آن کیا اور پھر خود بھی کمرے سے باہر آ گیا۔تو اپنی بہن مادیہ کو ٹیوب ویل کے ساتھ بنی ہوئی پانی کی ہودی میں کپڑوں سمیت نہاتے ہوئے دیکھا۔“خیریت تو ہے آج گھر کی بجائے ٹیوب ویل پر ہی نہانا شروع کر دیا ہے تم نے مادیہ” اپنی بہن کو اس کے کپڑوں سمیت پانی کی ہودی میں مزے سے اچھلتے کودتے دیکھ کر میں نے مادیہ سے سوال کیا۔“جب آپ مجھے اپنے گھر کے کمرے کی بجائے ٹیوب ویل کی چھت پر چڑھ کر چود سکتے ہیں، تو میں گھر کی بجائے اپنے ٹیوب ویل پر نہا کیوں نہیں سکتی بھائی”۔میرے سوال کا جواب میں مستی سے پانی میں اپنے ہاتھ مارتے ہوئے مادیہ نے جواب دیا۔ تو اپنی بہن کے گیلے بدن کو دیکھ کر میرے لڑکے میں بھی جوش آ گیا۔“اچھا تو چلو دونوں مل کر نہاتے ہیں پھر” مادیہ کی بات کا جواب میں بولتے ہوئے میں نے اپنے کپڑے اتارے اور پھر دوڑتے ہوئے میں بھی پانی کی ہودی میں چلا گیا۔پانی کی ہودی میں آتے ہی میں نے ایک ایک کر اپنے ہاتھ سے اپنی بہن کے سارے کپڑے اتار کر ہودی سے باہر پھینکے۔ اور پھر ہم دونوں بہن بھائی مل کر پانی کی ہودی میں ایک ساتھ نہانے لگے۔ٹیوب ویل سے آتے تیز پانی کے نیچے نہاتے ہوئے ہمیں بہت مزہ آ رہا تھا۔نہانے کے دوران میں مادیہ کے جسم سے چمٹتے ہوئے اپنی بہن کے ممیوں اور چوت کو چھیڑ رہا تھا۔ جبکہ جواب میں مادیہ بھی میرے لڑکے سے چیڑ چار کرنے میں مصروف تھی۔جس کی وجہ سے ٹیوب ویل کے ٹھنڈے پانی میں نہانے کے باوجود ہمارے جسموں میں جوانی کی گرمی چڑھتی جا رہی تھی۔“اچھا مادیہ تم میری گود میں بیٹھ کر اپنی چوت میں میرا لڑکا ڈالو اور میرے لڑکے اور اپنی چوت میں لگی آگ کو ٹھنڈا کرو میری جان” تھوڑی دیر کی چیڑ چار کے بعد جب ہم دونوں بہن بھائی بہت گرم ہو گئے۔ تو ہودی کے ایک کونے میں بیٹھتے ہوئے میں نے مادیہ سے کہا۔“ٹھیک ہے آپ نیچے بیٹھیں میں آپ کے اوپر چڑھ کر آپ کے لڑکے کی گرمی نکالتی ہوں بھائی” میری بات کا جواب دیتے ہوئے مادیہ نے اپنا منہ ڈیرے کے دروازے کی طرف اور اپنی کمر میری طرف کرتے ہوئے میرے تنے ہوئے لڑکے کو اپنی ٹانگوں کے بیچ میں اس طرح ایڈجسٹ کیا۔کہ جس کی وجہ سے میرا لڑکا اب اپنی بہن کی گیلی چوت کے پھولے ہوئے لبوں سے رگڑ کھانے لگا تھا۔“اوہhhhh آپ کے سخت لڑکے کا کیا مزہ ہے بھائی” اپنی ٹانگوں کے درمیان پھنسے ہوئے میرے موٹے سخت لڑکے کے اوپر اپنی چوت کو تیزی سے سرکاتے ہوئے مادیہ نے سسکی بھرے لہجے میں مجھے کہا۔اس کے ساتھ مادیہ نے اپنی گاند کو ہلکا سا نیچے لاتے ہوئے ہودی کے پانی میں کھڑے میرے لڑکے کو اپنی مٹھی میں قابو کیا۔اور ساتھ ہی میرے موٹے سخت لڑکے کو پانی میں اپنی پانی پانی ہوتی ہوئی پیاسی چوت پر ٹکا دی۔“اُففف کیا گرم چوت ہے تمہاری مادیہ” ٹیوب ویل کی ہودی کے ٹھنڈے پانی میں بھی اپنی بہن کی چوت کی تپش کو اپنے لڑکے پر محسوس کرتے ہی میں نے نیچے سے اوپر کی طرف دھکا مارا۔تو ایک میزائل کی طرح تیزی کے ساتھ اوپر کو اٹھ کر میرا لڑکا اپنی بہن کی چوت کے نشانے پر جا لگا۔اور میرے لڑکے کے ساتھ ساتھ ہودی کا تھوڑا سا پانی بھی میری بہن کی چوت میں داخل ہو گیا۔“ہائے آپ سے اپنی چوت مروا کر ہر بار ایک نیا مزہ ملتا ہے مجھے” میرے لڑکے کے جھٹکے کے ساتھ ساتھ چوت کے چولے اور پھدی کی دیواروں سے ٹکرانے والے ہودی کے پانی سے پیدا ہونے والی لذت کی وجہ سے مادیہ لذتوں کی نئی منزل پر پہنچتے ہوئے چلا اٹھی۔اس کے ساتھ ہی مادیہ میری گود میں بیٹھ کر اوپر نیچے ہوتے ہوئے مجھ سے اپنی چوت چدوا نے لگی۔ اور میں پانی میں بیٹھ کر اپنی بہن کی چوت کو مزے سے چودنے لگا۔اب ٹیوب ویل کے پانی میں دو جوان ننگے جسم جال رہے تھے۔ اور ہم دونوں بہن بھائی ایک دوسرے کو چود کر اپنے جسم کی گرمی کو کم کرنے کی کوشش کرنے لگے۔ٹیوب ویل کی ہودی کے بہتے پانی میں ہماری چودائی کی وجہ سے “فچا فچ فچا فچ، فکا فک فکا فک” کی آوازیں پیدا ہو رہی تھیں۔کچھ دیر یوں ہی اپنی بہن کی زور دار چودائی کے بعد مجھے یوں لگا کہ جیسے میں اپنے لڑکے کا پانی چھوڑنے والا ہوں۔چونکہ میں نے آج اپنی بہن مادیہ کی چودائی کے دوران کنڈوم نہیں پہنا ہوا تھا۔اس لیے میں اپنے لڑکے کا پانی اپنی بہن کی چوت میں چھوڑنے کی غلطی دوبارہ نہیں دہرانا چاہتا تھا۔“مادیہ میں چاہتا ہوں کہ تم اب میرے لڑکے کو اپنی چوت سے نکال کر اسے اپنے منہ میں لو، اور میرے لڑکے کا چوسا لگا کر میرا پانی نکال دو میری جان” تھوڑی دیر مزید اپنی بہن کو چودنے کے بعد میں نے مادیہ کو اپنے لڑکے سے اتارا اور پھر اپنی بہن سے فرمائش کی۔“اچھا لو میں ابھی اپنے منہ سے اپنے بھائی کے لڑکے کو ٹھنڈا کر دیتی ہوں” میری بات سنتے ہی مادیہ میری گود سے اٹھی اور میری کھلی ٹانگوں کے درمیان میں بیٹھ کر اس نے اپنا منہ کھولا۔اور اپنی چوت کے جوس سے بھرے ہوئے میرے لڑکے کو اپنے منہ میں لے کر مزے سے میرا لڑکا چوسنے لگی۔“اوہhhhh چوسو میرے لڑکے کو میری بہن میری جان” اپنی گاند کو اٹھا کر اپنی بہن کے گرم منہ میں اپنے لڑکے کو زور سے ٹھونستے ہوئے میں مزے سے چلا رہا تھا۔ اور میری ٹانگوں کے درمیان بیٹھ کر میری سگی بہن اپنے بھائی کے سخت لڑکے کو سک کرتے ہوئے مصروف ہو گئی۔میری بہن کا میرے لڑکے کو چوپا لگانے کا انداز اتنا سیکسی اور مزے دار تھا کہ تھوڑی ہی دیر بعد میرا لڑکا جوش کے عالم میں جھٹکے کھانے لگا۔ اور ساتھ ہی میرے منہ سے خود بخود سسکیاں جاری ہو رہی تھیں “اوہhhhh ہائے”۔اب ٹیوب ویل کی ہودی میں صورتحال یہ تھی کہ ادھر اپنی بہن کے منہ کے سواد کی وجہ سے جوں جوں میرے منہ سے نکلنے والی سسکیوں کی رفتار تیز ہو رہی تھی۔ توں توں میری بہن کے چوپا لگانے کی رفتار بھی تیز سے تیز ہوتی جا رہی تھی۔جس کی وجہ سے چند ہی لمحوں بعد میں ایک تیز “آہhh” بھر کر اپنی سگی بہن کے منہ کے اندر ہی ڈسچارج ہو گیا۔ تو میرے لڑکے کے گرم مادے سے میری بہن کا منہ اور ہونٹ پوری طرح بھر گئے۔“اوہhhhh کیسا لگا میرے لڑکے کا پانی میری جان” اپنے لڑکے کے گاڑھے مادے کو اپنی بہن کے منہ میں چھوڑتے ہوئے میں نے مادیہ سے پوچھا۔“اوہhhhh آپ کے لڑکے کا یہ نمکین پانی بہت ہی سوادلا ہے بھائی” میرے لڑکے کے لیسدار مادے کو اپنے حلق میں اتارتے ہوئے مادیہ نے جواب دیا اور پھر اٹھ کر میرے پہلو میں آ بیٹھی۔اس دن چودائی کے دوران ہم دونوں بہن بھائی اتنے مگن ہوئے کہ ہمیں وقت گزرنے کا احساس ہی نہیں ہوا۔پھر اپنی چودائی کے بعد ہم دونوں بہن بھائی جب تھک ہار کر پانی کی ہودی میں بیٹھ کر آپس میں باتیں کر رہے تھے کہ اتنے میں اپنے پیچھے سے ہمیں غصے بھری ایک آواز سنائی دی “یہ کیا چال رہا ہے یہاں”۔یہ آواز سنتے ہی ہم دونوں نے اپنے پیچھے کی طرف مڑ کر دیکھا۔ تو پیچھے دیکھتے ساتھ ہی ٹیوب ویل کے ٹھنڈے پانی میں بیٹھے ہونے کے باوجود ہم دونوں بہن بھائی کے پسینے چھوٹ گئے۔کیونکہ ادھر اس وقت کوئی اور نہیں بلکہ ہماری اپنی سگی امی ہمارے سامنے کھڑی تھیں۔ اور غصے سے لال سکراہ منہ کے ساتھ وہ اپنی آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر ہمیں دیکھ رہی تھیں۔“اوہhhhh امی آپ اور یہاں” اپنی امی کے ہاتھوں اپنے ہی سگے بھائی کے ساتھ یوں ننگے نہاتے ہوئے پکڑے جانے پر مادیہ کے منہ سے ایک دم نکلا۔ اور اس کے ساتھ ہی وہ پانی سے نکل کر پاس پڑے اپنے گیلے کپڑوں سے اپنے ننگے جسم کو ڈھانپنے کی ناکام کوشش کرتے ہوئے کمرے کی طرف دوڑ گئی۔“لے وائی راحیل پتر آج تو تو لورے لگ گیا ہے دوست” مادیہ کے کمرے میں جاتے ہی میرے ذہن میں یہ خیال آیا۔ اور اس کے ساتھ ہی میں نے امی کو آہستہ آہستہ پانی کی ہودی کے نزدیک آتے دیکھا۔“اچھا ہوا کہ امی نے ہم دونوں کو چودائی کرتے ہوئے نہیں پکڑ لیا، ورنہ آج تو امی کے ہاتھوں ہم دونوں نے قتل ہی ہو جانا تھا” امی کو غصے بھری حالت میں اپنے نزدیک آتا دیکھ کر میں نے سوچا۔مگر اس کے ساتھ ہی میرے ذہن میں ایک اور بات آئی کہ “جوان بہن کے ساتھ ڈیرے پر یوں کھلے عام ننگا نہانا بھی تو کوئی جرم نہیں، جس کی سزا امی سے ضرور ملے گی مجھے، مگر اب جو بھی ہو مجھے ہر حالت میں مردانہ وار اپنی امی کا سامنا تو کرنا ہی پڑے گا”۔میں اپنی ان ہی سوچوں میں مگن تھا کہ اتنے میں امی ہودی کے کنارے کے بالکل قریب آ کر کھڑی ہو گئیں۔میں اس دوران ابھی تک پانی میں ننگا ہی بیٹھا ہوا تھا۔ لیکن مجھے پتا تھا کہ میرا جسم پانی میں ہونے کے باوجود بھی میرے اتنے نزدیک کھڑے ہونے کی وجہ سے امی کو میرے جسم کا نیچلا حصہ اور خاص طور پر میرا نیم ہرا ہوا لڑکا ہودی کے صاف پانی میں واضح نظر آ سکتا تھا۔“تم دونوں کیا کر رہے تھے” امی نے میرے قریب آ کر کھڑے ہوتے ہوئے مجھ سے سوال کیا۔“کچھ نہیں ہم تو بس نہا رہے تھے امی” اپنی امی کے سوال کا جواب دیتے ہوئے میں بولا۔“بکو مت اور اٹھ کر پانی سے فوراً باہر نکلو خبیث انسان” میری بات کا جواب میں امی نے غصے سے میری طرف دیکھا اور چیختے ہوئے بولیں۔امی کی بات سنتے ہی میں گھبرا کر ایک دم پانی سے نکلا اور اسی طرح اپنی ننگی حالت میں ہی اپنی امی کے سامنے کھڑا ہو گیا۔مجھے پانی سے نکل کر اپنے سامنے کھڑا ہوتے دیکھتے ہی امی کی نظر میرے گیلے جسم پر پڑی۔اور پھر میرے جسم کو دیکھتے دیکھتے ان کی نظر میری ٹانگوں کے درمیان ڈھیلے پڑتے میرے لڑکے پر بھی جا ٹکی۔“اب ادھر کھڑے کھڑے میری منہ کیوں دیکھ رہے ہو، جاؤ اور جا کر اپنے کپڑے پہنو بے غیرت” میری ٹانگوں کے درمیان میرے لڑکے کو ایک شان سے ادھر ادھر جھلتا دیکھ کر امی کو اپنی غلطی کا احساس ہوا۔ اور انہوں نے فوراً ہی مجھ سے نظریں چراتے ہوئے ایک بار پھر چیختے ہوئے مجھے کہا۔امی کا غصے بھرا حکم سنتے ہی میں اپنی جگہ سے ہلا اور زمین پر بکھرے اپنے کپڑے اٹھا کر مادیہ کی طرح میں نے بھی ڈیرے کے کمرے کی طرف دوڑ لگا دی۔دوڑتے ہوئے میں ابھی کمرے کے دروازے پر ہی پہنچا تھا کہ میری نظر مادیہ پر پڑی جو اپنے کپڑے پہن کر کھانے کے برتن اٹھائے کمرے سے باہر نکل رہی تھی۔شرم کے مارے مادیہ کی آنکھیں اس وقت جھکی ہوئی تھیں۔ اس لیے وہ میری طرف دیکھے اور کوئی بات کیے بغیر ہی خاموشی سے گھر کی طرف چل پڑی۔اپنی بہن کے باہر جاتے ہی میں کمرے میں داخل ہوا اور جسم کو خشک کیے بغیر ہی میں نے جلدی جلدی اپنے کپڑے پہن لیے۔کپڑے پہن کر میں باہر آیا تو دیکھا کہ مادیہ کے ساتھ ساتھ امی بھی گھر واپس جا چکی تھیں۔“اُففففف شکر ہے کہ امی چلی گئی ہیں، ورنہ انہوں نے تو مار مار میرے ہشر کر دینا تھا آج” ڈیرے کے کمرے سے باہر آ کر میں نے جب امی کو موجود نہیں پایا۔ تو دل میں یہ بات سوچتے ہوئے میں نے سکون کا سانس لیا۔“ظاہر تو امی یہاں سے گھر چلی گئی ہیں، لیکن پتہ نہیں گھر جانے کے بعد امی مادیہ سے نہ جانے کیا سلوک کریں گی، اور اس کے جب شام میں گھر لوٹوں گا، میری پھر واپسی پر نہ جانے وہ میرے ساتھ کیا سلوک کریں گی آج” اپنی امی اور بہن کے گھر جانے کے بعد میرا کسی کام میں دل نہیں لگ رہا تھا۔ اس لیے باقی کا سارا دن چارپائی پر لیٹ کر میں آنے والے وقت کے بارے میں سوچ کر فکر مند ہوتا رہا۔مجھے اس دن کو ہونے والے واقعے کے بارے میں سوچتے سوچتے شام ہو گئی۔ تو پھر میں نہ چاہتے ہوئے بھی گھر جانے کے لیے تیار ہو گیا۔“تجھے بڑا شوق تھا نا اپنی ہی بہن کی کنواری چوت کو چودنے کا، اب بہن چود تو لی ہے، تو اب اس کا نتیجہ بھی بھگتو بیٹا” اپنے گھر کے دروازے پر کھڑے ہو کر میرے دل میں یہ بات آئی۔ تو آنے والے لمحے کو سوچتے ہوئے میرا دل زور سے دھک دھک کرنے لگا۔“جب اڑتا تیر بند میں لیا ہے تو انجام تو بھگتانا ہی پڑے گا تمہیں بچے، اس لیے اب سوچ مت اور حالت کا سامنا کرنے کے لیے خود کو تیار کر لو راحیل” اپنے گھر کے دروازے پر کھڑے میرے دل میں یہ دوسرا خیال آیا۔ تو پھر ڈرتے دل کے ساتھ میں نے نہ چاہتے ہوئے بھی اپنے گھر کے دروازے پر دستک دے ہی دی۔دروازے پر دستک دیتے ہی گھر کا دروازہ ایک دم سے کھلا۔ تو اپنی بہن مادیہ کو میں نے اپنے سامنے کھڑی پائی۔“اوہhhhh امی کی ڈانٹ اور مار کے بعد تو مادیہ کو اس وقت اپنے کمرے میں بند ہو کر رونا دھونا چاہیے تھا، مگر یہ تو اس وقت میرے سامنے یوں کھڑی ہے جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو” اپنے اندازے کے برعکس اپنی بہن کو یوں مطمئن حالت میں میرے لیے دروازہ کھولتے دیکھ کر مجھے بہت ہی حیرت ہوئی۔“امی کہاں ہے مادیہ” میں نے دروازے پر کھڑے کھڑے سوال کیا۔“وہ باتھ روم میں نہا رہی ہیں” میری بات کا جواب میں مادیہ نے دھیمی آواز میں بولی۔“تو گھر آ کر کیا کہا تم سے امی نے” مادیہ کی بات سنتے ہی میں نے فوراً ایک اور سوال کیا۔“کچھ بھی نہیں” میری بات کا اسی دھیمے انداز میں جواب دیتے ہوئے مادیہ بولی۔“کیا” اپنی بہن کے جواب پر میں نے مادیہ کے چہرے کی طرف دیکھا۔ اور حیرت زدہ انداز میں میرا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا۔“ہمیں یوں رنگے ہاتھوں پکڑنے کے بعد بھی امی نے گھر آ کر تم سے کوئی سوال جواب نہیں کیا، یہ کیسے ممکن ہے مادیہ” اپنی بہن کی بات سنتے ہوئے میں نے حیرانی سے اسے دیکھا اور بولا۔“ہاں گھر آ کر واقعی ہی امی نے مجھے کچھ نہیں کہا، جس پر مجھے بھی بہت حیرانی ہے” اپنی بات کا جواب میں مجھے یوں ایک دم حیران ہوتا دیکھ کر مادیہ نے جواب دیا۔اپنی امی کے اس رویے پر میں ایک جھٹکے میں آ گیا اور پھر جھٹکے کی حالت میں ہی چلتا ہوا گھر کے اندر داخل ہو کر اپنے کمرے میں چلا آیا۔میں کافی دیر تک اپنے کمرے میں ہی قید ہو کر اپنی امی کے اس غیر متوقع ری ایکشن کے بارے میں سوچتا رہا۔ اور ساتھ ہی ساتھ اپنے آپ کو امی کا سامنا کرنے کے لیے ذہنی طور پر تیار بھی کرتا رہا۔مجھے گھر واپس آئے ہوئے تقریباً ایک گھنٹہ ہو چلا تھا جب اپنے کمرے میں بیٹھے بیٹھے امی کی آواز میرے کان میں گونجی “کھانا لگ گیا ہے آ جاؤ سب”۔دن والے واقعے کے بعد اپنی امی کا سامنا کرنے کی مجھے ہمت نہیں ہو رہی تھی۔اس لیے امی کی آواز سنتے ہی میرے دل کی دھڑکن تیز ہو گئی مگر نہ چاہتے ہوئے بھی میں بھاری قدموں کے ساتھ آہستہ آہستہ چلتا ہوا کچن میں جا پہنچا۔کچن میں جاتے ہوئے مجھے امی اور مادیہ وہاں پہلے سے موجود نظر آئیں۔ مگر میرے کچن میں داخل ہوتے وقت نہ تو مادیہ اور نہ ہی امی نے میری طرف نظر اٹھا کر دیکھا اور نہ ہی کوئی بات کی۔اپنی امی کا انداز دیکھ کر میرے دل کو تھوڑی سی تسلی ہوئی۔ تو میں نے سالن کے ڈھونگ سے اپنے لیے کھانا لیا اور کچن کے ایک کونے میں پڑے مرے پر بیٹھ کر خاموشی سے کھانا کھانے لگا۔ہمارے گھر کے کچن میں تین افراد کی موجودگی کے باوجود کھانا کھانے کے دوران کچن میں ایک پراسرار سی خاموشی چھائی ہوئی تھی۔ اور یہ خاموشی مجھے آگے آنے والے کسی طوفان کا پیش خیمہ لگ رہی تھی۔تھوڑی دیر بعد جب ہم سب لوگ کھانے سے فارغ ہوئے تو امی نے سر اٹھا کر میری اور مادیہ کی طرف دیکھا اور بولیں “مادیہ تم اپنے کمرے میں جاؤ اور راحیل تم ادھر ہی رکو میں نے تم سے بات کرنی ہے”۔امی کی بات سنتے ہی مادیہ نے پریشانی کے عالم میں ایک دم میری طرف دیکھا۔ مگر پھر امی کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے کچن سے باہر نکل گئی۔مادیہ کے باہر جاتے ہی امی نے سارے برتن سمیتے اور انہیں کچن کے سنک میں رکھتے ہوئے واپس میری طرف پلٹیں اور مجھے دیکھتے ہوئے ایک دم غصے سے بولیں “یہ سب کتنی دیر سے چال رہا ہے راحیل”۔امی کی بات سنتے ہی میں ڈر تو گیا۔ مگر اس کے باوجود میں نے معصومانہ انداز میں ڈرتے ڈرتے امی سے پوچھا “کیا امی جی”۔“تم اچھی طرح جانتے ہو میں کیا پوچھ رہی ہوں” میرے اس معصومانہ سوال پر امی نے مجھے غصے سے ڈانٹتے ہوئے کہا۔“آج چونکہ گرمی بہت تھی، جس کی وجہ سے ہم نے ٹیوب ویل کے ٹھنڈے پانی میں ایک ساتھ نہانے کی غلطی کر لی، مگر یقین ماننے اس سے زیادہ اور کچھ نہیں کیا ہم نے امی جی” امی کے ڈانٹنے پر میں نے ایک بار پھر معصوم بنتے ہوئے اپنی امی کی بات کا جواب دیا۔“اچھا تو تم مجھے بیوقوف سمجھتے ہو، میں اچھی طرح جانتی ہوں کہ کوئی بھی جوان لڑکی کسی بھی جوان لڑکے کے سامنے یوں ہی اپنے کپڑے نہیں اتار دیتی راحیل” میری بات سنتے ہی امی نے غصے سے ایک دم چنگھاڑتے ہوئے مجھے کہا۔“آپ میرا اعتبار کریں، ہم واقعی ہی نہا رہے تھے امی جان” امی کی بات کا جواب دیتے ہوئے میں پھر ہلکی آواز میں بولا۔“اچھا اگر یہ بات ہے تو مادیہ نے ان گولیوں کو کیوں اپنے کمرے میں چھپا کر رکھا ہوا ہے پھر” میری بات ختم ہوتے ہی امی نے اپنی بند مٹھی کھولی۔ اور مجھے حمل روکنے والی وہ گولیاں دکھا دیں جو میں نے اپنی بہن کے لیے گجرات سے خریدی تھیں۔اب اپنی امی کی اس بات کا میرے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔ اس لیے میں نے اس موقع پر خاموش رہنا ہی بہتر سمجھا۔“ویسے ان گولیوں کے ساتھ ساتھ ڈیرے کے کمرے سے مجھے کچھ اور چیزیں بھی ملی ہیں” یہ کہتے ہوئے امی نے کچن کی الماری کھولی۔ اور کنڈومز کے تین استعمال شدہ پیکٹس نکال کر میرے سامنے رکھتے ہوئے بولیں “تم انہیں کہاں استعمال کرتے ہو راحیل”۔“اُففففف گھر تو گھر امی تو ڈیرے پر بھی میری ساری خفیہ جگہوں کے بارے میں جانتی ہیں یار” اپنے سامنے پڑے ہوئے کنڈومز دیکھ کر حیران ہوتے ہوئے میرے ذہن میں خیال آیا۔اس سے پہلے کہ میں اپنی امی کی بات کا کوئی جواب دے پاتا میری امی مجھ پر ایک اور بم گراتے ہوئے بولیں۔ “ان سب کے علاوہ تمہیں ایک اور چیز بھی دکھاتی ہوں میں”۔“وہ کیا ہے امی جان” اپنی امی کی بات کا جواب میں سوالیہ نظروں سے امی کو دیکھتے ہوئے میں نے پوچھا۔“یہ دیکھو یہ ہے وہ کنڈوم ہے جسے استعمال کرنے کے بعد تم اسے کوڑے (Trash) میں پھینکنا بھول گئے تھے شاید” میری بات کا جواب میں امی نے اپنے برازیئر میں ہاتھ ڈالا۔ اور میرا ایک تازہ استعمال شدہ کنڈوم اپنے برازیئر سے نکال کر میرے سامنے لہرانا شروع کر دیا۔یہ کنڈوم میں نے ایک رات پہلے ہی اپنی بہن مادیہ کو چودنے کے لیے یوز کیا تھا۔ اور چودائی کے بعد اتار کر جلد بازی میں اپنی بہن کے پلنگ کے نیچے پھینک دیا تھا۔“لگتا ہے امی نے پوری تیاری سے ہم دونوں بہن بھائی کو پکڑا ہے، لے بچو تو تو لورے لگ گیا آج راحیل” اپنے لڑکے کی مانی سے بھرے کنڈوم کو اپنی نظروں کے سامنے اپنی امی کے ہاتھ میں جھلتا دیکھ کر حیرت سے میرا منہ اس لیے کھلا کا کھلا رہ گیا۔کیونکہ ایک رات پرانا ہونے کے باوجود بھی میرے لڑکے کا گاڑھا پانی کنڈوم میں ابھی تک پوری طرح خشک نہیں تھا۔“مجھے جواب دو یہ سب کیا ہے راحیل” یہ ساری چیزیں میرے سامنے رکھنے کے بعد امی نے غصے میں مجھ سے سوال کیا۔“ہاں میں مانتا ہوں کہ جوانی کے جذبات میں بہک کر ہم دونوں نے آپس میں گناہ بڑا کام کیا ہے، مگر یقین جانیے یہ سب کچھ ہم سے انجانے میں ہوا ہے امی جان” اپنی نظروں کے سامنے پڑے ہوئے اتنے سارے ثبوت دیکھتے ہوئے کسی بات سے انکار کرنا اب میرے لیے ناممکن ہو گیا تھا۔ اس لیے ڈرتے دل کے ساتھ بالآخر میں نے اپنے جرم کا اقرار کر کے شرم سے اپنی نظریں جھکا لیں۔اپنی امی کے سامنے اپنی ہی سگی بہن کو چودنے کا اقرار کرنے کے بعد میں تو اس امید میں تھا کہ میری بات ختم ہوتے ہی امی پر قیامت ٹوٹ پڑے گی اور پھر غصے کے عالم میں وہ مجھ پر تھپڑوں اور لاتوں کی برسات کر دیں گی۔مگر ان سب باتوں کے برعکس میری بات ختم ہوتے ہی جب امی کی طرف سے ایسی کوئی بات نہ ہوئی۔تو حیرانی کے عالم میں ڈرتے ڈرتے ہوئے میں نے اپنی نظریں اٹھا کر اپنی امی کے چہرے کی طرف دیکھا۔تو مجھے ان کے چہرے پر سنجیدگی تو نظر آئی۔ لیکن امی کی آواز کے برعکس غصے کا کوئی نام و نشان امی کے چہرے پر موجود نہیں تھا۔“تمہیں اپنی ہی بہن کے ساتھ ہم بستری کرنے سے پہلے یہ خیال نہیں آیا، کہ اگر کسی اور کو اس بارے میں علم ہو گیا، تو گاؤں میں ہماری کیا عزت رہ جائے گی، اور پھر اس کے بعد تمہاری بہن سے شادی کون کرے گا راحیل” میری بات ختم ہوتے ہی مجھ پر غصے ہونے یا ڈانٹنے کی بجائے امی نے میری طرف دیکھتے ہوئے سنجیدہ انداز میں مجھے کہا۔“آپ کہہ تو صحیح رہی ہیں، مگر آپ فکر مت کریں، میں کروں گا مادیہ سے شادی” اپنے ہی سگے بچوں کے بارے میں اپنے ہی بیٹے کے منہ سے گناہ کبیرہ والی بات سن کر غصے بھرا کوئی ری ایکشن دینے کی بجائے امی کو نارمل انداز میں مجھ سے بات کرتے دیکھ کر مجھے حیرت تو بہت ہوئی۔ مگر اس کے ساتھ ہی میرا حوصلہ بھی بڑھ گیا اور ڈرتے دل کے ساتھ میں نے اپنی امی سے اپنے دل کی بات کہہ ڈالی۔“ایک تو تم نے اپنی ہی بہن سے زنا کیا ہے اور اوپر سے اپنی ہی سگی بہن سے شادی کے सपنے دیکھنے لگے ہو، کیا تم پاگل تو نہیں ہو گئے، تم جانتے ہو ایسا ہونا ناممکن ہے راحیل” میری بات سنتے ہی اس بار امی کے چہرے پر ہلکا سا غصہ آیا اور وہ ایک دم بول پڑیں۔“ہونے کو کیا نہیں ہو سکتا، ہم ساری زمین بیچ کر کراچی چلے جائیں گے، جہاں ہمیں کوئی نہیں جانتا اور وہاں میں اور مادیہ میاں بیوی کی حیثیت سے اکٹھے رہ لیں گے امی جی” امی کے سامنے اپنا گناہ قبول کرنے کے بعد ان کے رویے سے میرا حوصلہ اتنا بڑھ گیا کہ اب میں کھل کر اپنے دل کی بات اپنے منہ پر لا آیا۔“اپنی ہی بہن کا کنوارا پن لوٹ کر، اب اسے اپنی بیوی بھی بنانا چاہتے ہو تم، بہت خوب میرے بیٹے، کیا میں نے اسی دن کے لیے تجھے پال پوس کر جوان کیا تھا حرام خور” میری بات سن کر امی نے پہلی بار غصے والا منہ بناتے ہوئے مجھے جواب دیا۔“میں اور مادیہ ایک دوسرے سے پیار کرتے ہیں، اور ایک دوسرے کے بغیر نہیں رہ سکتے اب، اگر آپ کو میری بات پر یقین نہیں تو بے شک مادیہ سے پوچھ لیں آپ” اپنی امی کے غصے بھرے لہجے کو نظر انداز کرتے ہوئے ایک بار پھر امی سے یہ بات دہرائی۔اپنی بہن مادیہ سے پیار کرنے والی بات سن کر امی نے میری بات کا جواب میں خاموشی اختیار کی۔ تو میں نے بھی اب کی بار امی سے مزید کوئی اور بات کرنا مناسب نہ سمجھا۔کچن میں اس وقت اب ایک عجیب سی خاموشی چھائی ہوئی تھی۔ جس کے دوران ہم دونوں ماں بیٹا اپنی اپنی جگہ پر بیٹھ کر خاموشی سے ایک دوسرے کے منہ کو دیکھے جا رہے تھے۔تھوڑی دیر یوں ہی اپنی امی کو خاموشی سے دیکھنے کے بعد میں نے ادھر مزید بیٹھنا ٹھیک نہیں لگا۔اس لیے میں ایک دم وہاں سے اٹھ کر اپنے کمرے کی طرف چلتے ہوئے بولا “اچھا خدا حافظ میں اپنے کمرے میں جا رہا ہوں امی”۔“رکو میری بات ابھی ختم نہیں ہوئی ابھی راحیل” مجھے کچن سے باہر جاتے دیکھ کر امی نے پیچھے سے آواز دی۔“کوئی تو بات نہیں، اب میں آپ سے کل صبح بات کروں گا امی جان” اپنی امی کو جواب دیتے ہوئے میں اپنے کمرے میں چلا آیا۔اپنے بستر پر بیٹھ کر میں دن کو پیش آنے والے واقعے اور پھر امی کے رویے کے بارے میں سوچنے لگ گیا۔“دن کی روشنی میں کھلے آسمان کے نیچے اپنی ہی جوان بہن کے ساتھ رنگ رلیاں مناتے ہوئے اپنی ہی امی کے ہاتھوں پکڑے جانے کے بعد ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ، اسی وقت ہم دونوں کو اپنے ہی ہاتھوں مار کر امی خود بھی خودکشی کر لیتیں، یا پھر اپنی ہی جوان بہن کا کنوارا پن ختم کرنے کے جرم میں امی مجھے اپنے گھر سے بے دخل کر دیتیں، مگر ان سب باتوں کے برعکس، امی بہت ہی پرسکون نظر آ رہی ہیں، تو اس کی کیا وجہ ہو سکتی ہے بھلا” اپنی امی کے مطمئن رویے کو دیکھ کر میرے دل میں یہ خیال آ رہے تھے اور میں اس سوچ میں گم تھا کہ “دال میں ضرور کچھ کالا ہے”۔ مگر ہزار بار سوچنے کے باوجود بھی مجھے اس “کیا کالا ہے” کی سمجھ نہیں آ رہی تھی۔سوچتے سوچتے امی کا اپنے موٹے ممیوں کے درمیان سے میرے لڑکے کے مادے والے بھرے ہوئے کنڈوم نکالنے والی بات میرے ذہن میں دوبارہ سے چلی آئی۔ تو میں نے اپنے آپ سے خود کلامی کی “اوہhhhh امی نے میرے لڑکے کے گرم پانی سے بھرے ہوئے کنڈوم کو اپنے ممیوں کے درمیان اپنے برازیئر میں چھپا کر کیوں رکھا تھا، مادیہ کے ساتھ ساتھ امی کو بھی میرے لڑکے کی طلب تو نہیں ہو رہی کہیں”۔اس بات کے بارے میں سوچتے سوچتے امی کا چہرہ اور ان کا جسم کا سیراپا میرے ذہن میں ایک دم سے دورنے لگا، “ہائے میری امی فخریٰ کی عمر تو تقریباً 50 سال ہے، مگر گھر اور کھیتوں میں کام کاج کرنے کی وجہ سے عمر کے لحاظ سے ان کا جسم کافی فٹ ہے۔جس کی وجہ سے امی اپنی عمر سے کافی کم کی لگتی ہیں، امی کا رنگ کافی صاف اور گورا ہے اور ان کا قد بھی کافی اونچا ہے اور ان کے لمبے اور گھنے بال تو ان کی پرسنالٹی کو مزید جاذب نظر بناتے ہیں، اور سب سے بڑھ کر امی کے موٹے بڑے ممی تو قیامت ہیں بس”۔آج پہلی بار اپنی امی کے جسم کو یوں اپنے تصور میں لا کر سوچتے ہوئے میرے لڑکے میں ایک دم ہلچل مچ گئی اور میرا لڑکا ہر کر میری شلوار میں ایک دم کھڑا ہو گیا۔“ابو کو فوت ہوئے کافی ٹائم ہو گیا ہے، اس لیے ایک عورت ہونے کے ناطے امی کو ان کے لڑکے کی کمی تو ضرور محسوس ہو رہی ہو گی، اگر میں اپنی ہی سگی بہن کی کنواری چوت کو چود کر اسے اپنی بہن سے اپنی معشوقہ بنا سکتا ہوں، تو میں اپنی امی کو چود کر ان کی بیوگی کا دکھ کم کیوں نہیں کر سکتا بھلا” یہ بات سوچتے ہوئے میرے ذہن میں پہلی بار اپنی امی کے بارے میں ایسا خیال آیا۔ تو شلوار میں ہرے میرے لڑکے میں مزید سختی آنے لگی۔“کیوں نہ میں امی کے کمرے میں جاؤں اور ان کے بستر میں گھس کر ان کی چوت میں اپنا لڑکا ڈالوں اور ان کی بیوہ چوت کو پھر سے آباد کر دوں” اپنے بستر پر بیٹھے بیٹھے میرے ذہن میں یہ خیال آیا۔ تو شلوار کے اوپر سے اپنے لڑکے کو اپنی مٹھی میں دبوچتے ہوئے میں نے سوچا۔“نہیں مجھے جلد بازی نہیں کرنی چاہیے، کیونکہ اگر امی کے بارے میں میرا خیال غلط نکلا، تو اس بار امی یقیناً مجھے جان سے مار دیں گی” اپنے ذہن میں امی کی چودائی کا خیال آتے ہی میرے لڑکے کو گرمی تو بہت چڑھی۔ مگر میں نے اپنے آپ کو امی کے کمرے میں جانے سے بہ مشکل روکا اور پھر اپنے دل کو قابو میں کرتے ہوئے بستر پر سونے کے لیے لیٹ گیا۔مجھے سوئے ہوئے ابھی آدھا گھنٹہ بھی نہیں گزرا تھا کہ مجھے یوں لگا جیسے کوئی میرے کمرے کا دروازہ کھول کر چپکے سے میرے کمرے میں داخل ہوا ہے۔رات کے تقریباً 12 بجے اپنے کمرے میں کسی اور شخص کی موجودگی کا احساس ہوتے ہی میں اپنی نیند سے ایک دم بیدار ہو گیا اور فوراً پوچھا “کون ہے”۔“میں ہوں تمہاری امی راحیل” مجھے اپنی نیند سے ایک دم جگتا دیکھ کر امی نے آہستہ سے کہا۔“آپ اور اس وقت میرے کمرے میں، خیریت تو ہے نا امی جان” رات کے پچھلے پہر امی کو یوں دبے پاؤں میرے کمرے میں آتے دیکھ کر مجھے بہت حیرت تو ہوئی۔ مگر اس کے ساتھ ہی رات کی تنہائی میں امی کو اپنے کمرے میں موجود پا کر میرے سوئے لڑکے نے ایک بار پھر میری شلوار میں انگڑائی لینا شروع کر دی۔“ہاں تم سے کچھ ضروری بات کرنی تھی بیٹا” امی نے دروازے پر کھڑے کھڑے مجھے جواب دیا۔“اچھا تو آپ نے ساری بات دروازے پر کھڑے کھڑے ہی کرنی ہے، ادھر آئیں اور میرے پاس بیٹھ کر بات کر لیں امی” اپنی امی کو یہ بات کہتے ہوئے میں اٹھ کر بستر پر بیٹھ گیا۔میری بات سن کر امی نے گہری نظروں سے میری طرف دیکھا اور دھیمی آواز میں بولیں “نہیں میں ادھر ہی ٹھیک ہوں راحیل”۔“امی آپ کا یوں دروازے پر کھڑے رہنا مجھے اچھا نہیں لگ رہا، آپ میری بات مانیں اور جو بھی بات کرنی ہے ادھر میرے پاس آ کر کریں پلیز” میں امی کے جواب میں بولا۔میری بات سن کر امی نے چند لمحے کچھ سوچا اور پھر بغیر دوپٹے کے آہستہ آہستہ قدموں کے ساتھ چلتی ہوئی میرے ساتھ میرے بستر پر آ تو بیٹھیں۔ مگر ان کے چہرے پر بدستور ہچکچاہٹ چھائی ہوئی تھی۔“جی امی ایسی کون سی بات ہے جسے کرنے کے لیے آپ صبح ہونے کا انتظار نہیں کر سکتی تھیں” میں نے امی کی لونگی کی کمیز سے چمکتے ان کے بھاری ممیوں پر اپنی نظر جماتے ہوئے پوچھا۔تو آدھی رات کے وقت اپنی امی کو پہلی بار یوں بغیر دوپٹے کے اپنے ساتھ ایک ہی پلنگ پر بیٹھا دیکھ کر میرے جسم میں گرمی اور لڑکے میں جوش آنے لگا تھا۔“تمہارے کچن سے اٹھ کر آنے کے بعد سے اب تک میں یہی بات سوچتی رہی ہوں، کہ تم کو اپنی بہن کے ساتھ یہ سب کچھ نہیں کرنا چاہیے تھا راحیل” میری بات کا جواب میں امی نے اپنی نظریں اوپر کرتے ہوئے میری آنکھوں میں دیکھا۔ اور مجھ سے ٹیوب ویل پر میری اور مادیہ کی چودائی کی بات دوبارہ شروع کر دی۔مگر امی کی بات پر توجہ دینے بجائے مجھے تو اپنے پاس بیٹھی امی کے جسم سے اٹھنے والی ان کے گداز جسم کی مہکی مہکی خوشبو نے بے حال کر دیا۔ اور مادیہ کے ساتھ ساتھ مجھے اب اپنی امی کے جسم کی بھی طلب ہونے لگی تھی۔“آپ کی بات صحیح ہے، مگر یقین مانئے ہمارے درمیان جو کچھ بھی ہوا وہ سب جوش جذبات اور بے اختیاری میں ہوا ہے امی جان” امی کی بات سن کر میں نے ایک بار پھر امی کے سیراپے پر بھرپور نگاہ ڈالی اور آہستہ سے امی کی بات کا جواب دیا۔اور ساتھ ہی بے خیالی میں اپنے پاس بیٹھی امی کے ہاتھ میں دوستانہ انداز میں اپنا ہاتھ ڈال کر اپنی امی کے ہاتھ کو اپنی انگلیوں کے پنجے میں جکڑ لیا۔“اُففففف چھوڑو میرا ہاتھ راحیل” میری اور امی کی ہتھیلی آپس میں ٹچ ہوتے ہی ہم دونوں ماں بیٹے کو ایک کرنٹ سا لگا۔ تو امی نے اپنا ہاتھ کو میرے ہاتھ سے ایک دم چھڑا لیا۔“بے اختیاری کے بچے، اگر میری جگہ گاؤں کا کوئی اور شخص ڈیرے پر آ کر تم دونوں بہن بھائی کو ٹیوب ویل پر اس حالت میں رنگے ہاتھوں پکڑ لیتا، تو جانتے ہو اس بات کا کیا انجام ہونا تھا راحیل” اپنا ہاتھ میرے ہاتھ سے نکلاتے ہی امی نے تھوڑا غصے بھرے انداز میں کہا۔“امی آپ کو شاید معلوم نہیں کہ ہمارے ٹیوب ویل کی ہودی میں کھڑے ہو کر ہمارے کھیتوں میں ملوں تک دیکھا جا سکتا ہے، اور یہی وجہ تھی کہ مادیہ کے ساتھ ہودی میں نہاتے ہوئے میں اپنے کھیتوں کے چاروں طرف دیکھ بھی رہا تھا، اس لیے اگر گاؤں کی طرف سے کوئی شخص ہمارے ڈیرے کی طرف آتا، تو میں اسے کافی دور سے دیکھ سکتا تھا، مگر مجھے سمجھ نہیں آئی کہ میری نظروں سے بچ کر آپ کیسے ڈیرے پر آ دمکیں امی” میں نے یہ کہتے ہوئے اپنی امی کے چہرے کی طرف دیکھا۔ تو مجھے یوں لگا کہ جیسے میری بات سنتے ہی امی کے چہرے کا رنگ ایک دم بدل سا گیا ہے۔مگر اس کے ساتھ ہی امی کی آنکھوں میں مجھے ایک چیز بھی دیکھ دی۔ جو شکیلہ کی چودائی کے بعد میں نے اپنی بہن مادیہ کی آنکھوں میں بھی دیکھ چکا۔ اور وہ چیز تھی ایک گرم عورت کی جنسی پیاس کی چمک۔شکیلہ کی چودائی کے بعد اپنی بہن مادیہ کی آنکھوں کی اس چمک کو پڑھنے میں مجھے تھوڑا وقت لگا تھا۔لیکن مادیہ کی چودائی کے بعد آج اپنی امی کی آنکھوں میں بھی جنسی بھوک کی وہی چمک دیکھ کر مجھے سارے معاملے تک پہنچنے میں ذرا بھی دیر نہ لگی۔“اُففففف اس کا مطلب یہ ہے کہ مادیہ کی گولیاں اور میرے کنڈوم امی نے آج نہیں پکڑے، بلکہ یہ سب چیزیں کچھ دن پہلے ان کے ہاتھ لگی ہیں، اور ڈیرے پر آج امی کی آمد اتفاقیہ نہیں تھی، بلکہ آج امی جان بوجھ کر ایسے راستے سے ڈیرے پر آئی تھیں، کہ جہاں سے آتے ہوئے وہ ہماری نظر میں نہ آ سکیں، تاکہ وہ چپ کر اپنے بچوں کی چودائی کا نظارہ کر سکیں” امی کی آنکھوں میں موجود چودائی کی پیاس کو دیکھ کر مجھے ایک ہی لمحے میں نہ صرف سارے معاملے کی سمجھ آ گئی۔بلکہ مادیہ اور میری چودائی کا علم ہونے کے باوجود ہم دونوں سے غصہ نہ کرنے کا سبب بھی مجھے پتا چل گیا۔ اور اسی وجہ سے میرے لڑکے کی گرمی مزید تیز ہوتی چلی گئی۔“لگتا ہے امی کے جسم میں بھی جنسی پیاس کی آگ لگی ہوئی، اس لیے میرے لیے یہ ایک سنہری موقع ہے جس کا فائدہ اٹھا کر مادیہ کے ساتھ ساتھ میں اپنی امی کی چوت کا مزہ بھی چکھ سکتا ہوں” رات کی تاریکی میں اپنی امی کے ساتھ ایک ہی بستر پر بیٹھے ہوئے میرے دل میں اس خیال نے جنم لیا۔تو دل ہی دل میں میں نے اپنے آپ کو آنے والے لمحے کے لیے تیار کر لیا۔“تم کن سوچوں میں پڑ گئے ہو، مجھے جواب دو کہ تم نے اپنی بہن کا پیچھا چھوڑنا ہے کہ نہیں راحیل” میرے پاس بیٹھی امی نے جب مجھے گم سم اپنی سوچوں میں مگن دیکھا تو میری طرف دیکھتی ہوئی بولیں۔“ٹھیک ہے آپ کے کہنے پر میں مادیہ سے اپنا تعلق ختم کر سکتا ہوں، مگر میرا کیا بنے گا امی جان” یہ کہتے ہوئے میں نے اپنا ہاتھ کو پاس بیٹھی اپنی امی کی گوشت بھری ران پر رکھ کر شلوار کے اوپر سے اپنی امی کی گداز ران کو اپنے ہاتھ سے ہلکا سا دبایا۔ تو امی کی ران سے نکلنے والی گرمی کی لہر نے میرے پورے وجود کو گرم کر رکھ دیا۔“اُففففف امی کی رانوں میں اتنی گرمی ہے، تو ان کی چوت میں تو پوری آگ ہی لگی ہو گی یار” اپنی امی کی ٹانگ کی تپش کو شلوار کے اوپر سے اپنے ہاتھ پر محسوس کرتے ہی میرے دل میں یہ خیال آیا۔ تو مزے کے مارے میرے ہاتھ کا دباؤ امی کی ران پر بڑھتا چلا گیا۔“ٹھیک ہے میں کوئی اچھا سا رشتہ دیکھ کر تمہاری شادی کر دیتی ہوں بیٹا” اپنی ٹانگ پر رکھے ہوئے میرے ہاتھ کو نظر انداز کرتے ہوئے امی نے میری بات کا جواب دیا۔ تو میرا حوصلہ بڑھ گیا اور میں نے اپنا ہاتھ کو امی کی ران پر آہستہ آہستہ پھیرنا شروع کر دیا۔“شادی تو ٹھیک ہے مگر اس سے پہلے میں ابو کی چوری ہوئی ساری جائیداد میں سے اپنا پورا حصہ وصول کرنا چاہتا ہوں امی” امی کی بات کا جواب میں ڈرتے ڈرتے میں بولا۔ اور ساتھ ہی میرے ہاتھ نے اب اپنا رخ آہستہ آہستہ امی کی ران کے اندرونی حصے کی طرف کر لیا۔امی اپنی ران پر پھرنے والے میرے ہاتھ کی حرکات کو محسوس تو کر رہی تھیں۔مگر اس کے باوجود انہوں نے مجھے روکنے کی کوئی کوشش نہیں کی۔ اس لیے میرے ہاتھ کا دباؤ اپنی امی کی ران پر بڑھتا چلا جا رہا تھا۔اس دوران میں نے محسوس کیا کہ جوں ہی میرے ہاتھ نے امی کی ٹھائیں کے اندرونی حصے کی طرف اپنا سفر شروع کیا۔ تو میرے ہاتھ کی حرکت سے امی کے جسم میں ایک اکڑ سی بھی آنے لگی تھی۔“اپنے والد کا اکلوتا بیٹا ہونے کی حیثیت سے ابو کی وفات کے بعد سب کچھ تمہارا ہی تو ہے، اس لیے جائیداد سے پورا حصہ وصول کرنے والی تمہاری بات کی مجھے سمجھ نہیں آئی راحیل” میری بات کا جواب میں امی نے حیرانی سے میری طرف دیکھتے ہوئے پوچھا۔“آپ جانتی ہیں کہ باپ کی چوری ہوئی ساری چیزوں پر بیٹے کا حق ہوتا ہے، ویسے تو میں نے ابو کی ساری چیزوں پر اپنا قبضہ پکا کر لیا ہے، مگر ان کی چوری ہوئی سب سے قیمتی چیز ابھی تک میری دسترس سے باہر ہے، اور آج موقع آ گیا ہے کہ میں اس پر بھی اپنا حق جتا لوں امی جان” میں نے ڈرتے دل کے ساتھ یہ بات کہی اور اپنے ہاتھ کو اپنی امی کی چوت کے نزدیک لے آیا۔“سیدھی سیدھی بات کرو، کیوں پہیلیاں بجوا رہے ہو راحیل” اپنی چوت کے انتہائی نزدیک پہنچے والے میرے ہاتھ کی گرمی کو محسوس کر کے امی کی سانسوں میں تیزی آنے لگی۔“اصل میں اپنی بہن مادیہ کی کنواری چوت کو چود کر مجھے اپنے ہی گھر کی چوت کا چسکہ پڑ گیا ہے، اسی لیے میں چاہتا ہوں کہ اب اپنے باپ کی چوری ہوئی چوت میں اپنا لڑکا ڈال کر ابو کی ساری جائیداد کا پورا مالک بن جاؤں امی جی”۔یہ بات کہتے ہوئے میں نے امی کی ران پر چلتے ہوئے ہاتھ کو آگے بڑھایا۔ اور شلوار کے اوپر سے اپنی امی کی چوت کو ایک دم اپنی گرفت میں کر لیا۔میرے ہاتھ نے جوں ہی پہلی بار اپنی امی کی چوت کو چھوا۔ تو جذبات کی شدت سے امی کے منہ سے بے اختیاری میں ایک گرم سسکی نکل گئی “اوہhhhh”۔اپنے منہ سے سسکی نکلنے کے باوجود امی نے میرے ہاتھ پر اپنا ہاتھ مار کر اپنی چوت پر جمے ہوئے میرے ہاتھ کو ایک جھٹکے سے الگ کیا۔ اور ایک دم بستر سے اٹھ کر غصے کے عالم میں بولیں، “اپنی اس گندی حرکت اور اس بکواس پر شرم آنی چاہیے تمہیں راحیل”۔میں تو امی سے کی جانے والی اس حرکت کے جواب میں امی کی گالیاں اور تھپڑوں کی امید لگائے بیٹھا تھا۔مگر جب میری اس حرکت کے جواب میں امی صرف زبانی غصہ نکال کر کمرے سے باہر جانے لگیں۔تو مجھے سمجھ آ گئی کہ امی کی چوت میں جنسی آگ کے شعلے بھڑک اٹھے ہیں اور اب ان کے منہ پر نظر آنے والا غصہ نقلی ہے۔اس بات نے میری ہمت مزید بڑھا دی اور اس کے ساتھ ہی میں بھی بستر سے اٹھا۔ اور باہر جاتی اپنی امی کی کمر میں پیچھے سے ہاتھ ڈال کر میں نے ان کو اپنی طرف کھینچ لیا۔تو میری شلوار میں تنا ہوا میرا لڑکا پیچھے سے امی کی گاند کی موٹی موٹی پھریوں میں پھنستا چلا گیا۔“تم پاگل ہو گئے ہو، مجھے جانے دو، مت بھولو میں تمہاری امی ہوں راحیل” میرے لڑکے کی سختی کو اپنی بھاری گاند پر محسوس کرتے ہی امی نے اپنے آپ کو میری بازوؤں کی گرفت سے چھڑانے کی کوشش کی۔“امی مجھے اندازہ نہیں تھا کہ ابو کی وفات کے بعد آپ کے جسم کی جنسی پیاس اتنی بھڑک چکی ہے، کہ اسے ٹھنڈا کرنے کے لیے آپ اپنے ہی سگے بچوں کی چودائی دیکھ دیکھ کر مزے کرتی رہی ہیں” میں امی کی بات کو نظر انداز کرتے ہوئے بولا۔اس کے ساتھ ہی میں نے اپنی گرم زبان سے اپنی امی کی گردن کو چومتے ہوئے اپنے ہاتھوں کو اوپر کیا۔اور اپنی امی کی بھری موٹی چھاتیوں کو کمیز کے اوپر سے اپنے کبوں میں کرتے ہی ان کو آہستہ آہستہ دبانا اور مسلنا شروع کر دیا۔“کیا بکواس کیے جا رہے ہو تم، چھوڑو مجھے راحیل” اپنی بھری چھاتیوں سے میرے ہاتھوں کا ٹچ ہوتے ہی امی کے جسم کو کرنٹ لگا۔ اور انہوں نے ایک بار پھر اپنے جسم کو میری قید سے چھڑانے کی کوشش کی۔“آپ بے شک اپنے منہ سے میری کہی گئی بات کا اقرار نہ کریں، مگر آپ کی آنکھوں میں تہرتی جنسی پیاس مجھے بتا چکی ہے، کہ آپ نہ صرف میری اور مادیہ کی چودائی کو چپ چپ کر دیکھتی رہی ہیں، بلکہ آپ کی چوت میں میرے لڑکے کی آگ بھی لگی ہوئی ہے امی جان” میں نے اپنی امی کے موٹے ممیوں کو اپنے ہاتھوں میں زور سے مسلتے ہوئے یہ بات اپنی امی سے کہی۔“نہیں میں نے ایسا کوئی کام نہیں کیا راحیل، ہٹو پیچھے اور جانے دو مجھے” میری بات کا جواب دیتے ہوئے امی نے اپنے آپ کو چھڑانے کی کوشش کی۔“آپ چاہیں جو مرضی کہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ میرے لڑکے کی طلب ہی کی وجہ سے آپ میرے لڑکے کے پانی سے بھرے کنڈوم کو اپنے ان موٹے ممیوں کے درمیان رکھنے پر مجبور ہو گئی تھیں امی جی” امی سے بات کہتے ہوئے میں اپنے ایک ہاتھ کو امی کے ممی سے ہٹا کر نیچے لایا۔ اور پھر اپنے ہاتھ کو امی کی ایلاسٹک والی شلوار کے اندر ڈال کر اپنی امی کی چوت پر اپنا ہاتھ رکھ دیا۔اپنی امی کی چوت کی تپش کو اپنے ہاتھ کی ہتھیلی پر محسوس کرتے ہی مجھے ایسا لگا کہ میں نے کسی تندور میں ہاتھ ڈال دیا ہو۔میں نے جوں ہی امی کی گرم چوت پر ہاتھ رکھ کر اسے پھدی کے لبوں کو ہاتھ سے مسلا۔ تو میرے ہاتھ کے دباؤ اور مزے کے مارے امی کے منہ سے ایک سسکاری سی نکلی “ہائے، نہیں کرو نا راحیل”۔امی کی سسکاری سنتے ہی مجھے جوش آیا اور میں اپنا منہ امی کے کان کے پاس لا کر بولا۔ “اُففف آپ کی چوت تو مادیہ سے بھی زیادہ گرم اور پیاسی ہے، بس آپ مجھے ایک موقع دیں تو میں آپ کی پیاسی چوت میں اپنا لڑکا ڈال کر آپ کی بیوہ زندگی میں پھر سے بہار کر دوں گا امی جان”۔اپنی امی سے یہ بات کہنے کے ساتھ ساتھ میں امی کی شلوار میں گھسے ہوئے ہاتھ کو امی کی چوت پر زور زور سے پھیرتا رہا۔تو میرے ہاتھ کی مہربانی سے امی کی چوت مزید گرم ہو کر اپنا پانی چھوڑنے لگی۔جس کی وجہ سے امی کی چوت سے بہنے والا یہ پانی ان کی پھدی سے نکل نکل کر امی کی گداز رانوں کو گیلا کرنے لگا۔امی کی چوت سے چیڑ چار کرنے کے چند ہی لمحوں بعد میں نے محسوس کر لیا کہ امی کی نام نہاد مزاحمت اب دم توڑ رہی ہے۔اس لیے اب اپنی امی کو مزید گرم کرنے کے لیے میں نے اپنی ایک انگلی کو چوت کے دانے پر رکھ کر اسے مسلنا شروع کر دیا۔تو اس کے ساتھ ہی میرے ہاتھ کے مزے سے بے حال ہوتے ہوئے امی کے صبر کا پیمانہ بھی لبریز ہو گیا۔ اور پھر اپنی جنسی پیاس کے ہاتھوں مجبور ہو کر بے خودی کے عالم میں آخر کار امی چلا اٹھیں۔ “اُففف کیا اب اپنے ہاتھ سے ہی میری چوت کا سارا پانی نکالو گے، یا اپنے لڑکے کا حل چلا کر اپنے ابو کی چوری ہوئی بنجر زمین کو پھر سے آباد بھی کرو گے راحیل”۔یہ کہتے ہوئے امی نے اپنا جسم پیچھے کی طرف دھکیلا۔ اور اپنی اپنی گداز گاند کو زور زور سے میرے ہرے ہوئے سخت لڑکے پر رگڑنا شروع کر دیا۔“اوہhhhh میرا لڑکا تو آپ کی پیاسی زمین کو پانی لگانے کے لیے کب سے تیار ہے، بس آپ کی رضا مندی کا انتظار تھا امی جان” امی کی مستی بھری آواز سن کر مجھے بھی جوش آیا۔ اور میں نے ایک ہی جھٹکے میں اپنی امی کی کمیز اور شلوار کو اتار کے انہیں زمین پر پھینک دیا۔اب امی میرے سامنے اس حالت میں کھڑی تھیں۔ کہ ان کی پیٹھ میری طرف تھی جبکہ ان کے جسم پر صرف ایک برازیئر اور انڈرویئر باقی بچا رہ گیا تھا۔ اور برازیئر اور پینٹی میں ملبوس امی کا گورا دودھ کی طرح صاف جسم میرے لڑکے پر بجلیاں جڑا رہا تھا۔امی کے گرم پیاسے جسم کو بھوکی نظروں سے دیکھتے ہوئے میں نے بھی جلدی سے اپنی شلوار کمیز اتاری اور پھر اپنی امی کے پیچھے آ کھڑا ہوا۔“اوہhh ہائے میں آپ کے حسین بدن کے پیچھے پاگل ہو رہا ہوں امی” یہ کہتے ہوئے میں نے پیچھے سے ایک بار پھر اپنا ہاتھ اپنی امی کی پینٹی میں ڈالا اور اپنی امی کی چوت کے دانے سے کھیلنے لگ گیا۔ساتھ ہی ساتھ میں نے اپنی امی کا ہاتھ پکڑ کر اپنے پتھر کی طرح سخت لڑکے پر رکھ دیا اور بولا “دیکھیں میرا لڑکا کیسے بے چین ہو رہا ہے آپ کی چوت میں جانے کے لیے امی”۔“اوہhhhh تمہارے لڑکے کے ساتھ ساتھ میری پھدی بھی بہت مچل تمہارے لڑکے سے چدوائے کے لیے بیٹا” میرے لڑکے کو اپنے ہاتھ کی گرفت میں لیتے ہوئے امی نے کہا۔اور ساتھ ہی اپنے ہاتھ سے میرے لڑکے کی مٹھ لگانا شروع کر دی۔اب کمرے میں حالت یہ تھی کہ میں امی کے پیچھے کھڑے ہو کر اپنی امی کی پینٹی میں ہاتھ ڈالے ان کی چوت کے لبوں اور پھدی کے چولے کو اپنے ہاتھ سے رگڑ اور مسل رہا تھا۔جبکہ میری امی اپنے جوان بیٹے کے موٹے سخت لڑکے کو اپنے ہاتھ میں لے کر مٹھ لگاتے ہوئے مجھے مزہ دے رہی تھیں۔ اور ہم دونوں کے منہ سے مزے بھری سسکیاں نکل کر کمرے کے ماحول کو مزید رنگین بنا رہی تھیں۔تھوڑی دیر مزید اپنی امی کی چوت کو اپنے ہاتھ سے گرم کرنے کے بعد میں نے امی کے برازیئر کی ہک کھول کر اپنی امی کے موٹے بڑے کبوتروں (ممیوں) کو پنجرے کی قید سے آزاد کیا۔ اور ساتھ ہی اپنی امی کی پینٹی بھی اتار کر اپنی امی کو اپنے ہی ہاتھوں مکمل ننگا کر دیا۔“آپ بستر پر گوری بن کر لیٹ جائیں، میں آپ کی چوت کو پیچھے سے چودنا چاہتا ہوں امی جی” اپنی امی کو پورا ننگا کرنے کے بعد میں نے ان کو پیٹ کے بل بستر پر لٹایا۔ تو اس انداز میں امی کی بھاری گاند پیچھے سے ہوا میں اٹھ گئی۔“اُففففف کیا فٹ بال جیسی گول گاند ہے آپ کی امی جان” اپنی امی کی ہوا میں اٹھی ہوئی گاند کی دونوں بھری بھری پھریوں کو اپنے ہاتھ میں تھام کر زور سے مسلتے ہوئے میں بولا۔امی کی گاند کے پیچھے بیٹھ کر میں نے جوں ہی امی کی موٹی پھریوں کو اپنے ہاتھ سے کھولا۔تو امی کی پھولی ہوئی پیاری چوت میری آنکھوں کے سامنے کھلتی چلی گئی۔“اُفففف لگتا ہے کہ میرے گھر کی عورتیں اپنی چوت کی صفائی کا بہت خیال رکھتی ہیں” مادیہ کی طرح اپنی امی کی بغیر بالوں والی چوت کو دیکھ کر میں نے کہا۔اور ساتھ ہی اپنی انگلی کو تھوک لگا کر اپنی امی کی چوت پر پھیرنا شروع کر دیا۔“اُففففف اب ڈال بھی دو نا اپنا لڑکا میری چوت میں، کیوں تڑسا رہے ہو اپنی امی کو بیٹا” اپنی پانی چھوڑتی چوت پر میری تھوک بھری انگلی کو محسوس کرتے ہی گوری بنی میری امی کے منہ سے سسکاری نکل گئی۔“ذرا صبر کریں، کیونکہ آپ کی چوت کو چودنے سے پہلے میں آپ کی چوت کا ذائقہ چکھنا چاہتا ہوں امی جان” اپنی امی کی بے قراری کو نظر انداز کرتے ہوئے میں نے یہ بات کہی اور ساتھ ہی اپنا منہ کھول کر اپنی امی کی چوت پر اپنی گرم زبان گھما دی۔چوت چاٹائی کا یہ تجربہ امی کے لیے بالکل نیا تھا۔ اس لیے میری گرم زبان کے چوت سے ٹکراتے ہی امی لذت کے مارے سسکاریاں لینے لگیں اور بولیں “اُففف تمہارے مرحوم ابو نے اپنی پوری شادی شدہ زندگی میں میرے ساتھ کبھی یہ کام کیا، جو تم میرے ساتھ اس وقت کر رہے ہو راحیل”۔“اوہhhhh ابو کا تو مجھے پتا نہیں، مگر آپ کی چوت کے اس نمکین سواد نے مجھے پاگل کر دیا ہے امی” اپنی امی کی بات کا جواب میں دیوانہ وار اپنی امی کی چوت کو چاٹتے ہوئے میں بھی سسکارا۔“ہائے آج میرا اپنا بیٹا ہی مجھے جنسی لذت کی نئی دنیا سے روشناس کروا رہا ہے” میری چوت چاٹی سے بے حال ہوتے ہوئے امی بولیں۔امی کی ان باتوں نے میری گرم جوشی میں اضافہ کر دیا اور میں کچھ دیر یوں ہی اپنی امی کی چوت کو چاٹ چاٹ کر امی کی چوت کو گیلا کرتا رہا۔جب میں نے اپنی امی کی چوت کو اچھی طرح سے اپنے لڑکے کے لیے تیار کر لیا۔ تو میں اٹھ کر اپنی امی کی گاند کے پیچھے آیا۔اور اپنے لڑکے کو اپنے ہاتھ میں پکڑ کر اپنی امی کی چوت کے لبوں کے درمیان رگڑا۔“اُففففف بیٹا” اپنی بیوگی کے اتنے مہینوں بعد آج پہلی بار ایک جوان لڑکے کو اپنی چوت کے لبوں سے ٹکراتے ہوئے محسوس کر کے امی زور سے سسکار اٹھیں۔میرے لیے یہ لمحہ ایک خواب سے کم نہیں تھا کہ میں رات کی تاریکی میں اپنے کمرے میں اپنی ہی سگی امی کی چوت پر اپنے سخت لڑکے کو رگڑ رہا تھا۔ اور میری امی میرے گرم اور سخت لڑکے کو اپنی چوت کے لبوں سے چھوتا ہوا محسوس کر کر مزے سے سسکیاں لے رہی تھیں۔اس لیے اپنی امی کی چوت پر اپنا لڑکا رگڑتے ساتھ ہی میرے لیے اب اپنی ماں کی چوت سے مزید دور رہنا ناممکن ہو گیا۔تو اپنے لڑکے کو ہاتھ میں تھامے ایک لمحے کے لیے میں امی کی چوت سے علیحدہ ہوا۔اور دوسرے ہی لمحے ایک دم آگے کو بڑھتے ہوئے میں نے اپنے لڑکے کو پیچھے سے اپنی والدہ مجیدہ کی اس چوت میں گھسا دیا۔ جس پھدی نے آج سے کئی سال پہلے مجھے اپنی کوکھ سے نکال کر اس دنیا میں جنم دیا تھا۔“اوہhhhh راحیل” میرے لڑکے کے چوت میں گھستے ہی مستی بھری آواز امی کے منہ سے نکلی۔تو اپنی امی کی گرم سسکی سن کر مزے سے میں بھی سسکار اٹھا “اُففف فخریٰ”۔“ہائے پھدی میں لڑکا ڈالتے ہی امی سے ایک دم فخریٰ پر آ گئے ہو تم تو راحیل” میری کہی ہوئی بات سن کر امی بولیں اور ساتھ ہی اپنی گاند کو پیچھے دھکیلتے ہوئے میرے لڑکے کو اپنی چوت میں پورے کا پورا جذب کر لیا۔“ہاں کیونکہ میرے لڑکے کو چوت میں لیتے ہی امی سے بیوی جو بن گئی ہو آپ، میری فخریٰ بیگم” امی کی بات کا جواب دیتے ہوئے میں نے کی گاند کی بھری پھریوں کو اپنے دونوں ہاتھوں میں تھاما۔ اور اپنی امی کی چوت میں زور زور سے اپنے لڑکے کے جھٹکے مارنے لگا۔“ہائے میں تو لڑکے کا سواد ہی بھول گئی تھی، مگر میری چوت میں اپنا جوان لڑکا ڈال کر تم نے واقعی ہی میری بیوہ چوت کو پھر سے سوہاگن کر دیا ہے، اوہhh چودو مجھے راحیل، میرے سرتاج”۔“اُفففف تمہاری چوت تو تمہاری بیٹی کی چوت سے بھی زیادہ مزے دار ہے فخریٰ بیگم” اپنی امی کی بات سنتے ہی میں اپنے دونوں ہاتھوں سے امی کے موٹے موٹے سیکسی چوتر سختی سے پکڑ کر تیزی سے امی کو چودنے لگا۔پورے کمرے میں میری اور امی کی لذت بھری آوازیں گونج رہی تھیں۔ “آہhh اُففف اوئیییی میں مار گئی اُففف بیٹا تم بہت اچھی چودائی کرتے ہو، آہhh مجھے بہت مزہ آ رہا ہے اوہhh”۔میں اب طوفانی انداز میں امی کی چوت کو چودنے میں مصروف تھا۔ اور امی بھی اب اپنی گاند کو پیچھے دھکیلتے ہوئے میرے لڑکے کو اپنی چوت میں دبوچے چلی جا رہی تھی۔کچھ دیر ایسے ہی گوری بنا کر چودنے کے بعد میں نے امی کی چوت سے اپنا لڑکا نکالا تو میرا لڑکا اپنی امی کی چوت کے پانی سے بھرا ہوا تھا۔“آپ بستر پر سیدھی ہو کر لیٹ جائیں امی جان” امی کی چوت سے نکل کر میں نے انہیں کمر کر بل سیدھا بستر پر لٹا دیا۔“اُففففف یہ ہیں نا ہو ممی، جن کے درمیان آپ نے میرے لڑکے کے پانی سے بھرے کنڈوم کو چھپا کر رکھا تھا امی جان” بستر پر سیدھا لیٹتے ہی میری نظر پہلی بار اپنی امی کے ان ممیوں پر پڑی۔ تو میں نے امی کے موٹے ممیوں کے لمبے نپلز پر اپنی گرم زبان گھمتے ہوئے امی سے پوچھا۔“ہاں اور تمہارے لڑکے کے پانی سے بھرے کنڈوم نے میرے ممیوں میں بھی اتنی ہی آگ لگی تھی، جتنی آگ اس وقت تمہارا لڑکا میری پھدی میں لگا رہا ہے راحیل” یہ بات کہتے ہوئے امی نے میرے سر پر اپنا ہاتھ رکھ کر زور سر دبایا۔ تو امی کا پورا نپل میرے کھلے منہ میں گھستا چلا گیا۔“آپ اپنے ان بڑے ممیوں کو اپنے دونوں ہاتھوں سے پکڑ کر ایک ساتھ ملیں امی” میں نے اپنی امی کے موٹے ممیوں کو زبان سے چومتے اور چاٹتے ہوئے کہا۔“وہ کس لیے بیٹا” میری بات سن کر امی نے تھوڑی حیرانی سے مجھے پوچھا۔“کیونکہ میں آپ کے ان ممیوں کو اپنے لڑکے کے ساتھ چود کر آپ کے ممیوں کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں، جنہوں نے میرے لڑکے کے پانی کی اتنی عزت افزائی کی ہے امی جان” میں امی کی بات کا جواب دیتے ہوئے اٹھا اور امی کے پیٹ کے اوپر چڑھ کر بیٹھ گیا۔امی نے میرے کہنے کے مطابق اپنے دونوں ہاتھوں سے اپنے ممیوں کو آپس میں جوڑا۔ تو میرا لڑکا میری امی کے موٹے اور بڑے ممیوں کی قید میں جکڑا گیا۔“اُفففف آپ کی چوت کے ساتھ ساتھ آپ کے ممیوں میں بھی بہت گرمی ہے فخریٰ بیگم” اپنی امی کی چوت کے چھوٹے ہوئے پانی سے بھرا ہوا اپنا سخت اور جوان لڑکا امی کی گداز چھاتیوں کے درمیان رکھتے ہوئے میں نے کہا۔ اور اس کے ساتھ ہی جوش سے اپنے لڑکے کو اپنی امی کے موٹے اور بھری ممیوں کے درمیان تیزی سے رگڑنا شروع کیا۔تو میرے لڑکے کی گرمی کے ہاتھوں بے حال ہوتے ہوئے امی نے بھی اپنا منہ کھول دیا۔جس کی وجہ سے میرے لڑکے کا ٹوپا امی کی گرم زبان سے بھی رگڑ کھانے لگا۔“اُفففف آپ کے گداز ممیوں کے ساتھ ساتھ آپ کی گرم زبان بھی میرے لڑکے کو پیار کر رہی ہے امی جی” اپنی امی کی زبان کو اپنے لڑکے کے ٹوپے پر محسوس کرتے ہی میں مزے سے چلا اٹھا۔“جب میرا بیٹا اپنی امی کی بیوہ چوت میں دوبارہ سے زندگی کی خوشیاں لا سکتا ہے، تو میں ایک ماں سے اپنی ہی بیٹے کی بیوی بن کر اپنے شوہر کو چودائی کا نیا مزہ کیوں نہیں دے سکتی راحیل جانو” میرے بات کا جواب میں میرے لڑکے پر جوش سے اپنی زبان چلتے ہوئے امی نے کہا۔تو اپنی بیوی/امی کی یہ بات سن کر جوش کے مارے میرے لڑکے کی نسین بھی پھولنے لگیں۔اور اب میں پہلے سے بھی زیادہ تیزی کے ساتھ اپنے موٹے لڑکے کو اپنی امی کے بھری ممیوں کے درمیان رگڑنے لگ گیا۔“اُففففف تم نے آج میری چوت اور میرے ممیوں کو ایک ساتھ چود کر یہ ثابت کر دیا ہے، کہ والد کے بعد ایک ماں کی چوت پر صرف اور صرف اس کے سگے بیٹے کا ہی حق ہوتا ہے راحیل۔میرے سخت جوان لڑکے کی گرمی کو اپنے ممیوں کے درمیان محسوس کرتے ہوئے امی کے منہ سے بے ساختہ سسکیاں نکلنے لگی۔“ہائے اب مجھ سے مزید برداشت نہیں ہو رہا، اس لیے میں آپ کے ممیوں میں ہی اپنے لڑکے کا پانی چھوڑنے لگا ہوں فخریٰ بیگم”۔اپنی امی کی بات سنتے ہی میرے لڑکے کا بند ٹوٹ گیا اور میرے لڑکے سے میرا گرم پانی نکل کر امی کے ممیوں کے ساتھ ساتھ ان کے منہ میں بھی گرنے لگا۔“اوہhh تم نے بچپن میں جن چھاتیوں سے دودھ پیا تھا، آج میری ان ہی چھاتیوں کے درمیان اپنے لڑکے کا گرم پانی انڈیل کر، تم نے اپنے دودھ کا حق ادا کر دیا ہے میرے بیٹے”۔میرے لڑکے کا گاڑھا مادہ امی کے بڑے ممیوں اور کھلے منہ میں گرتے ہی مزے کے ساتھ میرے لڑکے کے نمکین پانی کو چاٹ کر اپنے حلق میں اتارتے ہوئے امی نے کہا۔اپنی امی کے ممیوں کے درمیان اپنے لڑکے کا پانی انڈیلتے ہوئے میری نظر کمرے کے دروازے کی طرف گئی۔تو مجھے مادیہ نظر آئی جو دروازے پر بٹ بن کر کھڑی مجھے اور امی کو حیرانی کے ساتھ دیکھنے میں مصروف تھی۔“ہائے اپنی بہن مادیہ سے کی گئی بے وفائی پر اب اسے کیا جواب دوں گا میں” رات کے اندھیرے میں اپنی بہن مادیہ کو یوں اچانک کمرے کے دروازے ساتھ کھڑے ہو کر میری اور امی کی چودائی دیکھتے ہوئے ایک لمحے کے لیے میں نے گھبرا کر سوچنے لگا۔ تو پھر دوسرے ہی لمحے میری نظر مادیہ کے چہرے سے ہٹ کر اس کے جسم پر پڑی۔اُففف یہ کیا مادیہ تو اس وقت نہ صرف مکمل ننگی ہے، بلکہ اسی ننگی حالت میں کمرے کے دروازے پر کھڑے ہو کر میری اور امی کی چودائی کو دیکھ کر اتنی گرم ہو چکی ہے، کہ وہ اب اپنی چوت کو اپنے ہی ہاتھ سے مسل کر اپنی چوت میں لگی آگ کو ٹھنڈا بھی کر رہی ہے”۔اپنی بہن کو یوں کمرے کی دیوار کے ساتھ لگ کر میری اور امی کی چودائی دیکھنے کے ساتھ ساتھ اپنی چوت میں اپنی ہی انگلی مارتے دیکھ کر میں نے سکون کا سانس لیا۔ اور پھر امی سے نظر بچا کر اپنی بہن کو کمرے میں آنے کا اشارہ کر دیا۔میرے اشارے کو سمجھتے ہی مادیہ نے ایک لمحے کے لیے میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر میری طرف دیکھا اور پھر انکار میں اپنا سر ہلا دیا۔“پلیز” مادیہ کے انکار کو دیکھ کر میں نے نظروں ہی نظروں میں دوبارہ اپنی بہن سے کمرے میں درخواست کی۔ اور اس کے ساتھ ہی امی کے اوپر سے ہٹ کر بستر پر ان کا برابر لیٹ گیا۔میری التجا بھری نظروں کو دیکھ کر چند لمحوں کے لیے مادیہ بٹ بن کر ادھر ہی کھڑی رہی۔اور پھر کچھ دیر بعد کسی فیشن شو کے ریمپ پر چلنے والی ماڈل کی طرح اپنی گاند مٹکاتی ننگی حالت میں ہی میرے بستر کے قریب آ کھڑی ہوئی۔مادیہ کے خاموشی سے کمرے میں داخل ہونے کی وجہ سے پہلے پہل تو امی کی نظر اس پر نہیں پڑی۔مگر کمرے میں آ کر مادیہ جوں ہی بستر کے نزدیک پہنچی تو وہ امی کی نظر میں آ ہی گئی۔اپنی جوان بیٹی کو یوں ننگی حالت میں ایک دم اپنے سامنے پا کر ایک لمحے کے لیے امی کے تو ہوش ہی اڑ گئے۔ مگر انہیں فوری طور پر سمجھ نہیں آیا کہ اس صورتحال میں وہ کیسے ری ایکٹ کریں۔لیکن جیسے ہی امی کو یہ احساس ہوا کہ مادیہ کے ساتھ ساتھ وہ بھی تو اس وقت مکمل ننگی حالت میں ہیں۔تو میرے پہلو میں لیٹی میری امی نے تیزی کے ساتھ لپک کر پاس پڑی بستر کی چادر اٹھائی اور اپنے جسم کو ایک دم ڈھانپنے کی کوشش کی۔“مادیہ باہر کھڑے ہو کر کافی دیر سے ہم دونوں کی چودائی دیکھتی رہی ہے، اور آپ کی بیٹی اب آپ کے جسم کے سارے نشیب و فراز سے اچھی طرح واقف ہو چکی ہے، اس لیے اب اس سے اپنے جسم کو چھپانے کا کوئی فائدہ نہیں فخریٰ بیگم” امی کو یوں ایک دم اپنے اوپر چادر لیتے دیکھ کر میں مسکراتے ہوئے بولا۔ اور ساتھ ہی امی کے جسم پر بچی ہوئی چادر کو اپنے ہاتھ سے پکڑ کر امی کے جسم سے وہ چادر اتار پھینکی۔“اُففف خدایا، مادیہ اتنی دیر سے ہم دونوں کو دیکھتی رہی ہے، تو تم نے مجھے بتایا کیوں نہیں راحیل” میری بات سنتے ہی امی میری طرف دیکھی اور اپنے موٹے ننگے ممیوں کو اپنے دونوں ہاتھوں سے چھپاتے ہوئے تھوڑا غصے میں بولیں۔“جب آپ چپ چپ کر میری اور مادیہ کی چودائی دیکھتی رہی ہیں، تو اس وقت آپ نے مجھے بتایا تھا، جو اب میں مادیہ کے بارے میں آپ کو بتاتا امی جان” امی کی بات سنتے ہی میں مسکرایا اور شرارتی انداز میں اپنی امی کو جواب دیا۔“اوہhhhh چونکہ آپ کو اپنے ہی بچوں کی چودائی دیکھنے میں آپ کو مزہ آتا ہے، اور اسی وجہ سے ٹیوب ویل پر ہمیں رنگے ہاتھوں پکڑنے کے باوجود آپ نے ہمیں کچھ نہیں کہا امی” امی کے متعلق میرے منہ سے نکلنے والے اس راز کو سن کر مادیہ نے حیرانی سے امی کی طرف دیکھا اور بولی۔میری بہن کی بات سنتے ہی امی نے شرمندہ نظروں کے ساتھ مادیہ کی طرف دیکھنا اور شرم کے مارے امی کا منہ لال ہو گیا۔“شرمندہ ہونے کی ہرگز ضرورت نہیں، کیونکہ آج سے آپ دونوں ہی میری عورتیں ہو، اور گھر کے سربراہ کی حیثیت سے آپ دونوں کی جسمانی ضروریات کا ایک ساتھ خیال رکھنا اب میری فرض ہے” امی کے چہرے پر شرمندگی کے آثار دیکھتے ہی میں نے امی کو سمجھاتے ہوئے کہا۔اس کے ساتھ میں نے اپنی بہن مادیہ کی طرف اپنا منہ کیا اور بولا “اب ادھر کھڑے کھڑے میرے اور امی کے ننگے جسموں کو ہی دیکھتی رہو گی، یا قریب آ کر مجھے اپنے اس پیاسے جسم کی پیاس بجھنے کا موقع بھی دو گی میری رانی”۔“ہائے اس چوت پر اب آپ کا ہی حق ہے، اس لیے اپنی پھدی کو چودنے کا موقع آپ کو نہیں دوں گی تو پھر اور کسے دوں گی بھائی” میری بات سنتے ہی مادیہ بولی اور پھر بستر پر چڑھ کر بستر پر لیٹی امی کی ٹانگوں کے نزدیک آ بیٹھی۔مادیہ کو یوں اپنے اتنے قریب دیکھ کر امی ریلیکس ہونے کی بجائے اور شرما گئیں۔ اور اپنی شرم کے ہاتھوں مجبور ہو کر نہ صرف انہوں نے اپنی آنکھیں بند کر لیں۔بلکہ ساتھ ہی ساتھ اپنی دونوں ٹانگوں کو ایک ساتھ ملا کر اپنی چوت کو اپنے ہاتھوں سے ڈھانپ لیا۔امی کو ابھی تک یوں شرماتے دیکھ کر میں ایک دم جنگلا گیا۔اس لیے غصے میں آتے ہوئے میں نے آپس میں جڑی ہوئی امی کی دونوں ٹانگوں کو اپنے ہاتھ سے پکڑ کر زبردستی کھولا۔ اور امی کی چوت سے ان کے ہاتھوں کو بھی ہٹا کر مادیہ سے بولا، “مادیہ دیکھو کتنی مزے دار چوت ہے ہماری امی کی، اُففف اس عمر میں بھی امی کی چوت جوان لڑکیوں کی چوتوں کو پیچھے چھوڑتی ہے”۔“اُففففف امی کی چوت تو واقعی ہی بہت خوبصورت ہے، اسی لیے تو آپ بھی اس کے عاشق بن گئے ہیں بھائی” امی کی بند ٹانگیں کھلتے ہی جوں ہی امی کی چوت پہلی بار مادیہ کے سامنے پوری طرح عریاں ہوئی۔تو میری چودائی کی وجہ سے پانی پانی ہوتی اپنی سگی امی کی پھدی کو دیکھ کر مادیہ کے منہ میں بھی پانی بھر آیا۔ اور مزے کے مارے وہ اپنی زبان کو اپنے ہونٹوں پر پھیرتے ہوئے سسکار اٹھی۔اپنی امی کی چوت کو دیکھ کر اپنے ہونٹوں پر زبان پھیرنے والے مادیہ کے اس انداز نے میرے ڈھیلے لڑکے میں دوبارہ سے جان پیدا کر دی اور وہ ایک بار پھر سے ہر کر کھڑا ہونے لگا۔تو میں نے بستر پر بدستور اپنی آنکھیں بند کیے لیٹی اپنی امی پر نظر دوڑائی اور اس کے ساتھ ہی مستی میں آ کر اپنی بہن مادیہ کے کان میں سرگوشی کی “میں چاہتا ہوں کہ تم میرے لڑکے سے چدی ہوئی ہماری امی کی اس پھدی کو میرے سامنے اپنی زبان سے چاٹو میری بہن”۔میری بات سنتے ہی مادیہ نے ایک لمحے کے لیے میری طرف دیکھا۔ اور پھر دوسرے ہی لمحے امی کی کھلی ٹانگوں کے درمیان لیٹ کر اپنی دونوں انگلیوں سے امی کی چوت کے لب کھول دیے۔امی کی چوت کے لبوں کو اپنے ہاتھ سے کھول کر مادیہ نے اپنا منہ آگے بڑھایا اور امی کی پنک چوت میں بہتے امی کی چوت کے نمکین پانی کو اپنی نوکیلی زبان سے چاٹ لیا۔“اوہhhhh، اُفففف، ہائے، یہ کیا کر رہی ہو تم میرے ساتھ مادیہ” رات کی تاریکی میں اپنے ہی سگے بیٹے کے لڑکے سے چدوائے کے بعد اب اپنی پانی چھوڑتی چوت پر اپنی ہی سگی بیٹی کے گرم لبوں کو محسوس کر امی نے ایک دم اپنی بند آنکھیں کھولیں اور مزے سے سسکار کر مادیہ سے کہا۔“ہائے راحیل بھائی سے چدوا کر آپ ان کے لڑکے کا مزہ تو چکھ ہی چکی ہیں، اب آپ اپنی بیٹی کو بھی تو موقع دیں، کہ وہ بھی آپ کی چوت کو اپنے منہ اور زبان سے پیار کر کے آپ سے اپنے پیار کا اظہار کر سکے امی جان” امی کی سسکی سنتے ہی مادیہ نے امی کی چوت سے اپنا منہ نکال کر انہیں جواب دیا۔اس کے ساتھ ہی مادیہ نے اپنے ہاتھ کی تین انگلیاں ایک ساتھ امی کی چوت میں ڈالیں اور پھر امی کی چوت کے دانے کو اپنے منہ میں پورا بھر لیا۔“اوہhhhh تم دونوں اپنے لڑکے اور زبان کے مزے دے دے کر مجھے تو پاگل ہی کر دو گے، آہhh چاٹو اور چاٹو مmm بہت مزہ آ رہا ہے مجھے” اپنی چوت میں اندر باہر ہوتی اپنی سگی بیٹی کی انگلیوں کے ساتھ ساتھ اپنی چوت کے چولے پر چلتی مادیہ کی گرم زبان نے امی کے جسم میں آگ لگا دی۔ تو مزے سے بے حال ہو کر امی پاگلوں کی طرح بڑبڑانے لگیں۔اپنی نظروں کے سامنے اپنی بہن کو اپنی ہی سگی امی کی پیاسی چوت کو یوں دیوانہ وار چاٹتے دیکھ کر میرا لڑکا بھی جوش میں پاگل ہونے لگا۔تو میں امی کے پہلو سے اٹھ کر بستر پر لیٹی اپنی امی کے سر کے پیچھے آیا۔ اور پھر پیچھے سے امی کے سر کے اوپر چڑھ کر اپنے ڈھیلے لڑکے کو امی کے کھلے لبوں پر پھیرتے ہوئے سسکارا “میرے لڑکے کو اپنے منہ میں لے کر اسے چوسو اور چود کر اسے اپنی بیٹی کی چوت کے لیے اچھی طرح سے تیار کریں امی جان”۔میری بات سنتے ہی بستر پر لیٹی امی نے میری آنکھوں میں دیکھا اور پھر اپنا منہ کھول کر اپنی چوت کے پانی سے بھرے میرے لڑکے کا ٹوپا اپنے منہ میں بھر لیا۔“اُففف آپ کی چوت تو چوت، آپ کے تو منہ میں بھی بہت گرمی ہے امی جان” امی کے گرم منہ میں اپنے لڑکے کا ٹوپا جاتے ہی مجھے جو مزہ ملا وہ میں لفظوں میں بیان کرنے سے قاصر تھا۔“ہائے تمہارا لورا بھی تو کتنا گرم اور سخت ہے میرے بیٹے” میرے لڑکے کے ٹوپے کو منہ میں بھراتے ہی امی کو بھی جوش آیا۔ اور اسی جوش میں انہوں نے میرے لڑکے کو دیوانہ وار چوستے ہوئے میرے لڑکے پر لگے اپنی ہی چوت کو پانی کو اپنے حلق میں اتارنا شروع کر دیا۔“ہائے لگتا ہے آپ ابو کو کافی چستی رہی ہیں، اسی لیے تو لڑکے چوسائی میں آپ کو بہت ہی مہارت ہے امی” امی کے چوپے کے مزے سے پاگل ہوتے ہوئے میں نے پوچھا۔“تمہارے ابو نے تو مجھ سے کئی دفعہ لڑکے چوسنے کی فرمائش کی تھی، مگر میں نے اس کام کو گندا سمجھتے ہوئے ہمیشہ ہی انکار کر دیا، لیکن آج تمہارے اس شاندار لڑکے سے چودنے کے بعد مجھے اپنے بیٹے کے آگے انکار کی ہمت نہیں ہوئی راحیل”۔“ہائے میرا لڑکا کتنا خوش نصیب ہے جسے اس کی اپنی سگی امی کے منہ نے اتنی عزت بخشی ہے” اپنی امی کی یہ بات سن کر میں مزید جوش میں آ گیا۔اور اس جوش میں اپنی امی کے چہرے کو اپنے ہاتھ سے پکڑتے ہوئے اپنی امی کے منہ کو اس طرح چودنے لگا جیسے وہ امی کا منہ نہیں بلکہ ان کی گرم چوت ہو۔اب کمرے میں حالت یہ تھی کہ امی کی ٹانگوں کے درمیان لیٹ کر مادیہ اپنے منہ کے ذریعے اپنی امی کی چوت کا رس پی رہی تھی۔جبکہ میں امی کے پیچھے سے ان کے سر پر چڑھ کر اپنی امی کے منہ میں اپنا لڑکا پیلتے ہوئے اپنی امی کے تنگ اور گرم منہ کے مزے لے رہا تھا۔اور اپنی چوت پر چلتی اپنی ہی سگی بیٹی کی گرم زبان کے مزے سے بے حال ہو کر امی میرے لڑکے کو کسی لالی پاپ کی طرح چوستے ہوئے خود بھی مزے لے رہی تھیں۔جبکہ اس دوران “اوہ ہائے اُففف” قسم کی گرم سسکیاں ہم تینوں کے منہ سے پھوٹ پھوٹ کر کمرے کے ماحول کو مزید رنگین بنا رہی تھیں۔تھوڑی دیر اپنی امی سے لڑکے چوسوانے کے بعد میرا لڑکا دوبارہ سے اپنی پوری سختی میں آ گیا۔ تو میں نے اپنے لڑکے کو اپنی بہن کی چوت میں ڈالنے کا ارادہ کر لیا۔یہ ارادہ کرتے ہی میں نے امی کے منہ سے اپنے لڑکے نکالا۔ اور اپنے بیڈ کی سائیڈ ٹیبل میں پڑا ہوا کنڈوم کا ایک پیکٹ ہاتھ میں لے کر اسے کھولنے لگا۔“یہ کیا کر رہے ہو راحیل بیٹا” سائیڈ ٹیبل سے کنڈوم کو نکال کر مجھے اپنے ہاتھ میں پکڑتے ہوئے دیکھ کر امی نے سوال کیا۔“ہائے آپ کی چوت کو چودنے کے بعد اب آپ کی بیٹی کی چوت کی آگ کو ٹھنڈا کرنے کا ارادہ ہے، اور مادیہ کی چوت میں لڑکا ڈالنے سے پہلے کنڈوم اس لیے لگا رہا ہوں، تاکہ مادیہ پرگننٹ نہ ہو جائے کہیں امی” میں نے کنڈوم کے پیکٹ کو کھولتے ہوئے امی کی بات کا جواب دیا۔“اوہ میں گھر کے صحن میں اپنے پوتے پوتیوں کو کھیلتا ہوا دیکھنا چاہتی ہوں، اس لیے آج سے تمہارا کنڈوم استعمال کرنا بند میرے بیٹے” یہ بات کہتے ہوئے امی نے میرے ہاتھ سے کنڈوم چھین کر فرش پر پھینک دیا۔“ہائے امی آپ واقعی ہی چاہتی ہیں کہ مادیہ میرے بچوں کی ماں بنے” اپنی امی کی بات کا مطلب سمجھتے ہوئے میرے لڑکے میں بجلی کی ایک لہر سی دوڑ گئی۔ اور میرے لڑکا شیش ناگ کی طرح اپنا پھن پھیلا کر کھڑا ہو گیا۔“مادیہ کو چود کر تم نے اپنی بہن کی چوت کا قبضہ تو پہلے ہی حاصل کر لیا ہے، مگر آج سے میں نے تمہاری بہن کی چوت کی رجسٹری بھی تمہارے لڑکے کا نام لکھ دی ہے، اس لیے اب اپنی بہن کی کوکھ میں اپنے لڑکے کا بیج ڈال کر اسے اپنے بچوں کی ماں بنا دو بیٹا” میری بات کا جواب دیتے ہوئے امی نے اپنی گاند کو بستر سے اٹھا کر اپنی چوت کو گرم جوشی کے ساتھ مادیہ کے منہ پر مارا اور مزے سے سسکار اٹھیں۔امی کی بات سنتے ہی میں تیزی مادیہ کے پیچھے آیا اور گوری بنی اپنی بہن کی خوبصورت گاند کے درمیان میں اپنا لورا رگڑنے لگا۔“اوہhhhh امی کی باتوں اور آپ کے لڑکے نے میری پھدی میں آگ لگا دی ہے، اس لیے اب جلد سی میری چوت میں اپنا لڑکا ڈال کر امی کی خواہش کو پورا کر دو بھائی” اپنی گاند کی پھریوں میں میرے لڑکے کی گرمی کو محسوس کر کے میری بہن مادیہ سسکاری۔“اُففف میرا لورا بھی تمہاری چوت سے ملاپ کے لیے بے چین ہو رہا ہے، اس لیے اب میرے لڑکے کے استقبال کے لیے اپنی چوت کو تیار کر لو میری جان” اپنی بہن کی بات سنتے ہی میں نے جھٹکا دیا اور امی کے تھوک سے بھرے ہوئے اپنے لڑکے کو گوری بنی اپنی بہن کی چوت میں پیچھے سے گھسا دیا۔“اوہhhhh بھائی کا لورا تو پہلے بہت اچھا تھا، مگر بھائی کے لڑکے کو اپنے منہ سے چوسا لگا کر اسے مزید سخت کر دیا ہے، اور اس نوازش کے لیے میری چوت آپ کی بہت ہی شکر گزار ہے امی” بغیر کنڈوم کے میرا ننگا لورا جب اپنی بہن کی چوت میں اترا۔تو میرے گرم لڑکے کو اپنی چوت کی دیواروں کے درمیان سے گزر کر اپنی بچہ دانی کے منہ سے ٹکراتے ہوئے محسوس کر کے میری بہن کے منہ سے سسکی نکل گئی۔اپنی بہن کی چوت میں اپنا پورا لڑکا ڈالتے ہی میں جوش سے زور دار جھٹکے مارتے ہوئے اپنی بہن کی چوت کو چودنے لگا۔“اُففف اپنی سگی امی کی چوت کو چاٹتے ہوئے، اپنے ہی سگے بھائی کے سخت اور جوان لڑکے سے چدوائے کا موقع کسی قسمت والی بہن کو ہی نصیب ہوتا ہے، اس لیے آج میری چوت کو چود چود کر مجھے اپنے بچے کی ماں بنا دو بھائی” میرے لڑکے کو اپنی چوت کی گہرائی میں تیزی کے ساتھ آتے جاتے محسوس کر کے مادیہ مزے سے چلا اٹھی۔ایک تو مادیہ کی باہر کو نکلی ہوئی دلکش گاند کا نظارہ اور اوپر سے اس کی گرم باتوں نے مجھے پاگل کر دیا۔اس لیے جوش میں آتے ہوئے میں نہ صرف اور تیزی کے ساتھ اپنی بہن کی چودائی میں مصروف ہو گیا۔بلکہ ساتھ ہی ساتھ میں نے مزے سے پاگل ہوتے ہوئے مادیہ کے خوبصورت چوتروں پر چانٹیں مارنا بھی شروع کر دی۔اب میں اپنی بہن کی چوت کو زور سے چودتے ہوئے اپنے لڑکے کے ہر دھکے پر طاقت کے ساتھ مادیہ کے چوتروں پر تھپڑ بھی مار رہا تھا۔جس کی وجہ سے میرے ہر تھپڑ پر مزے اور تکلیف سے تڑپ کر مادیہ کے منہ سے چیخ نکل جاتی۔ اور مزے سے پاگل ہوتے ہوئے وہ آگے سے اپنے منہ کو اپنی امی کی چوت میں زور سے گھسا دیتی۔جس کی وجہ سے امی کو مزید مزہ آتا اور وہ بھی مستی میں سسکیاں لینے لگتی تھیں۔کیونکہ مادیہ کے چوتر کافی بھری تھے۔ اس لیے ان پر تھپڑ مارنے کی وجہ سے کافی تیز آواز پیدا ہو رہی تھی۔اپنی بہن کے گداز چوتروں پر بار بار تھپڑ مارنے کی وجہ سے چند سیکنڈز میں ہی مادیہ کے گورے گورے چوتر سوج کر لال ہو گئے۔“اُففف کیا تم اکیلے ہی امی کی چوت کا مزہ لیتی رہو گی، یا مجھے بھی اپنی امی کی پھدی کا سواد چکھنے کا موقع دو گی مادیہ” اپنی بہن کی چوت میں پیچھے سے زور دار گھسے مارتے مارتے میں ایک دم آگے کو جھکا۔ اور امی کی چوت سے چسپاں مادیہ کے منہ کو ہٹا کر اپنا منہ اپنی امی کی چوت پر رکھ دیا۔اور پھر اپنی بہن کی چوت میں اپنے لڑکے کو پیلنے کے ساتھ ساتھ اپنے ہونٹوں اور زبان سے اپنی امی کا موٹا پھدا بھی کھانے میں مصروف ہو گیا۔“اُففف اپنی بیوی کی چوت کو چودنے کے ساتھ ساتھ اپنی ساس کی پھدی کو اپنی گرم زبان سے مزہ دینے کے تمہارے اس انداز نے یہ ثابت کر دیا ہے، کہ تم واقعی ہی میرے گھر داماد بننے کے قابل ہو راحیل بیٹا” مادیہ سے اپنی چوت چٹائی کے بعد اپنی پھدی پر میری گرم زبان محسوس کرتے ہی امی نے جوش سے اپنی گاند اٹھا کر میرے منہ پر رگڑی اور مزے سے چیخ پڑیں۔اپنی بہن کو چودتے ہوئے مجھے اب کافی وقت ہو چکا تھا۔ جس کی وجہ سے میں اب فارغ ہونے کے بہت قریب پہنچ چکا تھا۔اس لیے اپنی بہن کی چوت میں اپنے لڑکے کو ڈالتے ہوئے میں نے اپنی تمام طاقت سے ایک آخری دھکا مار کر اپنے لڑکے کا آخری انچ بھی جار تک مادیہ کی چوت میں اتارا۔تو اس کے ساتھ ہی میرے لڑکے نے میری بہن کی چوت میں اپنا پانی گرا کر مادیہ کی پھدی میں کم کا سیلاب بنانا شروع کر دیا۔میرے لڑکے کے گرم مادے کو اپنی چوت کی گہرائیوں میں گرتے ہوئے محسوس کر کے مادیہ کے جسم کو ایک جھٹکا لگا۔ اور اپنے منہ کو امی کی پھدی پر زور سے دباتے ہوئے میری بہن چلا اٹھی “اوہhhhh آپ کے ساتھ ساتھ میں بھی فارغ ہو گئی ہوں بھائی”۔ادھر میرے لڑکے اور مادیہ کی چوت نے اپنا اپنا پانی خالی کیا۔ تو امی کی چوت پر لگنے مادیہ کے منہ کی زور دار رگڑ نے اپنا کام دکھا دیا اور ہمارے ساتھ ساتھ امی کی پھدی بھی اپنا پانی چھوڑنے لگی۔اب حالت یہ تھی کہ گوری بنی مادیہ کی چوت کو پیچھے سے چودتے ہوئے میں اپنی بہن کی کوکھ میں اپنے لڑکے سے ٹھیک وائٹ کم کی پچکاریاں نکالتے ہوئے اپنی بہن مادیہ کی چوت کو فل کر رہا تھا۔جب امی کی ٹانگوں کے درمیان بستر پر لیٹ کر مادیہ نہ صرف اپنی چوت کا پانی بھی چھوڑ رہی تھی۔بلکہ ساتھ ہی ساتھ وہ اپنی امی کی چوت سے بہنے والے امی کی پھدی کے نمکین لاوے کو سک کرتے اپنے حلق میں اتار رہی تھی۔جب کم کا آخری ڈراپ بھی میرے لڑکے سے نکل کر مادیہ کی سیکسی چوت کی گہرائیوں میں اتر گیا۔ تو میں نڈھال ہو کر امی اور مادیہ کے برابر میں ہی بستر پر لیٹ گیا۔“میں چاہتی ہوں کہ اب تم جلد از جلد ساری زمین جائیداد کو بیچ دو راحیل” اپنی بہن کی چوت سے اپنا لڑکا نکال کر میں جوں ہی بستر پر کمر کے بل لیٹا۔ تو امی نے اپنی بکھری سانسوں کو سنبھالتے ہوئے مجھے کہا۔“ساری جائیداد بیچ دوں، مگر کیوں امی جی” مادیہ کی زور دار چودائی کی وجہ سے اپنے چہرے پر آنے والے پسینے کو ہاتھ سے پوچھتے ہوئے میں امی سے سوال کیا۔“وہ اس لیے کہ اپنے ابو کی وفات کے بعد تم نے نہ صرف اپنے باپ کی چوری ہوئی زمین کو صحیح طریقے سے سنبھالا ہے، بلکہ اپنی بہن اور اپنی ماں کی چوت کو چود کر، یہ ثابت بھی کر دیا ہے کہ اپنے ابو کی ساری جائیداد کے اصل وارث تم ہی ہو، اسی لیے اب میں یہ چاہتی ہوں کہ تم اپنی ساری جائیداد بیچ کر ہم دونوں ماں بیٹی کو کسی دوسرے شہر لے جاؤ، اور پھر میرا گھر داماد بن کر میری اور میری بیٹی کی چوت کو اپنے لڑکے سے چود کر ہم دونوں ماں بیٹی کو مزے دو” میری بات کا تفصیل سے جواب دیتے ہوئے امی کے چہرے پر ایک مسکراہٹ پھیل گئی۔“اوہhhhh آپ نے تو میرے دل کی بات کہہ دی امی جان” اپنی امی کی یہ بات سنتے ہی مجھے جوش آیا۔پھر میں بستر سے ایک دم اٹھا اور اپنی امی کو اپنی بازوؤں میں لینے کے ساتھ ہی ان کے گداز لبوں کو اپنے منہ میں بھر کر مزے سے چوسنے لگا۔“اُفففف آپ کی یہ بات سن کر میری چوت پھر سے پانی پانی ہونے لگی ہے، کہ اب ہم دونوں ماں بیٹی اپنے ہی بھائی اور بیٹے کی بیویاں بن کر ان کے ساتھ اپنی زندگی بسر کریں گی امی جان” امی کی بات سن کر مادیہ بھی بستر سے اٹھی اور امی کے موٹے ممی پر اپنا منہ رکھ کر اپنی امی کے لمبے نپل کو مزے چوستے ہوئے بولی۔اس رات کے ایک مہینے کے بعد ہی ہم لوگ اپنا سب کچھ بیچ کر گاؤں سے کراچی شفٹ ہو گئے۔ جہاں میں اور مادیہ میاں بیوی بن کر ایک ساتھ رہنے لگے۔میری بہن مادیہ میری بیوی بننے کے بعد بہت ہی خوش تھی۔ اور اس خوشی میں اپنی ٹانگوں کو کھولے بستر پر پڑی رہتی اور دن رات دل کھول کر مجھ سے اپنی پھدی مرواتی۔اپنی بہن سے کی جانے والی اس چودا کا صلہ میری بہن مادیہ نے مجھے ایک بہت ہی پیاری سی بچی کی شکل میں کراچی آنے کے تقریباً 8 مہینے بعد دے دیا۔اب میں ہر روز رات کو اپنی امی اور بہن کی چودائی ایک ساتھ ایک ہی بستر پر کر کے نہ صرف اپنی امی اور بہن کی پھدیوں کو اپنے لڑکے سے ٹھنڈا کرتا ہوں۔بلکہ ان دونوں کی چوتوں کو بھی ایک ساتھ سک کر کے اپنے منہ سے اپنی امی اور بہن کی چوتوں کو مزہ بھی دیتے ہوئے اپنے آپ سے یہی کہتا رہتا ہوں۔ “واہhhhh میری قسمت” ۔
میری قسمت
Reviewed by Urdu Story
on
April 11, 2026
Rating: 5
Reviewed by Urdu Story
on
April 11, 2026
Rating: 5
Subscribe to:
Post Comments
(
Atom
)




.jpg)
No comments: